مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مسئلہ فاتحہ خلف الامام پر احناف کے دلائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب مسئلہ فاتحہ خلفُ الامام سے ماخوذ ہے۔

مانعینِ قراءتِ خلف الإمام کے شبہات

1: وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا
(7-الأعراف:204)
اور جب قرآنِ کریم پڑھا جائے تو اس کی طرف کان لگائے رہو اور چپ رہو۔
2: وإذا قرأ فأنصتوا اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔
(صحیح مسلم: 174/1، حدیث 62/404)
3 : إني أقول ما لي أنازع القرآن
میں کہتا ہوں کہ میرے ساتھ قراءتِ قرآن میں منازعت کیوں ہو رہی تھی۔
(موطّأ امام مالک وغیرہ بحوالہ احسن الكلام: 224/1)
اس روایت میں امام زُہری رحمہ اللہ کا مدرج قول ہے:
فانتهى الناس عن القراءة مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فيما جهر فيه
اس ارشاد کے بعد جن نمازوں میں آپ جہر کرتے تھے لوگوں نے آپ کے پیچھے قراءت ترک کر دی تھی۔ (ایضاً)
4: من كان له إمام فقراءة الإمام له قراءة
جس آدمی نے امام کی اقتداء کی تو امام کی قراءت مقتدی کو بس ہے۔
(احسن الكلام: 257)
5 : اور ایک رکوع کا مسئلہ۔
6 : آثارِ صحابہ جن میں مطلق قراءت کا لفظ ہے، فاتحہ کا لفظ نہیں، مانعین کی یہ کل کائنات ہے، مانعین کے یہ عام دلائل ہیں اور ہمارے دلائل خاص ہیں اور یہ اصول میں مقرر ہے کہ خاص عام پر مقدم ہوتا ہے۔
❀ امام غزالی (متوفیٰ 505ھ) فرماتے ہیں:
لا نعرف خلافا بين القائلين بالعموم فى جواز تخصيصه بالدليل
ہمیں عموم کے دعویداروں کے درمیان اس بات پر اختلاف معلوم نہیں کہ اس کی تخصیص دلیل کے ساتھ جائز ہے۔
(المستصفٰى من علم الأصول: 98/30)
❀ امام ابن الحاجب (متوفیٰ 646ھ) فرماتے ہیں:
تخصيص العام جائز عند الأكثرين
یعنی عام کی تخصیص (علماء) کے نزدیک جائز ہے۔
(منتہٰى الوصول والأمل في علمي الأصول والجدل: 119)
❀ آمدی شافعی (متوفیٰ 631ھ) فرماتے ہیں:
تخصيص السنة بالسنة جائز عند الأكثرين
اکثر علماء کے نزدیک سنت کی تخصیص سنت کے ساتھ جائز ہے۔
(الأحكام في أصول الأحكام: 375/2)
❀ اور فرماتے ہیں:
يجوز تخصيص عموم القرآن بالسنة
اور قرآن کے عموم میں تخصیص سنت کے ساتھ جائز ہے۔
(الأحكام: 347/2)
بلکہ فیصلہ کن بات لکھتے ہیں:
وأما إذا كانت السنة من أخبار الآحاد فمذهب الأئمة الأربعة جوازه
اگر (عمومِ قرآن کی تخصیص کرنے والی) سنت خبرِ واحد ہو تو ائمہ اربعہ کا مذہب یہ ہے کہ جائز ہے۔
(الأحكام: 347/2)
❀ متأخرین میں سے شوکانی (متوفیٰ 1255ھ) کہتے ہیں:
اتفق أهل العلم سلفا وخلفا على أن التخصيص للعمومات جائز
اس بات پر سلف و خلف کے علماء کا اتفاق ہے کہ عمومات کی تخصیص جائز ہے۔
(إرشاد الفحول: 143 نیز دیکھئے نمازِ مدل ص 93 مصنفہ فیض احمد ککروی )
لہٰذا ان سابقہ عام دلائل کو فاتحہ کے خلاف پیش کرنا غلط، مردود اور بے اصولی ہے۔ جب خاص عام پر مقدم ہوتا ہے تو پھر عام کو کیوں خاص کے مقابلے میں پیش کیا جاتا ہے۔ مزید تحقیق کے لیے دیکھئے توضیح الكلام (118/2) غیث الغمام (ص 277) مانعینِ فاتحہ پانچ صریح روایات بھی پیش کرتے ہیں جن میں ایک بھی صحیح نہیں ہے بلکہ ساری کی ساری مردود ہیں۔
1 : عبد الرحمٰن بن إسحاق عن سعيد المقبري عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: كل صلوة لا يقرأ فيها بأم الكتاب فهي خداج إلا صلوة خلف إمام
(كتاب القراءة للبیہقی ص 171، احسن الكلام: 339/1)
اس کا راوی عبد الرحمٰن بن إسحاق الكوفي الواسطي بالاتفاق ضعیف ہے۔
(دیکھئے تهذيب التهذيب: 124/6، ح 284)
اس عبد الرحمٰن سے مراد عبد الرحمٰن بن إسحاق المدني لینا غلط ہے، راوی کا تعین درج ذیل امور سے ہوتا ہے:
➊ روایت کی دوسری سند میں صراحت آ جائے (یہ روایت صرف اسی کتاب میں ہے اور کہیں نہیں ہے)
➋ روایت کا راوی صراحت کر دے (ابو عبد اللہ الحاکم نے الواسطي پر جرح نقل کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ راوی مذکور عبد الرحمٰن بن إسحاق الواسطي ہے)
