مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مسافر کی جماعت کے ساتھ نماز کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 02

سوال

اگر کوئی مسافر کسی جگہ پڑاو ڈالے اور وہاں نماز کا وقت ہو جائے ظہر،عصر،مغرب یا عشاء اور وہ نماز کے شروع میں یعنی اللہ اکبر کہتے ہوئے ہی جماعت کے ساتھ مل جائے تو کیا وہ پوری نماز پڑھے گا یا دو رکعت کے بعد سلام پھیر کر صف سے نکل جائے گا۔؟اور اگر امام خود مسافرہی ہو تو کیا امام دو رکعت پڑھا کر سلام پھیر دے گا اورباقی مقتدی اپنی نماز مکمل کریں گے۔؟

الجواب

اگر کوئی مسافر شخص کسی مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہے تو اس کے لئیے امام کی مانند مکمل نماز پڑھنا ضروری ہے،دو رکعات پر سلام نہیں پھیرے گا،اگرچہ مسافر آخری دو رکعات میں ہی کیوں نہ ملا ہو،مسافر سلام کے بعد کھڑا ہو جائے گا اور باقی دو رکعات پوری کرے گا۔
اور اگر امام خود مسافر ہو تو امام دو رکعات پڑھا کر سلام پھیر دے گا ،جبکہ مقتدی اپنی باقی نماز مکمل کریں گے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