مضمون کے اہم نکات
توحید فی الذات اور شرک فی الذات
توحيد في الذات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات میں اکیلا، بے مثل اور لاشریک لہ مانا جائے ، اس کی نہ بیوی ہے نہ اولاد، نہ ماں ہے نہ باپ، نہ وہ کسی کی ذات کا جزو، نہ کوئی اس کی ذات کا جزء ہے۔ شرک فی الذات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی اور کو شریک سمجھنا یعنی فلاں اس کی اولاد ہے یا فلاں اس کی ذات کا جزو ہے۔
اہل کتاب کے شرک فی الذات کی قرآن میں تردید آئی ہے اور ان کو اس عقیدہ کی وجہ سے کافر اور مشرک قرار دیا گیا ہے :
[وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ عُزَیۡرُۨ ابۡنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ قَوۡلُہُمۡ بِاَفۡوَاہِہِمۡ ۚ یُضَاہِـُٔوۡنَ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ ۚ۫ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ]،[اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ سُبۡحٰنَہٗ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ]
[اور یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کا اپنے مونہوں کا کہنا ہے، وہ ان لوگوں کی بات کی مشابہت کر رہے ہیں جنھوں نے ان سے پہلے کفر کیا۔ اللہ انھیں مارے، کدھر بہکائے جا رہے ہیں]،[انھوں نے اپنے عالموں اور اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا تھا کہ ایک معبود کی عبادت کریں، کوئی معبود نہیں مگر وہی ، وہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں] (التوبة:31،30)
اللہ کی اولاد اور جزو بنانا:
مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ، اللہ تعالی نے ان کے باطل عقیدہ کی تردید فرمائی ۔ (الانعام:101) بعض مشرک مخلوق میں مثلاً فرشتوں، جنوں اور انسانوں میں اللہ تعالی کی ذات کو مدغم سمجھتے تھے (اسے عقیدہ حلول کہا جاتا ہے) بعض مشرک کا ئنات کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کو مدغم کہتے تھے (اسے عقیدہ وحدۃ الوجود کہا جاتا ہے اللہ تعالی نے ان تمام باطل عقائد کی تردید فرمائی:
[وَ جَعَلُوۡا لَہٗ مِنۡ عِبَادِہٖ جُزۡءًا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ مُّبِیۡنٌ]
اور اس کے لیے اس کے بندوں میں ٹکڑا ٹھہرایا (ف:16) بے شک آدمی (ف:17)کھلا نا شکرا ہے۔ (ف:18)
(الزخرف:15)
(ف:16) اولاد صاحب اولاد کا جزو ہوتی ہے، ظالموں نے اللہ تبارک و تعالی کے لیے جزء قرار دیا، کیسا عظیم جرم ہے۔ (ف:17) جو ایسی باتوں کا قائل ہے۔ (ف:18) اس کا کفر ظاہر ہے۔ (تفسیر مراد آبادی و ترجمه احمد رضا خان صاحب)
ان ساری آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی خاندان نہیں، اس کی بیوی ہے نہ اولاد ماں ہے نہ باپ، نہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا ئنات کی کسی جاندار یا غیر جاندار چیز میں مدغم ہے، نہ کسی چیز کا جزو ہے، نہ کائنات کی کوئی دوسری جاندار یا غیر جاندار چیز اللہ تعالیٰ کی ذات میں مدغم ہے، نہ ہی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی ذات کا جزء ہے، نہ ہی اللہ تعالی کے نور سے کوئی مخلوق پیدا ہوئی ہے، نہ ہی کوئی مخلوق اس کے نور کا جزء ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک فی الذات سے پاک ہے۔
(البقرة:117،116)
پیغمبروں کو انسانی جامہ میں اللہ سمجھنا کفر و شرک ہے، آج کل کے کچھ کلمہ گو بالکل عیسائیوں کی طرح عقیدہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں۔
وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا مدینہ میں مصطفی ہو کر
بلکہ اپنے اوپر مزید ظلم کرتے ہیں کیونکہ عیسائیوں نے تو عیسی علیہ السلام کو اللہ کہا (المائدة:72 تا 77) لیکن انھوں نے چند قدم آگے بڑھ کر رسول اللہﷺ کے علاوہ عام بزرگوں کو بھی اللہ کہا۔
چاچڑ وانگ مدینہ جاتم تے کوٹ مٹھن بیت اللہ
رنگ بنا بے رنگی آیا کیتم روپ تجلی
ظاہر دے وچ مرشد ہادی باطن دے وچ اللہ
نازک مکھڑا پیر فریدا سانوں ڈسڈا ہے وجہ اللہ
(حج فقیر بر آستانه پیر ص:45)
اور یہ جو کچھ کلمہ گو کہتے ہیں کہ رسولﷺ اللہ کے نور میں سے نور ہیں یہ قرآن مجید کی ان آیات کا انکار کر رہے ہیں جن میں رسولﷺ کو اللہ کا بندہ اور بشر اور ان کے خاندان اور ان کی اولاد کا تذکرہ ہے (جس کا تفصیلی ذکر نور و بشر کی بحث میں آئے گا) اور اس کے علاوہ قرآن کی مندرجہ ذیل آیات کا بھی کھلم کھلا انکار کر رہے ہیں، جن میں ہے کہ اللہ جیسا کوئی نہیں ہے(نہ ذات میں، نہ صفات میں، نہ اختیارات میں اور نہ حقوق میں):
[لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ] اللہ جیسی کوئی چیز بھی نہیں ہے۔ (الشورى:11)
انھوں نے اللہ کے بندوں کو اللہ کا جزو بنا دیا، بے شک ایسے انسان کافر ہو گئے:
[وَ جَعَلُوۡا لَہٗ مِنۡ عِبَادِہٖ جُزۡءًا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ مُّبِیۡنٌ]
ان لوگوں نے اللہ کے بندوں کو اللہ کا جزو ( ٹکڑا) بنا دیا، بے شک انسان کھلم کھلا کافر ہو گیا ہے۔ (الزخرف:15)
رسول اللہﷺ کا وفد نجران کے 60 عیسائیوں سے مناظرہ ہوا۔ انھوں نے کہا: اگر عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے نہ ہوں تو بتائیے ان کا باپ کون ہے۔ اور سب کے سب بولنے لگے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے ضرور مشابہ ہوتا ہے؟ انھوں نے اقرار کیا پھر فرمایا: تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب حیی لا یموت ہے، اس کے لیے موت محال ہے اور عیسی علیہ السلام پر موت آنے والی ہے۔ انھوں نے اس کا بھی اقرار کیا پھر فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب بندوں کا کار ساز اور ان کا حافظ حقیقی اور روزی دینے والا ہے؟؟انھوں نے کہا: ہاں! رسول اللہﷺ نے فرمایا: عیسی (علیہ السلام) بھی ایسے ہی ہیں؟ کہنے لگے: نہیں۔ فرمایا:کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ پر آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں؟ انھوں نے اقرار کیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تو کیا عیسی (علیہ السلام) بغیر تعلیم الہی اس میں سے کچھ جانتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ عیسی (علیہ السلام) حمل میں رہے، پیدا ہونے والوں کی طرح پیدا ہوئے، بچوں کی طرح غذا دیے گئے، کھاتے پیتے تھے، عوارض بشری رکھتے تھے؟ انھوں نے اس کا اقرار کیا، رسول اللہﷺ فرمایا: پھر وہ کیسے اللہ ہو سکتے ہیں، جیسا کہ تمھارا گمان ہے؟ اس پر وہ سب ساکت رہ گئے وہ اور ان سے کوئی جواب بن نہ آیا۔ اس پر سورہ آل عمران کی اول سے کچھ اوپر 80 آیات نازل ہوئیں۔ (تفسیر نعیم الدین مراد آبادی، آل عمران:3/2، فائده 2)
صفات الہیہ میں حیی بمعنی دائم باقی ہے، یعنی ایسی ہمیشگی رکھنے والا جس کی موت ممکن نہ ہو۔ قیوم وہ ہے جو قائم بالذات ہو اور خلق اپنی دنیوی اور اخروی زندگی میں جو حاجتیں رکھتی ہے اس کی تدبیر فرمائے:
[وَ جَعَلُوۡا لَہٗ مِنۡ عِبَادِہٖ جُزۡءًا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ مُّبِیۡنٌ]
اس آیت کا احمد رضا صاحب ترجمہ کرتے ہیں :
اور اس کے لیے اس کے بندوں میں سے ٹکڑا ٹھہرایا۔ (ف16) بے شک (ف17) آدمی کھلا نا شکرا ہے۔(ف18)
تفسیر میں لکھا ہے (ف16) ظالموں نے اللہ تبارک و تعالی کے لیے جزو قرار دیا، کیسا عظیم جرم ہے۔ (ف17) جو ایسی باتوں کا قائل ہے۔ (ف18) اس کا کفر ظاہر ہے۔ (الزخرف:15 )
او پر احمد رضا خاں صاحب کا ترجمہ اور نعیم مراد آبادی کی تفسیر میں آپ نے ملاحظہ فرمایا، جن باتوں کی احمد رضا خاں صاحب کے مطابق قرآن تردید کر رہا ہے کیا کچھ کلمہ گو حضرات رسول اللہﷺ کے متعلق یہی عقائد نہیں رکھتے؟
قرآن مجید میں بہت سی جگہ ،،شرک فی الذات،، کی تردید آئی ہے۔ (البقرة:117،116)،(التوبه:31،30)،(بنی اسرائیل:11) اور ان مقامات پر شرک فی الذات کو شرک اور کفر قرار دیا گیا ہے اور فرمایا کہ جن کو یہ اللہ کی ذات کا حصہ قرار دیتے ہیں وہ کھانا کھاتے تھے اور دوسرے بشری تقاضے ان میں موجود تھے۔ (المائدة:72 تا 77)،(مریم:16 تا 36)
مسئله نور و بشر:
قرآن پاک میں جہاں بھی ظلمات اور نور کے الفاظ آئے ہیں ان سے مراد کفر و ایمان ہی ہے۔ مثلا (البقرة:17، 18، 20، 257)،(المائدة:15، 16، 44، 46)،(فاطر:19 تا23)،(الزمر:22-59)
اور سورہ انعام میں ظلمات اور نور رات اور دن کے معانی میں آئے ہیں۔ کوئی بھی مسلمان آفتاب نبوت کی نورانیت کا منکر نہیں ہے اور نہ ہی آپﷺ کی بشریت کا۔ قرآن و حدیث اور دوسری آسمانی کتابوں اور اسلام کو بھی نور کہا گیا ہے۔ قرآن کو (المائدة:15) میں اور تورات کو (الانعام:91) میں اور اسلام کو (النور:35) میں اور رسول اللہﷺ کو (الاحزاب:46) میں سراج منیر کہا گیا ہے۔ قرآن اور حدیث دونوں وحی الہی ہیں، ایک وحی جلی، ایک وحی خفی اور دونوں نور ہیں کیونکہ وحی بھی نور ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: [أوتيت القرآن و مثله معه] مجھے قرآن اور اسی جیسی چیز اس کے ساتھ دی گئی۔
[مسند أحمد:4/131]،[أبو داود، كتاب السنة، باب في لزوم السنة:4604]
آپﷺ کے اخلاق عظیمہ قرآن کریم کی تعبیر ہی تھے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ نے فرمایا: مایا:[ كان خلقه القرآن ] آپﷺ کا اخلاق قرآن ہے۔
