مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مساجد میں عورتوں کے وضو ہونے کا حکم
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اسلام ایک مکمل اور جامع دین ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ دین مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿مَن عَمِلَ صـٰلِحًا مِن ذَكَرٍ أَو أُنثىٰ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَلَنُحيِيَنَّهُ حَيوٰةً طَيِّبَةً وَلَنَجزِيَنَّهُم أَجرَهُم بِأَحسَنِ ما كانوا يَعمَلونَ ﴿٩٧﴾﴾
"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انھیں ضرور بہ ضروردیں گے۔” [النحل:16۔97۔]
اسلام نے عورت کے معاملات کو خصوصی اہمیت دی ہے اور اسے عزت و تکریم کے اعلیٰ مقام پر فائز کیا ہے، بشرطیکہ وہ دینی ہدایات کو مضبوطی سے تھامے اور ان اوصاف کو اپنائے جو شریعت نے بیان کیے ہیں۔
عورت کا مسجد میں جانا اور اس کی شرائط
عورت کی دینی تربیت کے پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ اسے باجماعت نماز کی برکتوں اور مجالسِ ذکر میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے، تاہم اس کے ساتھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید بھی کی گئی ہے تاکہ وہ فتنوں سے محفوظ رہے اور اس کی عزت برقرار رہے۔
◈ اگر عورت مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو اسے منع کرنا درست نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لاَ تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ”
"اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو۔” [صحیح البخاری الجمعہ باب 13حدیث 900۔ومسند احمد 2/16۔36۔15۔]
ایک روایت میں ہے: ” لا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمْ الْمَسَاجِدَ وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ”
"تم عورتوں کو مساجد سے نہ روکو، البتہ ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں۔” [صحیح مسلم الصلاۃ باب ماجاء فی خروج النساء الی المسجد حدیث 565۔]
ایک اور روایت میں ہے: "لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلاَتٌ”
"وہ سادگی کے ساتھ نکلیں۔” [سنن ابی داؤد الصلاۃ باب ماجاء فی خروج النساء الی المسجد حدیث 565۔]
اسی طرح صحیحین میں وارد ہے:
"إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ "
"جب تمھاری عورتیں رات کے وقت مسجد میں جانے کی اجازت طلب کریں تو انھیں اجازت دے دو۔” [صحیح البخاری الاذان باب خروج النساء الی المساجد باللیل والغلس حدیث 865۔وصحیح مسلم الصلاۃ باب خروج النسالی المساجد حدیث 442۔]
✔ عورت کا شوہر سے اجازت لینا اس لیے ضروری ہے کہ گھر میں رہنا شوہر کا حق ہے، جبکہ مسجد جانا مباح ہے، اور مباح کے لیے واجب کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ اگر شوہر اجازت دے دے تو اس نے اپنا حق چھوڑ دیا۔
گھر میں نماز کی فضیلت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ "
"ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں۔” [سنن ابی داؤد الصلاۃ باب ماجاء فی خروج النساء الی المسجد حدیث 567۔]
اس سے مراد یہ ہے کہ عورت کا گھر میں نماز ادا کرنا مسجد میں ادا کرنے سے زیادہ افضل ہے، کیونکہ گھر میں وہ فتنوں سے زیادہ محفوظ رہتی ہے۔
اہلِ اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ عورت کی گھر میں نماز مسجد کی نماز سے بہتر ہے، کیونکہ اس میں سلامتی اور فتنے سے حفاظت ہے۔
زینت اور خوشبو کے ساتھ نکلنے کی ممانعت
عورت کو حکم ہے کہ وہ مسجد جاتے وقت سادگی اختیار کرے، زینت اور خوشبو سے پرہیز کرے، چمکدار لباس اور زیور کی نمائش نہ کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ”
"جو عورت خوشبو لگائے وہ عشاء کی نماز میں ہمارے ساتھ شامل نہ ہو۔” [صحیح مسلم الصلاۃ باب خروج النساء الی المساجد حدیث 444۔]
◈ ایسی صورت میں عورت کا گھر سے نکلنا حرام ہے اور شوہر پر لازم ہے کہ اسے روکے۔
اختلاط سے اجتناب
مسجد جاتے وقت عورت کو مردوں کے ہجوم سے الگ رہنا چاہیے۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اسلامی حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بازاروں اور مردوں کے اجتماعات میں مرد و زن کے اختلاط کو روکیں، کیونکہ یہ بڑے فتنے کا سبب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ”
"میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔” [صحیح البخاری النکاح باب مایتقی من شوم المراۃ حدیث 5096۔وصحیح مسلم الرقاق اکثر اھل الجنۃ الفقراء واکثر اھل النا النساء حدیث 2740۔]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:
"اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجودہ حالات دیکھ لیتے تو عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع فرما دیتے، جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کر دیا گیا تھا۔” [صحیح البخاری الاذان باب انتظار الناس قیام الامام العالم حدیث 869۔وصحیح مسلم الصلاۃ باب خروج النساء الی المساجد حدیث 445۔]
موجودہ دور کے فتنوں پر تنبیہ
آج بعض لوگ یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ عورت کو ہر میدان میں مرد کے شانہ بشانہ نکلنا چاہیے۔ درحقیقت یہ سوچ فتنے کی دعوت ہے اور عورت کی عزت و ناموس کے لیے خطرہ ہے۔
عورت اپنے گھر میں رہ کر عظیم خدمات انجام دیتی ہے:
① وہ بیوی ہے جو شوہر کے لیے سکون کا باعث ہے۔
② وہ ماں ہے جو اولاد کو جنم دیتی، دودھ پلاتی اور تربیت کرتی ہے۔
③ وہ گھر کے نظام کو درست انداز میں چلاتی ہے۔
اگر وہ یہ ذمہ داریاں چھوڑ دے تو معاشرہ اپنے ایک اہم ستون سے محروم ہو جائے گا اور اس کی بنیادیں کمزور ہو جائیں گی۔
مسلمان عورت کے نام نصیحت
اے مسلمان عورت! اپنے دین کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھام لے۔ ان گمراہ کن آوازوں سے متاثر نہ ہو جو تجھے اس عزت سے محروم کرنا چاہتی ہیں جو اسلام نے تجھے عطا کی ہے۔ اسلام کے علاوہ کسی اور نظام نے عورت کو ایسا مقام نہیں دیا۔
جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو اختیار کرے گا وہ ہرگز قبول نہ ہوگا اور آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے اعمال کی توفیق دے جن میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہو۔
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب