مسجد میں اپنے لیے کوئی جگہ مخصوص کر لینا
آداب و احکام مسجد کے سلسلہ میں ہی ایک اور بات بھی ذکر کرتے جائیں کہ مسجد کے بعض حاضر باش لوگ مسجد میں اپنے لیے ایک جگہ یا گوشہ مخصوص کر لیتے ہیں. مثلاً امام کے پیچھے منبر کے بازو میں، کسی اگلے یا پچھلے اور دائیں یا بائیں کونے میں۔ اور اس جگہ کے سوا کسی دوسری جگہ انہیں عبادت یا قیام اچھا نہیں لگتا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی دوسرا آدمی لاعلمی کی وجہ سے اس مخصوص جگہ پر بیٹھ جائے تو وہ اسے اٹھنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اور اگر کہیں کوئی دوسرا پاؤں جما چکا ہو، اور معمولی لے دے پر بھی نہ اٹھے تو یہ صاحب لا حول ولا قوة الا بالله پڑھتے۔ اور بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے کسی دوسری جگہ کی طرف اس طرح جلے کٹے ہوئے رخ کرتے ہیں کہ دوسروں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی حادثہ رونما ہو گیا ہے۔
اور بعض جاہل تو اپنی جگہ چھیننے والے سے برملا کہہ دیتے ہیں کہ میں یہاں اتنے سال سے بیٹھ رہا ہوں، تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ اور شور مچا کر اسے وہاں سے اٹھنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ اور دلوں کی باتیں تو اللہ ہی جانتا ہے۔ البتہ ان کے اس فعل سے جو ظاہر ہوتا ہے، وہ یہ کہ ان کی اس جگہ سے انسیت و محبت جہالت کے نتیجہ میں اور ریاکاری کے لیے ہوتی ہے کہ لوگ سمجھنے لگیں کہ یہ فلاں شخص کی جگہ ہے۔ اور فلاں تو صف اول کا نمازی ہے۔ اور یہ کہ فلاں شخص تو مسجد کے فلاں کونے میں ہی پڑا رہتا ہے۔
ایسے ریاکار عابدوں اور زاہدوں کو امام غزالی رحمہ اللہ نے” احیاء علوم الدین“ میں اور علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے” اغاثة اللهفان“ میں خوب لیا ہے۔ اور اس گوشہ نشینی کے ساتھ جو لوگ کاروبار جہاں کو ترک کر کے زہد و تقویٰ کا کچھ زیادہ ہی دم بھرنے لگتے ہیں۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے انہیں” باب المغرورین“ میں قریب نفس اور فریب شیطان میں مبتلا قرار دیا ہے۔ جس کی تفصیل کتاب ”احیاء علوم الدین“ کے باب المغرورین میں دیکھی جا سکتی ہے۔
نیز دیکھیے اصلاح المساجد ص 210، 211۔ اور اسی طرح علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی اغاثة اللهفان جلد اول ص 121، طبع دار المعرفہ بیروت پر ایسے لوگوں کی گوشہ نشینی کو شیطانی جال میں پھنسنے شمار کیا ہے۔ اور اسی طرح اصلاح الساجد ص 208/209 بھی ملاحظہ فرمائیں۔
ان امور کی تفصیل تو ان دونوں کتابوں میں ہی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ دونوں کتابیں اور امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کی تلبیس ابلیس کے ایسے مباحث انتہائی عبرت انگیز ہیں۔ اور یہ کتابیں اردو میں بھی ترجمہ ہو چکی ہیں۔ لہذا اس موضوع کے سلسلہ میں ان کتابوں کا مطالعہ مفید مطلب ہے۔ اور کوئی ترک دنیا کر کے مسجد میں گوشہ نشین ہو یا محض نماز کے وقت ہی آئے اور اپنی جگہ مخصوص کیے رکھے۔ ہر شکل میں یہ ناجائز ہے۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ایک جگہ مخصوص کر لینے سے منع فرمایا ہے، اور اسے اونٹ کی عادت قرار دیا ہے۔ جیسا کہ سنن ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد اور مستدرک حاکم کی معروف حدیث ہے۔ جس میں حضرت عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
