مسافر کی نماز میں مقامی امام کی اقتداء کا مسئلہ
سوال:
اگر کوئی مسافر شخص کسی مقامی امام کے ساتھ نماز کی آخری دو رکعتوں میں شامل ہو جائے، تو:
◈ کیا وہ صرف اپنی قصر (دو رکعت) نماز ہی پڑھے گا؟
◈ یا چار رکعت والی نماز کی پہلی دو رکعتیں بعد میں پوری کرے گا؟
◈ اگر وہ صرف دو رکعت ہی پڑھے، تو کیا وہ امام کے ساتھ پہلی دو رکعتوں کے ساتھ اپنی قصر نماز ادا کر سکتا ہے، جبکہ امام چار رکعتیں مکمل کرے گا اور مسافر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دے گا؟
جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
امام شوکانی رحمہ اللہ نے نیل الاوطار میں مسند امام احمد کے حوالے سے
(جلد 3، صفحہ 205، باب اقتداء المقیم بالمسافر) درج ذیل حدیث ذکر کی ہے:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّه سُئِلَ مَا بَالُ الْمُسَافِرِ يُصَلِّیْ رَکْعَتَيْنِ اِذَا انْفَرَدَ وَاَرْبَعًا اِذَا ائْتَمَّ بِمُقِيْمٍ فَقَالَ تِلْکَ السُّنَّةُ۔ وَفِیْ لَفْظٍ اَنَّه قَالَ لَه مُوْسٰی بْنُ سَلَمَةَ اِنَّا اِذَا کُنَّا مَعَکُمْ صَلَّيْنَا اَرْبَعًا وَاِذَا رَجَعْنَا صَلَّيْنَا رَکْعَتَيْنِ ؟ فَقَالَ تِلْکَ سُنَّةُ اَبِیْ الْقَاسِمِﷺ۔ وَقَدْ اَوْرَدَ الْحَافِظُ هٰذَا الْحَدِيْثَ فِی التَّلْخِيْصِ وَلَمْ يَتَکَلَّمْ عَلَيْهِ وَقَالَ اِنَّ اَصْلَه فِی مُسْلِمٍ وَالنَّسَائِیْ بِلَفْظٍ قُلْتُ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ کَيْفَ اُصَلِّیْ اِذَا کُنْتُ بِمَکَّةَ اِذَا لَمْ اُصَلِّ مَعَ الْاِمَامِ ؟ قَالَ رَکْعَتَيْنِ سُنَّةُ اَبِی الْقَاسِمِ‘‘
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا کہ مسافر جب تنہا نماز پڑھتا ہے تو دو رکعتیں پڑھتا ہے، اور جب کسی مقامی امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہے تو چار رکعتیں پڑھتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: "یہ سنت ہے۔”
اور ایک روایت میں ہے کہ موسیٰ بن سلمہ نے ان سے کہا: "جب ہم آپ کے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعتیں پڑھتے ہیں، اور جب واپس جاتے ہیں تو دو رکعتیں پڑھتے ہیں؟” تو انہوں نے فرمایا: "یہ ابوالقاسم ﷺ کی سنت ہے۔”
اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کو تلخیص میں نقل کیا اور اس پر کلام نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کی اصل صحیح مسلم اور نسائی میں ہے، جہاں روایت میں ہے:
"میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب میں مکہ میں ہوں اور امام کے ساتھ نماز نہ پڑھوں تو کیسے نماز پڑھوں؟”
تو انہوں نے فرمایا: "دو رکعتیں، یہ ابوالقاسم ﷺ کی سنت ہے۔”
فقہی نتیجہ:
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:
◈ مقتدی امام کے پیچھے امام سے کم رکعتیں ادا نہیں کر سکتا، کیونکہ ایسا کرنا رسول اللہ ﷺ کی سنت کے خلاف ہے۔
◈ لہٰذا اگر کوئی مسافر کسی مقامی امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو، تو اسے امام کے ساتھ چار رکعت مکمل کرنی ہوں گی، چاہے وہ خود مسافر ہو۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب