مسئلۂ رفع یدین اور اس کی منسوخی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

ساتواں شبہ: دعوی نسخ

بعض لوگوں نے انتہائی سینہ زوری کا ثبوت دیتے ہوئے رفع الیدین کے نسخ کا بے بنیاد دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ کئی دلائل کی رو سے مردود ہے:
① اس کا صریح صحیح ناسخ موجود نہیں ہے۔
② صحابہ و تابعین کے مبارک دور میں رفع الیدین پر عمل ہوتا رہا ہے اور رفع الیدین کا ترک کسی ایک صحابی سے بھی باسند صحیح ثابت نہیں ہے، جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
③ ترک رفع الیدین ہی ثابت نہیں ہے، لہذا دعوی نسخ کیسا؟
④ ناسخ و منسوخ پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں مثلاً کتاب الحازمی، کتاب ابن شاہین، کتاب ابن الجوزی وغیرہ۔ ان کتابوں کے مصنفین نے اس مسئلہ کو اپنی کتابوں میں ذکر تک نہیں کیا، ہے کوئی ہے جو اس موضوع کی کسی ایک کتاب سے یہ مسئلہ نکال کر ہمیں دکھائے؟
⑤ میں نے دلائل رفع یدین میں صحیح حدیث سے ثابت کر دیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم 9ھ اور 10ھ میں رفع الیدین کرتے رہے ہیں۔ اب ہمیں صحیح حدیث کے ساتھ بتایا جائے کہ کس سن ہجری میں رفع الیدین منسوخ یا ترک کر دیا گیا تھا؟
⑥ اگر معاذ اللہ رفع الیدین منسوخ ہو گیا تھا تو پھر تکبیر تحریمہ، قنوت اور عیدین والا کس طرح اس نسخ سے بچ گیا؟
⑦ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی میں صرف ایک نماز کا بھی ثبوت نہیں ہے کہ آپ نے رفع الیدین نہ کیا ہو۔ جب ترک ہی ثابت نہیں ہے تو نسخ کس طرح ثابت ہو گا؟
⑧ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رفع الیدین نہ کرنے والوں کو کنکریوں سے مارتے تھے۔ (دیکھئے جزء رفع الیدین: 15 وسندہ صحیح)
کسی صحابی نے کسی کو بھی رفع الیدین کرنے پر نہیں مارا لہذا دعوی نسخ باطل ہے۔
⑨ رفع الیدین کی احادیث میں ”كان“ کا لفظ آیا ہے۔
حافظ زیلعی حنفی نے کہا: فإنه بلفظ كان المقتضية للدوام یعنی كان کا لفظ دوام کا مقتضی ہے۔ (نصب الرایہ 31/1)
یہاں پر کوئی قرینہ صارفہ بھی نہیں ہے لہذا معلوم ہوا کہ حنفیوں کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ (على الدوام) رفع الیدین کرتے رہے ہیں لہذا دعوی نسخ مردود ہے۔
⑩ حافظ ابن قیم نے کہا:
ومن ذلك أحاديث المنع من رفع اليدين فى الصلوة عند الركوع والرفع منه كلها باطلة على رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصح منها شيء كحديث عبدالله بن مسعود رضي الله عنه: إنما أصلي بكم صلوة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فصلى فلم يرفع يديه إلا فى أول مرة
(موضوع احادیث میں سے) نماز میں رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع الیدین کرنے کی ممانعت کی ساری احادیث باطل ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے۔ مثلاً سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی (سند سے منسوب) حدیث کہ انھوں نے صرف پہلی مرتبہ رفع الیدین کیا (باطل ہے۔) (المنار المنيف ص 137)
نسخ کے دعویداروں کا فرض ہے کہ پہلے ترک تو ثابت کریں۔

◈تحقیق کا خلاصہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے اور بعد رفع الیدین کیا کرتے تھے۔ اس بات کو درج ذیل صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیان کیا ہے:
ابن عمر، مالک بن الحویرث، وائل بن حجر، ابو حمید الساعدی، علی بن ابی طالب، ابو موسیٰ الاشعری، ابو بکر الصدیق، عبد اللہ بن الزبیر، ابو قتادہ، سہل بن سعد الساعدی، ابو اسید محمد بن مسلمہ اور جابر وغیرہم رضی اللہ عنہم اجمعین (ان روایات کی سندیں صحیح ہیں۔)
اس کے خلاف کسی ایک بھی صحیح یا حسن حدیث میں ترک رفع الیدین باصراحت ثابت نہیں ہے۔ لہذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر نماز میں رفع الیدین کریں۔
امام علی بن عبداللہ المدینی (ثقہ امام) نے رفع الیدین کی ایک حدیث کے بعد کہا:
حق على المسلمين أن يرفعوا أيديهم لهذا الحديث
اس حدیث کی بنا پر مسلمانوں پر یہ لازم ہے کہ وہ (نماز میں) رفع الیدین کریں۔ (صحیح البخاری بالہامش نسخته الشعب ج 1 ص 188 ونسخته پاکستانی ج 1 ص 102، فتح الباری ج 2 ص 175 جزء رفع الیدین ص 34 حدیث 2، التلخیص الحبیر ج 1 ص 218 حدیث 227)
دیکھئے ان کی اس اپیل پر کون لبیک کہتا ہے ؟!