[مسلم، كتاب صلاة المسافرين باب جامع صلاة الليل….. الخ :746]،[مسند أحمد:6/163،216]،[نسائی، کتاب قيام الليل، باب قيام الليل:1602]
لہذا آپﷺ کا اخلاق بھی نور ۔ حدیث آپﷺ کے قول اور فعل کا نام ہے وہ بھی نورہے، لہذا آپﷺ اس نور نبوت و نور ہدایت کے لحاظ سے سراجا منیرا اور نور ہیں۔ یہ ہے مسلمانوں کے نزدیک سید البشرﷺ کی نورانیت کا تصور اور عقیدہ اور اسی عقیدہ کا اظہار قرآن وحدیث اور تمام صحابہ سے ثابت ہے اور یہ لوگ جو قرآنی آیت پیش کرتے ہیں اس آیت سے بھی زیادہ سے زیادہ اس چیز کا مفہوم واضح ہوتا ہے اور وہاں نور من نور اللہ کے الفاظ نہیں ہیں:
[قَدۡ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیۡنٌ]،[یَّہۡدِیۡ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ بِاِذۡنِہٖ وَ یَہۡدِیۡہِمۡ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ] [المائدۃ:16،15]
بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا (ف58) اور روشن کتاب (ف59) اللہ اس سے ہدایت دیتا ہے اسے جو اللہ کی مرضی پر چلا، سلامتی کے راستے پر اور اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے اپنے حکم سے اور انھیں سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ (ترجمہ از احمد رضا)
(ف58)رسول اللہ ﷺ کو نور فرمایا گیا کیونکہ آپ سے تاریکی کفر دور ہوئی اور راہ حق واضح ہوئی۔ (ف59) یعنی قرآن شریف ۔ (تفسیر از نعیم مراد آبادی)
احمد رضا خاں صاحب کا ترجمہ اور تفسیر مراد آبادی آپ نے ملاحظہ فرمائی لیکن در حقیقت نور اور کتاب مبین دونوں سے مراد قرآن کریم ہے، ان کے درمیان ،،واؤ،، عطف تفسیری ہے جس کی واضح دلیل قرآن کی اگلی آیت ہے۔ جس میں کہا جا رہا ہے،
[یَّہۡدِیۡ بِہِ اللّٰہُ] کہ اس کے ذریعے سے اللہ تعالی ہدایت فرماتا ہے۔ اگر نور اور کتاب دو الگ الگ چیزیں ہوتیں تو الفاظ[يَهْدِى بِهِمَاالله]ہوتے یعنی اللہ تعالیٰ ان دونوں کے ذریعے سے ہدایت فرماتا ہے۔ قرآن کریم کی اس نص سے واضح ہو گیا کہ نور اور کتاب مبین دونوں سے مراد ایک ہی چیز یعنی قرآن کریم ہے، یہ نہیں ہے کہ نور سے رسول اللہﷺ اور کتاب سے قرآن مجید مراد ہے، جیسا کہ اہل بدعت باور کرواتے ہیں جنھوں نے نبی کریمﷺ کی بابت نور من نور اللہ کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے اور آپﷺ کی بشریت کا انکار کرتے ہیں۔ اسی طرح اس خانہ ساز عقیدے کے اثبات کے لیے ایک حدیث بھی بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے سب سے پہلے نبیﷺ کا نور پیدا کیا اور پھر اس نور سے ساری کائنات پیدا کی حالانکہ یہ حدیث کے کسی بھی مستند مجموعے میں موجود نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہ اس صحیح حدیث کے بھی خلاف ہے جس میں نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
[إن أول ما خلق الله القلم]سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم پیدا فرمایا:
[ترمذى كتاب القدر، باب إعظام أمر الإيمان بالقدر:2155]،[أبوداود، كتاب السنة، باب في القدر:4700]
اور اس حدیث کے بارے میں علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(فالحديث حديث صحيح بلا ريب، و هو من الأدلة الظاهرة على بطلان الحديث المشهور،،أول ما خلق الله نور نبيك ياجابر!) یہ حدیث صحیح ہے اور یہ اس مشہور حدیث جابر کو کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی ﷺ کا نور پیدا کیا باطل قرار دیتی ہے۔ [تعليقات للالباني على المشكوة:34/1]
مسئلہ در اصل نبی اکرمﷺ کی بشریت و نورانیت کا نہیں، مسئلہ دراصل یہ ہے کہ آپﷺ کی تخلیق مٹی سے ہوئی یا نور سے؟ دلائل سے ثابت ہے کہ آپ کی تخلیق عام انسانوں کی طرح مٹی سے ہوئی، قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ آدم علیہ السلام بشر تھے (سورہ ص:71) اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے ۔ (الحجر: 26)،(الرحمن:14) اور پھر پانی یعنی نطفہ سے انسان کی نسل چلی اور سب انسان آدم علیہ السلام کی اولاد یعنی بشر ہیں:
[وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ تَنۡتَشِرُوۡنَ]
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان ہو گئے جو زمین میں پھیل رہے ہو۔
(الروم :20)
[ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ جَعَلَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا لِیَسۡکُنَ اِلَیۡہَا]
وہی ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، تا کہ اس سے سکون حاصل کرے۔ (الأعراف:189)
اور اس معاملے میں انبیاء یہ بھی شامل ہیں، لہذا ثابت ہوا سب انبیائے کرام علیہم السلام بھی بشرہیں:
[یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ ۙ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ]
اے آدم کی اولاد! اگر کبھی تمھارے پاس واقعی تم میں سے کچھ رسول آئیں، جو تمھارے سامنے میری آیات بیان کریں تو جو شخص ڈر گیا اور اس نے اصلاح کر لی تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غم کھائیں گے۔ (الأعراف:35)
مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے (آل عمران:79)،(الزمر:71) کیونکہ تمام انبیائے کرام علیہ السلام ایک دوسرے کی اولاد، بھائی اور باپ دادا تھے اور انسانوں ہی میں سے تھے، مزید براں مرد تھے۔
ارشاد ربانی ہے:
[وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ جَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّۃَ وَ الۡکِتٰبَ فَمِنۡہُمۡ مُّہۡتَدٍ ۚ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ]
اور ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول بنایا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب اتاری، سو ان میں سے بعض ہدایت یافتہ تھے اور زیادہ فاسق تھے۔ (الحديد:26)
اور ابراہیم علیہ السلام کے بعد سب نبی اولا د ابراہیم ہیں:
[وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ جَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَ الۡکِتٰبَ وَ اٰتَیۡنٰہُ اَجۡرَہٗ فِی الدُّنۡیَا ۚ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ]
اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور اس کی نسل میں نبوت اور کتاب مقرر کر دی اور ہم نے اسے اس کا بدلا دنیا میں دیا اور وہ آخرت میں بھی نیکوں میں سے ہوگا۔ (العنكبوت:27)
یہ عجیب اتفاق ہے کہ پہلی قوموں نے (جو منکر ہوئے) انبیائے کرام علیہ السلام کو کہا کہ تم بشر ہو، ہم تمھیں نبی نہیں مانتے اور اس زمانہ کے منکرین نے کہا کہ ہم نبی کو بشر نہیں مانتے جبکہ قرآن کہتا ہے کہ سب انبیائے کرام (علیہ السلام) بشر تھے اور نبی تھے۔ جو لوگ یہ کہتے تھے کہ بشر نبی نہیں ہو سکتے وہ بھی وحی کے منکر ہوئے اور اب جو کہتے ہیں کہ ہمارا نبی بشر نہیں ہے وہ بھی قرآن کی بے شمار آیات کے منکر ہوئے ، جو نہایت خطرناک بات ہے اور بڑی دیدہ دلیری اور جرات کا کام ہے، ان لوگوں کو قیامت کا دن یاد نہیں ۔
پہلے منکروں نے کہا تم بشر ہو نبی نہیں حالانکہ وہ نبی بھی تھے اور بشر بھی تھے۔ (الشعراء 154 تا 186) اور نبیوں نے کہا کہ ہم بشر ہیں:
[قَالُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ؕ تُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ]،[قَالَتۡ لَہُمۡ رُسُلُہُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ مَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ نَّاۡتِیَکُمۡ بِسُلۡطٰنٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ]
[انھوں نے کہا تم بھی تو ہمارے جیسے انسان ہو، تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان چیزوں سے روک دو جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے رہے، سو کوئی کھلا ہوا معجزہ لاؤ]،[ان سے ان کے رسولوں نے کہا ضرور ہم بھی تمھارے جیسے ہی آدمی ہیں، لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے اور ہمارا کام نہیں کہ ہم اللہ کی اجازت کے سوا تمھیں کوئی معجزہ لا کر دکھا ئیں اور ایمان والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہونا چاہیے]۔ (إبراهيم:11،10)
[ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا]،[وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَہُمُ الۡہُدٰۤی اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا]،[قُلۡ لَّوۡ کَانَ فِی الۡاَرۡضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَئِنِّیۡنَ لَنَزَّلۡنَا عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوۡلًا]
تم فرماؤ! پاکی ہے میرے رب کو، میں کون ہوں مگر آدمی اللہ کا بھیجا ہوا (ف196) اور کس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اس نے کہ بولے کیا اللہ نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا (ف197)۔ تم فرماؤ! اگر زمین میں فرشتے ہوتے۔ (ف198) چین سے چلتے تو ان پر ہم رسول بھی فرشتہ اتارتے۔ (ف199) ( بني إسرائيل:93 تا 95)
(ف199) کیونکہ وہ ان کی جنس سے ہوتا لیکن جب زمین میں آدمی بستے ہیں تو ان کا ملائکہ میں سے رسول طلب کرنا نہایت ہی بے جا ہے۔ (ترجمه از احمد رضا خان صاحب تفسیر از مراد آبادی)
نبیوں کے لیے قرآن میں جگہ جگہ ہے کہ وہ اپنی اپنی قوم میں سے تھے اور ان کے بھائی تھے۔
(الشعراء:106،124،142،161)،(الاحقاف:21) یہاں سب جگہ بھائی کا لفظ ہے۔ (ھود:25،27،28،30،36،38،50،61،63) یہ سب حوالے قوم کے ہیں یعنی انبیائے کرام علیہم السلام اپنی قوم میں سے تھے:
[وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ ۫ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ]
اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، بے شک میں تمھیں صاف ڈرانے والا ہوں۔ (هود:25)
آپﷺ بشر ہیں:
[وَ مَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ الۡخُلۡدَ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مِّتَّ فَہُمُ الۡخٰلِدُوۡنَ]
اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشہ کے لیے زندہ نہیں رہنے دیا، پھر کیا اگر تومر گیا تو وہ رہ جائیں گے۔ (الأنبياء:34)
مزید حوالہ (بنی اسرائیل:93 تا 95) جس کا ترجمہ اوپر دیا جا چکا ہے۔
آپﷺ عبد ہیں، اولاد آدم ہیں۔ آپﷺ کے خاندان کا قرآن میں ذکر ہے:
[اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَ اَزۡوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمۡ]
نبی (ﷺ) مسلمانوں کے معاملہ میں ان سے بھی زیادہ دخل دینے کے حق دار ہیں اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں ۔ (الأحزاب:6)
مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے (الاحزاب:28 تا 59،33)
نبیﷺکے بشر ہونے کے مزید ثبوت:
① آپﷺ اہل مکہ میں سے تھے:
[لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ]
اللہ تعالی نے ایمان والوں پر احسان کیا ہے جو ان میں انھی میں سے رسول بھیجا،وہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے۔
(آل عمران:164)
مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے (التوبہ:128)
② آپﷺ مرد تھے، اور سب نبی مرد تھے۔ اور ان کی بیویاں اور اولاد تھی، وہ کھانا کھاتے تھے۔ اور سب کو موت آئی۔
(یونس:2)،(الاعراف:69،63)،( یوسف:109)،(الانبیاء:34) اور (الفرقان:20،7)،(الانبیاء:8،7) صحیح بخاری وصحیح مسلم اور مشکوۃ المصابیح میں آپﷺ کے والدین، آپﷺ کی پیدائش، آپﷺ کے کھانے پینے، آپﷺ کے سونے، آپ ﷺ کی رفع حاجات، آپﷺ کے بیوی بچوں، آپﷺ کے بیمار ہونے اور فوت ہونے اور آپﷺ کے تھک کر آرام فرمانے، اور دیگر بشری تقاضوں کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ اور
[بخاری، کتاب مناقب الأنصار، باب مبعث النبيﷺ،تحت،ح:3850] میں رسول اللہﷺ کے خاندان کی بائیں نسلوں تک کے نام ہیں اور یہاں ہم بخاری کی ایک حدیث کا حوالہ دینا چاہتے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ اس بیماری میں وفات پا جائیں گے، کیونکہ میں بنوعبد المطلب کے مرنے والوں کے چہرے پہچانتا ہوں۔ [بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبيﷺ ووفاته:4447]
اور اللہ کا قانون ہے کہ بشر سے بشر ہی پیدا فرماتا ہے۔ (آل عمران:47)
اور بشر سے نوری (تخلیق کے لحاظ سے) نہیں پیدا فرماتا ۔ (الفرقان:54)
میں ہے: اور وہی ذات ہے جس نے بشر کو پانی (نطفہ) سے بنایا اور پھر اس کے رشتے اور سسرال مقرر کیے اور تمھارا رب قدرت والا ہے۔ بشر کی یہ قرآنی تفسیر افضل البشرﷺ پر صادق آتی ہے۔ جو لوگ آپﷺ کو اللہ کے نور میں سے نور کہتے ہیں وہ قرآن کی ایک آیت اور مصنف عبد الرزاق والی روایت کا حوالہ دیتے ہیں، اس ضمن میں عرض ہے کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں ،،نورمن نور اللہ،، کے الفاظ نہیں ہیں، زیادہ سے زیادہ آپ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ آپﷺ صفت کے لحاظ سے نور ہیں، جس کا کوئی بھی مسلمان منکر نہیں ہے۔مصنف عبد الرزاق والی روایت کی سند مطلوب ہے تا کہ اس کے متعلق معلوم کیا جائے کہ صحیح بھی ہے یا نہیں کیونکہ سند کے بغیر کوئی حدیث قبول نہیں کی جاسکتی۔
جیسا کہ مقدمہ صحیح مسلم میں ہے۔[باب بيان أن الإسناد من الدين ….. الخ:26-32]
اس روایت اور قرآن و حدیث کے دوسرے دلائل کے درمیان تطبیق کی صورت کیا ہوگی کہ جن میں نبی اکرمﷺ کے بشر اور مٹی سے پیدا ہونے کا ثبوت موجود ہے،
ان میں سے کچھ دلائل ہم نے ذکر بھی کیے ہیں۔ (بریلوی حضرات کی طرف سے الجزء المفقود کے نام سے مصنف عبدالرزاق کا ایک جعلی نسخہ پیش کیا گیا ہے، جس میں نور والی روایت کی سند پیش کی گئی ہے، اس کی مکمل تحقیق،،جعلی جزء کی کہانی اور علمائے ربانی،، میں دیکھی جا سکتی ہے، جسے مکتبہ اسلامیہ نے شائع کیا ہے۔
اگر نبیﷺ اللہ کے نور سے پیدا ہوتے، تو آپﷺ کو نیند، موت اور دوسری چیزیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے منافی ہیں، کیونکر پیش آئیں؟ آپﷺ کو اللہ تعالی کی طرح کھانے پینے اور شادی بیاہ سے پاک ہونا چاہیے تھا۔ معلوم ہوا کہ آپﷺ اللہ کے نور سے پیدا نہیں ہوئے ، ورنہ آپﷺ میں اللہ تعالیٰ کی صفات موجود ہوتیں۔