نهى النبى صلى الله عليه وسلم عن نقرة الغراب وأن يوطن رجل فى المسجد مكانا كما يوطن البعير
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدوں کو کوے کے ٹھونگے مارنے کی طرح ادا کرنے سے منع فرمایا۔ اور اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص مسجد میں کسی جگہ کو اپنے لیے مخصوص کر لے۔ جس طرح کہ اونٹ باڑے میں اپنے لیے جگہ مخصوص کر لیتا ہے۔
الفتح الربانی 91/4، 92 – فقہ السنہ 271/1 – صحیح ابی داؤد 768 – مسند احمد 468/3 – الحاکم 229/1 – الصحیحہ 1168
اس حدیث کے پیش نظر صحیح طرز عمل یہ ہے کہ جو شخص مسجد میں داخل ہو، جہاں جگہ ملے دو رکعتیں پڑھے اور بیٹھ جائے۔ اپنی مخصوص جگہ کی تلاش میں لوگوں کو نہ پھلانگے، جو کہ ایک دوسرا ممنوع فعل ہے۔ اور نہ ہی نمازیوں کے آگے سے گزرے جو کہ تیسرا گناہ ہے۔ جیسا کہ احادیث سے پتہ چلتا ہے۔ جو کہ معروف ہیں۔ جیسا کہ ابو داؤد، نسائی، ابن حبان، مستدرک حاکم اور بیہقی میں حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جمعہ کے دن ایک آدمی دوسروں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے گزر رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراض ہو کر اسے فرمایا تھا:
اجلس فقد آذيت وآنيت
”بیٹھ جاؤ، تم نے دوسروں کو تکلیف دی ہے اور خود دیر سے آئے ہو۔“
صحیح ابی داؤد 207/1، 208 – صحیح الجامع 105/1/1 – صحیح نسائی 1326 – موارد الظمان 572
اور اسی طرح کی ایک حدیث سنن ابن ماجہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
( اور یہاں اس بات کا بھی خیال رہے کہ پہلے آنے والے لوگ پہلی صف کو مکمل کریں۔ اور آگے جگہ چھوڑ کر پیچھے نہ بیٹھیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے صفوں کا نظام خراب ہوتا ہے۔ اور دوسروں کو لوگوں کے کندھے پھلانگ کر آگے آنے کا ناچار ارتکاب کرنا پڑتا ہے۔)
یہ تو ہوئی گردنیں پھلانگنے کی بات، جبکہ نمازی کے آگے سے گزرنے کی وعید اس حدیث میں ہے۔ جو صحیح بخاری و مسلم، سنن اربعہ اور موطا امام مالک میں حضرت ابو جہیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں ارشاد نبوی ہے:
لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه، لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه
”اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو اس کے گناہ کا پتہ چل جائے، تو وہ چالیس سال (برس) کھڑا ہے۔ لیکن اس کے آگے سے نہیں گزرے گا۔“
صحیح الجامع 8/5/3، بخاری حدیث 510 – مختصر 337 – صحیح ابی داؤد 649 – صحیح الترمذی 276 – صحیح نسائی حدیث 729 – سنن ابن ماجہ 945 – موطا امام مالک 34 – مجمع الزوائد 61/2 – وقال رواه ایضاً البزار و رجالہ رجال الصحیح
استثنائی صورتیں:
اور یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اگر کسی جگہ کوئی خاص فضیلت حاصل ہو تو وہاں پر نماز کا اہتمام کرنا اس سے مستقل ہے۔ مثلاً ”روضة من ریاض الجنة“ ہے جو کہ مسجد نبوی میں ہے۔ اس روضہ شریفہ یا روضہ الجنتہ میں نماز کا اہتمام صحیح و افضل ہے۔ کیونکہ اس مقام کی ایک فضیلت احادیث میں ثابت ہے۔ جس کی تفصیل ہماری کتاب سوئے حرم ص 337 پر دیکھی جا سکتی ہے۔
