مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مسجد میں اندھیرے میں بلند آواز ذکر کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 01 ص 492

سوال

بعض لوگ ہمارے محلہ کی مسجد میں نماز مغرب کے بعد اکٹھے بیٹھ کر بتیاں (روشنی) بجھا کر بلند آواز سے ذکر
اللہ ہو
وغیرہ مخصوص طریقہ سے کرتے ہیں یعنی ذکر کے ساتھ جھولتے ہیں اور آخر میں ٹکیاں وغیرہ بھی تقسیم کرتے ہیں ؟
عصمت خاں چھچھر والی گوجرانوالہ 3 جولائی 1986

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مذکور بالا سوال میں بیان کیے ہوئے طریقہ وکیفیت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا نہ قرآن مجید سے ثابت ہے اور نہ ہی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی سنت وحدیث سے لہٰذا اس طریقہ وکیفیت کے ساتھ ذکر کرنا درست نہیں۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو ہمارے اس امر میں ایسی چیز نکالے جو اس سے نہ ہو تو وہ ردّ ہے۔

صحیح مسلم کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا امر نہ ہو تو وہ ردّ ہے۔

صحیح بخاری ص ۳۷۱ ج۱،
صحیح مسلم ص۷۷ ج۲،
[اعراف ۲۰۵ پ۹]،
[ابوداؤد، المجلد الاوّل، کتاب الصلوٰۃ، باب التسبیح بالحصی]

واللہ اعلم

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