حنفی فقہ کی مشہور کتاب ہدایہ مترجم کے مقدمہ میں کتب احادیث کی درجہ بندی کی گئی ہے، درجہ اول میں بخاری اور مسلم اور موطا امام مالک کو رکھا گیا ہے۔ درجہ دوئم میں ترمذی ، نسائی اور ابو داؤد وغیرہ کو رکھا گیا ہے۔ درجہ سوم میں مسند شافعی، مصنف عبدالرزاق وغیرہ کو رکھا گیا ہے اور لکھا ہے کہ ان کتابوں کی احادیث بغیر تنقید اعتبار کے قابل نہیں ہیں۔
(مقدمہ ہدایہ:1/114) اس طرح مذکورہ کتاب درجہ سوم کی ہے۔ اللہ تعالٰی اپنی ذات کے ساتھ آسمانوں کے اوپر عرش عظیم پر جلوہ افروز ہے۔ (الاعراف:54)،(یونس:3)
بریلوی حضرات کی دو رخی:
(سورہ بقرہ کی آیت:9) کے فائدہ (13) کے تحت نعیم مراد آبادی دوسرا مسئلہ لکھتے ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو بشر کہنے میں اس کے فضائل و کمالات کے انکار کا پہلو لگتا ہے۔ اس لیے قرآن پاک میں جابجا انبیائے کرام کے بشر کہنے والوں کو کافر فرمایا گیا اور در حقیقت انبیاء کی شان میں ایسا لفظ ادب سے دور اور کفار کا دستور ہے۔
اور (سورہ بقرہ کی ایک آیت:30) کے فائدہ (55) کے تحت لکھتے ہیں: یعنی میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں۔ بات یہ ہے کہ انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے، اولیاء بھی، علماء بھی اور وہ علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔(یعنی یہاں سب انبیاء کو خود مراد آبادی صاحب نے انسان کہا)
(آل عمران کی آیت:2) کے فائدہ (2) کے تحت لکھتے ؟ ہیں:
حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے حضرت عیسی علیہ السلام حمل میں رہے، پیدا ہونے والوں کی طرح پیدا ہوئے، بچوں کی طرح غذا دیے گئے، کھاتے پیتے تھے، عوارض بشری رکھتے تھے، انھوں نے اس کا اقرار کیا ۔ (یعنی یہاں عیسی علیہ السلام کو مراد آبادی صاحب نے خود بشر کہا )
(آل عمران کی آیات :32 تا 35) کے تحت فائدہ (67) میں لکھتے ہیں کہ آدم، نوح، ابراہیم اور عمران ایک دوسرے کی نسل سے تھے۔
[آل عمران:79] میں اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کو بشر فرمایا، [الشوری:52،51] میں اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کو بشر فرمایا اور رسول اللہﷺکو بھی بشر فرمایا۔
(بنی اسرائیل:93 تا 95) میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو بشر فرمایا اور آپﷺ سے اعلان کروایا کہ کہہ دیجیے میں بشر ہوں۔ احمد رضا نے ترجمہ کیا: تم فرماؤ! اگر زمین میں فرشتے ہوتے چین سے چلتے تو ہم ان پر رسول بھی فرشتہ اتارتے۔ مراد آبادی صاحب یہاں۔ (فائدہ:199) کے تحت لکھتے ہیں: کیونکہ وہ ان کی جنس سے ہوتا لیکن جب زمین میں آدمی بستے ہیں تو ان کا ملائکہ میں سے رسول طلب کرنا نہایت ہی بے جا ہے۔ یعنی یہاں مراد آبادی صاحب نے رسول اللہﷺ کو آدمی کہا۔
(بنی اسرائیل کی آیت:87) کے تحت فائدہ (190) میں لکھتے ہیں: اس نے آپﷺ پر قرآن نازل فرمایا اور اس کو باقی و محفوظ رکھا اور آپﷺ کو تمام بنی آدم کا سردار اور خاتم النبیین کیا اور مقام محمود عطا فرمایا: یعنی اس جگہ مراد آبادی صاحب نے خود رسول اللہ ﷺ کو بنی آدم کا سردار کہا۔
(بنی اسرائیل کی آیت:70) کے تحت فائدہ (158) میں لکھتے ہیں: خواص بشر یعنی انبیاء علیہم السلام خواص ملائکہ سے افضل ہیں۔ یعنی یہاں مراد آبادی صاحب نے خود انبیائے کرام کو بشر لکھا۔ (مزید حوالہ جات کے لیے (النساء:1 کے تحت فائدہ:3،2) دیکھیے۔(الأعراف :35،143) کے تحت(فائدہ:264،53) دیکھیے۔ (الزمر:71) کا ترجمہ دیکھیے۔(مریم:49تا58) کے تحت (فائدہ:82تا98) دیکھیے۔(العنکبوت:27) کے تحت (فائدہ:66) دیکھیے۔ (التوبة:128) کے تحت (فائدہ:307) دیکھیے۔ (النحل:43، فائدہ:90،89) دیکھیے۔(الانبیاء:34) کے تحت (فائدہ:67،66) دیکھیے۔ (حم السجدہ:6) کے تحت (فائدہ:12) دیکھیے۔ (الزخرف:15)،(ابراهیم:11،10) اور (الرحمن:3) دیکھیے۔
مندرجہ بالا تمام مقامات پر احمد رضا خان صاحب کا ترجمہ اور مراد آبادی صاحب کی تفسیر دیکھنے کے بعد یہ بات بالکل عیاں ہے کہ انھوں نے قرآن میں جگہ جگہ انبیائے کرام علیہم السلام اور خود ہمارے پیارے رسولﷺ کو انسان، بشر اور آدمی لکھا۔ اس باب کے شروع میں مراد آبادی صاحب نے انبیائے کرام کو بشر کہنے والوں پر کفر کا جو فتوی لگایا تھا وہ کس کس پر لگا؟ تو بہ کی ضرورت ہے، سوچنے کی ضرورت ہے۔
احمد رضا خان صاحب کے قرآنی ترجمہ و تفسیر مراد آبادی کے مزید حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔
