مساجد میں بلیاں چھوڑنے کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس الشیخ محمد منیر قمر کی کتاب احکام مساجد سے ماخوذ ہے۔

مساجد میں بلیاں چھوڑنا

اور یہ لوگ چاہے دیوانے ہی کیوں نہ ہوں، پھر بھی انسان تو ہوتے ہیں۔ حیرت تو ہمارے ان بھائیوں (لوگوں) پر ہے۔ جو مساجد میں موذی قسم کی بلیاں چھوڑ آتے ہیں یہ بعض علاقوں میں مشاہدہ میں آنے والی بات بھی ہے۔ اور بعض اہل علم نے بھی اپنی کتب میں یہ حیرت ناک بات لکھی ہے۔ چنانچہ ابن الحاج نے اپنی کتاب ”المدخل“ میں لکھا ہے کہ:
پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں یعنی مساجد کی تو حرمت و احترام کیا کرتے تھے۔ اور انہیں نامناسب اشیاء سے پاک و صاف رکھتے تھے۔ لیکن اب معاملہ مختلف ہے۔ موجودہ دور میں لوگ مسجدوں میں بلیوں کو جگہ دیتے ہیں۔ جن سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ مسجد میں گندگی پھیلتی ہے۔ اور مسجد میں بلیوں کے گندگی پھیلانے کی طرف توجہ دیے بغیر کسی کے گھر میں موذی قسم کی بلی ہو تو وہ سیدھا اسے مسجد میں چھوڑ آتا ہے۔
بحواله اصلاح المساجد ص 225
مجذوب و مجنون آدمی اور بلی یا کسی بھی جانور کو مسجد میں داخل کرنے کو امام نووی رحمہ اللہ کے حوالہ سے علامہ زرکشی رحمہ اللہ نے بھی مکروہ لکھا ہے۔
اعلام الساجد ص 312، 313
پاگل اور دیوانے چاہے کچھ لوگوں کے نزدیک ولی ہی کیوں نہ کہلاتے ہوں۔ وہ اور جانور مسجد کے تقدس و احترام کا پاس نہیں رکھ سکتے۔ لہذا متولیان مساجد کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں مساجد سے دور رکھیں۔ اور کسی کو اگر احترام آدمیت و انسانیت کا پاس کرنے کی توفیق ہو تو بے آسرا و بے سہارا دیوانوں کے لیے گاؤں یا شہر کے اہل محلہ کو ساتھ ملا کر انہیں یعنی دیوانوں کو کسی ہسپتال میں داخل کروایا جائے۔ جہاں ان کا علاج بھی ہو۔ اور لوگ ان کے شر سے اور مساجد ان کی غلاظت پھیلانے سے بھی محفوظ رہیں۔ وہ لوگ قابل رحم ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں۔ کہ انہیں مساجد میں چھوڑ دیا جائے۔ یہ فعل تقدس و احترام مسجد کے سراسر منافی ہے۔ اور یہی معاملہ بلیوں کا بھی ہے۔
اور یہاں ہم ایک بات کی وضاحت کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ مجذوبوں، دیوانوں اور بلیوں وغیرہ کو مساجد سے دور رکھنا محض اس لیے ہے کہ یہ گندگی کا باعث بنتے ہیں۔ اور یہ بات تقدس و احترام مسجد کے منافی ہے۔ اور اس سلسلہ میں بعض احادیث بھی ہیں۔ لیکن وہ ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابل استدلال ہیں۔ جیسا کہ بعض احادیث مساجد میں نفاذ حدود کے سلسلہ میں ذکر کی جا چکی ہیں۔ مثلاً حضرت ابو الدرداء، حضرت واثلہ بن اسقع اور حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہم سے مرفوعاً طبرانی کبیر، الخلافیات بیہقی اور مصنف عبد الرزاق میں، اور ابن ماجہ میں حضرت واثلہ سے مرفوعاً اور مصنف ابن ابی شیبہ میں مکحول سے مرسلاً مروی ہے۔ اس میں ہے:
جنبوا مساجدكم صبيانكم و مجانينكم و شراركم و بيعكم و خصوماتكم واصواتكم و سل و سيؤفكم وإقامة حدودكم
اپنی مسجدوں کو بچوں، دیوانوں، برے لوگوں، خرید و فروخت کے جھگڑوں آوازوں کے شور ننگی تلواروں اور نفاذ حدود سے بچاؤ۔
ضعیف ابن ماجه 194 ، ص 59 – ضعيف الجامع حديث 2635 – الارواء 361/7 – بحواله ضعیف ابن ماجه
اس کے بارے میں ذکر کیا جا چکا ہے۔ کہ یہ مرسل اور ایک طریق سے مرفوع مگر ضعیف ہے۔
مجمع الزوائد 29028/2/1
اور مکحول کے طریق سے ہی ایک روایت حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً معجم طبرانی میں مروی ہے۔ جس میں ہے:
جنبوا مساجدكم صبيانكم وخصوماتكم وحدودكم و شراء كم وبيعكم
مساجد کو بچوں، جھگڑوں، نفاذ حدود اور بیع و شراء سے بچاؤ۔
معجم طبرانی کبیر بحواله مجمع الزوائد 29/2/1
اس حدیث میں دیوانوں کا تو ذکر ہی نہیں، ویسے بھی سلسلہ کا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے حدیث سننا ہی ثابت نہیں ہے۔ لہذا یہ حدیث قابل استدلال نہ ہوئی۔
مجمع الزوائد ايضاً