مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مسجد حرام میں صف بندی: مرد، عورت اور بچوں کے لیے شرعی رہنمائی

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ ارکان اسلام

مسجد حرام میں مردوں، عورتوں اور بچوں کی صف بندی کے متعلق وضاحت

سوال:

مسجد حرام میں فرض نماز کے دوران بعض افراد کو عورتوں کی صفوں کے پیچھے نماز پڑھتے دیکھا گیا ہے۔ ایسی صورت میں کیا ان کی نماز درست ہے؟ اور کیا ان کے اس عمل کی کوئی شرعی توجیہ موجود ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اہل علم نے اس معاملے میں واضح کیا ہے کہ:

◈ اگر مرد عورتوں کے پیچھے نماز ادا کریں تو نماز ادا تو ہو جاتی ہے، یعنی شریعت نے اس عمل کو کلیتاً باطل قرار نہیں دیا۔
◈ تاہم، یہ طریقہ سنت کے خلاف ہے کیونکہ سنت یہ ہے کہ عورتیں مردوں کے پیچھے کھڑی ہوں، نہ کہ مرد عورتوں کے پیچھے۔

اس عمل سے اجتناب کی تاکید:

◈ اگرچہ فقہاء نے عورتوں کے پیچھے مردوں کے نماز پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے، لیکن:
اس سے حتی الامکان بچنا چاہیے۔
یہ طریقہ فتنے کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے مردوں کو ایسی صف بندی سے پرہیز کرنا چاہیے۔
نمازیوں کو چاہیے کہ سنت طریقہ اپنائیں تاکہ مرد و عورت دونوں فتنہ سے محفوظ رہیں۔

عورتوں کے لیے بھی ہدایت:

◈ عورتوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسی جگہ پر نماز ادا نہ کریں جو مردوں کے بہت قریب ہو، تاکہ پردگی اور عبادت کا اصل مقصد قائم رہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