رسول اللہﷺ کو (النحل:43، ف:90،89) میں بشر، انسان، مرد کہا اور (النساء:1،ف:3) میں لکھا کہ آدم علیہ السلام ابو البشر ہیں۔ جن کو بغیر ماں باپ کے مٹی سے پیدا کیا گیا، اور سب انسان جن میں سید عالمﷺ اور سیدنا یعقوب علیہ السلام شامل ہیں۔ سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ (الأعراف:35 ،ف:53) میں لکھا کہ تمام مرسلین آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور خاص سید عالم خاتم الانبياءﷺ آدم کی اولاد میں سے ہیں اور (الأنبياء:34،ف:66) میں رسول اللہﷺ کو آدمی لکھا اور آپﷺ کی وفات کا ذکر کیا اور (الحج:75،ف:193) میں آپﷺ ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسی علیہ السلام کو بشر اور انسان لکھا اور (حم السجدة:6،ف:12) میں آپﷺ کو بشر تسلیم کیا اور (یونس:2،ف3،2) میں آپﷺ کو بشر لکھا اور (ھود:1،ف:1) میں آپﷺ کے بڑھاپے کا ذکر کیا اور (النور:45،ف:106،104) میں لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام اجناس حیوان کو پانی کی جنس سے پیدا کیا اور پانی ان سب کی اصل ہے اور آدمی اور پرند دو پاؤں پر چلتے ہیں اور (المؤمنون:12 تا 16، ف:9 تا 14) میں لکھا کہ انسان یعنی آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا گیا اور پھر پانی کی بوند سے انسان کی نسل چلی اور اسے ماں کے پیٹ میں مختلف مراحل سے گزارا گیا، پھر اس کی پیدائش ہوئی پھر عمر پوری ہونے کے بعد اسے موت آئی،اور پھر قیامت کے دن اسے اٹھایا جائے گا(یہ بات ہر انسان پر صادق آتی ہے جس میں انبیائے کرام علیہم السلام بھی شامل ہیں)۔
اور (النجم:6،ف:8) میں اور(الرحمن:3،ف:3) میں اور (العلق:2 تا 5،ف:6)
میں ہر جگہ آپﷺ کو انسان لکھا اور (سبا:46،ف:124) میں لکھا کہ آپﷺ قریش میں سے اور نوع انسان میں سے ایک شخص ہیں،اور لکھا کہ آپﷺ ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ دیکھیے ان کی تفسیر(البقرة:1،90،129،130،133،150) اور(فوائد:154،234،238،242،273) اور آپﷺ کا سایہ لکھا۔ (النور:11، ف:15) اور آپﷺ کی خواب گاہ کا لکھا (الأنفال:30 ،ف:51) اور آپﷺ کی قضائے حاجت کا ذکر کیا (النساء:102،ف:283) اور آپﷺ کے نکاح ، تو بیویوں ، بیٹوں اور بیٹیوں، آپﷺکے والد، والدہ، دادا اور بچوں اور آپﷺ کی عمر اور وفات اور کھانا کھانے اور لباس اور آپﷺ کے رشتے داروں اور آپﷺ کی ولادت اور بیری کے سائے میں آرام فرمانے کا ذکر کیا اور آپﷺ کو اللہ کے بندے اور مخلوق کہا۔ دیکھیے احمد رضا خاں کا قرآنی ترجمہ مع تفسیر (الرعد37:،ف:105) (الأحزاب:28،ف73،40،ف103،33،ف85)،( الأحقاف:15،ف:39)،(الضحى:6،ف:7)،(الطارق:1،ف:2)،(احقاف:20،ف56)،(الممتحنہ:7،ف20)،(الفیل: 5،ف:5)،(بنی اسرائیل:1،ف:5)،(الشعراء:227،ف:195)،(حم السجدة:6،ف:11) اور لکھا کہ اللہ کا بندہ اور مخلوق معبود نہیں ہو سکتا۔ جیسے عیسی علیہ السلام (مریم:38 ف:59) اور لکھا ،،الہ،، یعنی معبود صرف ایک ہے۔ (حم السجدة:6،ف11)
یادر ہے کہ قرآن اور حدیث کی رو سے انبیائے کرام علیہم السلام سب مخلوق سے افضل ہیں،لیکن وہ انسان، بشر اور مرد تھے۔ یہاں رسول اللہﷺ کی ایک دعا کا ذکر بے جا نہ ہوگا جو آپﷺ صبح کی نماز کے وقت مانگتے تھے:
[اللهم اجعل في قلبي نورا ، وفي بصري نورا ، وفي سمعي نورا ، وعن يميني نورا ، وعن يساري نورا ، وفوقي نورا ، وتحتي نورا ، وأمامي نورا ، وخلفي نورا ، واجعل لي نورا]
اے اللہ ! میرے دل میں نور بنادے، اور میری آنکھوں میں نور بنا دے، اور میرے کانوں میں نور بنا دے، اور میرے دائیں اور بائیں نور بنا دے، اور میرے سامنے اور پیچھے نور بنا دے، اور مجھے نور عطا فرما۔
[بخاری، کتاب الدعوات باب الدعاء إذا انتبه من الليل:6316]،[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة النبيﷺ ودعائه بالليل:763]
جو لوگ رسول اللہﷺ کو نور من نور اللہ مانتے ہیں ان کا مندرجہ بالا دعا کے بارے میں کیا تبصرہ ہوگا جو دعا آپﷺ ہر صبح کی نماز کے وقت مانگتے تھے، اگر آپ نور من نور اللہ تھے تو یہ دعا مانگنے کی ضرورت نہ تھی۔
باقی انبیائے کرام علیہم السلام کے بشر ہونے کے رضا خانی ثبوت:
(البقره:177،ف:312) میں لکھا کہ انبیاء مرد ہوتے ہیں۔ (النساء:1،ف:3) میں لکھا کہ تمام انبیاء بشر اور انسان تھے۔
(یوسف:109،ف:236،235) میں لکھا کہ تمام انبیاءمردتھے۔ (الحج:75،ف:193) میں لکھا انبیاء بشر اور انسان ہیں۔ (المؤمنون:24،ف:33) میں لکھا کہ بشر کا رسول ہونا نہ تسلیم کرنا کمال حماقت ہے۔ (التغابن:6،ف:11) میں لکھا انھوں نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا اور یہ کمال بے عقلی اور نافہمی ہے۔ مزید حوالہ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ (بنی اسرائیل:94،ف:197)