البتہ اس جگہ کی فضیلات ترمذی میں حضرت علی و ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور بخاری و مسلم، ترمذی و مسند احمد، موطا امام مالک اور السنة لابی عاصم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور بخاری و مسلم، نسائی و مسند احمد میں حضرت عبد اللہ بن زید المازنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں ارشاد نبوی ہے:
ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة
”میرے گھر اور میرے منبر کا درمیانی قطعہ ارضی جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔“
ملاحظہ ہو سوئے حرم ص 337، تخریج نمبر 370
ایسے ہی صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ مصحف کے قریب والے ستون کے پاس جگہ ڈھونڈ کر وہاں نماز پڑھا کرتے تھے۔ اور جب ان سے اس کا سبب پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:
رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَحَرَّى الصَّلاَةَ عِنْدَهَا
”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ کو تلاش کر کے یہاں نماز پڑھا کرتے تھے۔“
مسلم مع نووی 226/4/2
امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ اگر کسی جگہ کوئی خاص فضیلت حاصل ہو تو وہاں نماز پڑھنے پر ہمیشگی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
شرح نووی للمسلم 226/4/2
ظاہر ہے کہ جن عام مساجد کے سلسلہ میں ہم بات کر رہے ہیں۔ انہیں ایسی کوئی مخصوص فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ ہاں اگر امامت، تدریس، وعظ، افتاء اور حصول علم کی غرض سے مخصوص جگہ پر بیٹھنا ہو تو یہ بھی ناجائز نہیں، بلکہ مستحب ہے۔ اور ایسی ضرورت پر جگہ مخصوص کرنے پر عدم کراہت کے بارے میں علماء سلف کا اتفاق ہے۔ جیسا کہ امام نووی نے قاضی عیاض رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے۔
شرح نووی للمسلم 226/4/2
یہ امور و افعال یعنی مساجد میں چیخ و چنگاڑ کرنا، نعرے مارنا، مسجد کی بعض جگہوں کو مخصوص کر لینا اور اپنی اجارہ داری ظاہر کرنا، جو کہ ممنوع ہیں۔ ان عرب ممالک کی مساجد میں تو دیکھنے میں نہیں آتے۔ اور اگر کہیں شاذ و نادر مقامات ہوں بھی تو اولاً النادر كالمعدوم والی بات ہے کہ شاذ و نادر چیز کا حکم نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ جن شاذ و نادر جگہوں پر ایسے بعض ناجائز قسم کے افعال دیکھنے یا سننے میں آتے ہیں، تو وہ وہی جگہیں ہیں جہاں صرف برصغیر کے لوگ ہی نمازی ہوتے ہیں۔ اور مقامی لوگوں میں سے اول تو وہاں ہوتا ہی کوئی نہیں۔ اور اگر کوئی اکا دکا ہو تو بھی نہ ہونے کے برابر۔ لہذا پڑھے لکھے طبقہ کے سمجھدار لوگوں کو اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ اگر یہ امور جائز و روا ہوتے تو یہاں بھی ہر جگہ ہوتے۔ اور جو ہر جگہ نہیں تو پھر ضرور دال میں کچھ کالا ہے، لہذا ان سے بچنا چاہیے۔
اور برصغیر کے ممالک کی مساجد میں پائے جانے والے ایسے امور کا ذکر آیا ہی ہے، تو لگے ہاتھوں دو ایک اور چیزیں بھی ذکر کر دیں۔ جو پہلے امور کی طرح ہی یہاں کی مساجد میں تو ہرگز کہیں نہیں پائے جاتے۔ اور ہم انہیں محض اس لیے ذکر کر رہے ہیں کہ ہمارے پڑھنے والوں کی غالب اکثریت بھی برصغیر سے ہی تعلق رکھنے والے لوگوں کی ہے۔