مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مساقات يا مزارعت كي پيداوار ميں فریق کا شرط لگانا

فونٹ سائز:
تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

مساقات يا مزارعت كي پيداوار ميں ایک متعين جز کی شرط لگانا
مسابقات یا مزارعت میں کسی ایک فریق کے لیے بھی درست نہیں کہ وہ ایسے حصے کی شرط لگائے جس کی مقدار متعین ہو یا جگہ مخصوص ہو۔ یعنی یہ کہنا درست نہیں کہ میں تجھے مساقات کے لیے اپنی کھجوریں دیتا ہوں، لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے پھل میں سے ایک ٹن میرا ہوگا، باقی تمھارا، یا مزارعت میں اس طرح کہے: اس زمین کے بائیں جانب والے کھیت میرے ہوں گے اور دائیں جانب والے تیرے، یا یہ کہے: جو کے کھیت تمہارے اور گندم کے کھیت میرے، یا مساقات میں کہے: سکری کھجور کا پھل تمھارا، اور برحی کھجور کا پھل میرا، یا اس طرح کی کوئی بھی بات کرے، یہ تمام شرائط نا جائز ہیں، کیونکہ حصے کا دونوں فریقوں کے لیے معلوم اور مشترک ہونا ضروری ہے۔
[ابن عثيمين: نور على الدرب: 4/246]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