جنھوں نے بشر کو رسول تسلیم نہ کیا ان کی یہ کمال بے عقلی و نا فہمی ہے۔ لیکن جو آج انبیائے کرام علیہم السلام کو بشر تسلیم نہیں کرتے کیا یہ ان کی کمال بے عقلی و نافہمی نہیں؟ کیونکہ وہ بھی وحی کے منکر ہوئے اور یہ بھی، کیونکہ قرآن تو بار بار انبیائے کرام علیہ السلام کو بشر کہتا ہے۔
قرآن میں ہر نبی کو اس قوم کا بھائی کہا گیا ہے۔ (الأعراف:65،73،85)،(ھود:50،61،84) جس کا مطلب اسی قوم اور قبیلے کا فرد ہے، جس کو بعض جگہ (رسولا منهم) يا (من أنفسهم) يا (منکم) سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ (البقرة:151،129)،(آل عمران:164)،(الاعراف:35)،(الزمر:71 ص:4) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلاں نبی کی قوم۔
اور مطلب ان سب کا یہ ہے کہ رسول اور نبی انسانوں میں سے ہی ایک انسان ہوتا ہے، جسے اللہ تعالی لوگوں کی ہدایت کے لیے چن لیتا ہے اور وحی کے ذریعے اس پر اپنی کتاب اور احکام نازل فرماتا ہے اور اس طرح وہ رسول اور نبی تمام عام انسانوں سے افضل ہو جاتا ہے۔
اس باب میں عرض یہ ہے کہ سب سے پہلے نعیم مراد آبادی تفسیر میں کہا گیا کہ قرآن پاک میں جابجا انبیائے کرام علیہم السلام کے بشر کہنے والوں کو کافرفرمایا گیا۔ (البقرۃ:ف:13 مسئلہ) اس کے بعد دو رخی اختیار کرتے ہوئے انبیائے کرام علیہم السلام کو جا بجا اپنی تفسیر میں بشر، انسان اور مرد لکھا، جس کا ہم بہت تفصیل کے ساتھ ذکر کر چکے ہیں، اور پھر سہ رخی اختیار کرتے ہوئے لکھاکہ رسولوں کو بشر ہی جانتے رہے، اور ان کے منصب نبوت اور اللہ تعالیٰ کے عطا فرمائے ہوئے کمالات کے مقر اور معترف نہ ہوئے، یہی ان کے کفر کی اصل تھی یعنی مراد آبادی صاحب نے یہاں اصل بات لکھ دی۔ (بنی اسرائیل:94 ،ف:197)
انبیائے کرام علیہم السلام کے بشر ہونے کے متعلق مزید دلائل:
(سوره یوسف کی آیت:31) میں ہے: ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بہت بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور زبان سے نکل گیا کہ ماشاء اللہ یہ ہرگز انسان نہیں، یہ تو یقینا کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔
اس سے یہ معلوم ہوا کہ انبیاء علیہ السلام کی غیر معمولی خصوصیات وامتیازات کی بنا پر انھیں انسانیت سے نکال کر نورانی مخلوق قرار دینا ہر دور کے ایسے لوگوں کا شیوہ رہا ہے جو نبوت اور اس کے مقام سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ (سورہ حجر کی آیت:33) میں ہے:وہ بولا میں ایسا نہیں کہ اس انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے بنایا۔ شیطان نے انکار کی وجہ آدم کا خاکی اور بشر ہونا بتلایا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان اور بشر کو اس کی بشریت کی بنا پر حقیر اور کمتر سمجھنا یہ شیطان کا فلسفہ ہے، جو اہل حق کا عقیدہ نہیں ہو سکتا، اسی لیے اہل حق انبیائے کرام علیہم السلام کی بشریت کے منکر نہیں، اس لیے کہ ان کی بشریت کو خود قرآن نے وضاحت سے بیان کیا ہے۔
توحید فی الذات کے بارے میں شرکیہ امور:
کسی فرشتے یا نبی یا کسی دوسری مخلوق کو اللہ تعالی کا بیٹا یا بیٹی سمجھنا یا اللہ کا جزو سمجھنا یا اللہ کے نور سے نور سمجھنا شرک ہے، حالانکہ نور کا اللہ خود خالق ہے۔ (الأنعام:1) اللہ تعالیٰ کے بارے میں تین میں سے ایک اور ایک میں سے تین کا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔
- اللہ تعالیٰ کی ذات با برکات کو کائنات کی ہر چیز میں موجود سمجھنا وحدت الوجود کہلاتا ہے، اس پر ایمان رکھنا شرک ہے۔
- بندے کا اللہ کی ذات میں مدغم ہو جانے کا عقیدہ وحدت الشہود کہلاتا ہے، اس پر ایمان رکھنا شرک ہے۔
- اللہ تعالیٰ کا بندے کی ذات میں مدغم ہو جانے کا عقیدہ حلول کہلاتا ہے، اس پر ایمان رکھنا شرک ہے۔
توحید فی الذات یہ ہے:
کہ اللہ تعالیٰ سب سے الگ آسمانوں کے او پر عرش عظیم پر جلوہ افروز ہے اور وہ خالق ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق ہے، اللہ تعالی جیسا کوئی نہیں لیکن رسول اللہﷺ کے متعلق فرمایا: کہہ دیجیے میں تمھاری طرح بشر ہوں ۔ (الکہف:110) میں تمھاری طرح بشری تقاضے پیدائش، موت، کھانا، پینا، نیند، بھولنا، تھکنا، شادی، اولاد وغیرہ رکھتا ہوں، یہ آپﷺ کی ذات ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات ثابت شدہ ہے کہ رسول اللہﷺ ساری مخلوق سے افضل ہیں، یہ آپ کا مقام ہے۔ یاد رہے کہ قیامت کے دن یہود و نصاری شرک فی الذات کی وجہ سے بغیر حساب و کتاب دوزخ میں ڈال دیے جائیں گے۔ [مسلم، کتاب الإيمان، باب إثبات رؤية المؤمنين…الخ:183]
اور امت محمدیہ کے ایسے لوگوں کا انجام خود سوچ لیں کیا ہو گا؟