➌ محدثین صراحت کریں (امام حاکم محدثین میں مشہور محدث ہیں، کسی نے ان کی صراحت کی مخالفت نہیں کی)
➍ راوی اور مروی عنہ کا شہر علاقہ ایک ہی ہو۔ (عبد الرحمٰن بن إسحاق الواسطي اور خالد بن عبد اللہ دونوں واسط کے رہنے والے ہیں)
➎ راوی کے استادوں کو دیکھا جائے۔ سعيد المقبري: عبد الرحمٰن بن إسحاق الواسطي کا استاد ہے۔ (دیکھئے كتاب الجرح والتعديل لابن حبان: 54/2)
➏ راوی کے شاگردوں کو دیکھا جائے۔ (سعيد المقبري کے شاگردوں میں الواسطي کا ذکر نہیں ملا)
تنبیہ:
تہذیب الکمال میں سعید المقبری کے شاگردوں میں عبد الرحمٰن بن إسحاق المدنی کا ذکر ہے جس کی وجہ سے بعض لوگ اوپر والے دلائل کے خلاف عبد الرحمٰن سے المدنی مراد لیتے ہیں حالانکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ تہذیب الکمال میں تمام شاگردوں کا استیعاب نہیں کیا گیا، احمد بن عبد الرحمٰن بن بکار ایک راوی ہے جس سے محمد بن نصر المروزی نے روایت بیان کی ہے۔
(کتاب الصلاة للمروزی: ح 945)
حالانکہ تہذیب الکمال (188/1) و تہذیب التهذیب وغیرہما میں اس کے شاگردوں میں مروزی کا نام مذکور نہیں ہے، کیا کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ امام مروزی رحمہ اللہ احمد بن عبد الرحمٰن بن بکار کے شاگرد نہیں ہیں۔
➐ دیگر قرائن دیکھے جائیں (یہاں ایسا کوئی قرینہ نہیں ہے کہ عبد الرحمٰن سے مراد المدنی ہی ہے)
ان دلائل سے معلوم ہوا کہ امین اوکاڑوی و یونس نعمانی وغیرہما کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ عبد الرحمٰن سے مراد یہاں صرف المدنی ہی ہے الواسطی نہیں۔ یہاں پر دوسرا نکتہ یہ ہے کہ امام بیہقی نے فضیل بن عبد الوہاب کی مکمل روایت ذکر نہیں کی بلکہ محمد بن خالد بن عبد اللہ الواسطی کی روایت مکمل مع سند و متن ذکر کی ہے، محمد بن خالد هذا: ضعيف (تقریب التهذیب: 5846) بلکہ متروک الحدیث ہے (تحریر تقریر التهذیب: 235/3) جو لوگ کہتے ہیں کہ فضیل بن عبد الوہاب کی روایت کے الفاظ من وعن یہی ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ فضیل مذکور کی مکمل روایت مع سند و متن پیش کریں۔
2 : وهب بن كيسان عن جابر رفعه قال: كل صلوة لا يقرأ (إلخ )
(کتاب القراءت : ص 136، احسن الکلام: 294/1)
اس کا راوی ابو سعید محمد بن جعفر الخصیب الہروی نامعلوم ہے۔ امام ابو عبد اللہ بن یعقوب نے اس روایت کے بارے میں فرمایا: ”هذا كذب“ یہ (حدیث) جھوٹ ہے۔
(کتاب القراءت للبیہقی ص 137، 351 وفی نسخہ ص 161)
3 : عن على بن كيسان عن ابن أبى مليكة عن ابن عباس رفعه كل صلوة إلخ
(كتاب القراءت ص 137، احسن الکلام 296/1)
یہ روایت موضوع ہے۔ بالو یہ بن محمد بن بالو یہ ابو العباس المروزي، ابو العباس محمد بن شادل بن علی، إسماعیل بن إبراهیم اور علی بن کیسان چاروں کے حالات نامعلوم ہیں۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ موضوع حدیث کی پہچان یہ بتاتے ہیں کہ اس کے سارے راوی ثقہ ہوتے ہیں، سوائے ایک کے۔
4 : عن بلال قال: أمرني رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم الخ
(كتاب القراءت ص 175، احسن الکلام: 297/1)
امام حاکم نے فرمایا: یہ باطل ہے۔
(کتاب القراءت: ص 176، 431، وفی نسخہ: 200)
احمد بن محمد اللہ فی المؤدب متہم ہے۔
(لسان المیزان: 283)
احمد بن عبد الرحمٰن السرخسی کے حالات نامعلوم ہیں، إسماعیل بن الفضل کذاب ہے۔
(ذيل اللآلئ الموضوعة ص 113)
اس میں دیگر علتیں بھی ہیں۔
عن جابر بن عبدالله رفعه: من صلى ركعة إلخ
(معاني الآثار: 218/1، دار قطنی: 124/1، احسن الکلام 62/2)
ابن عبد البر نے کہا: یہ صحیح نہیں ہے۔
(الاستذكار: 1922)
یحییٰ بن سلام جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، اس پر حاکم، طحاوی، دارقطنی، ابن حجر، بیہقی اور ذہبی رحمہم اللہ نے جرح کی۔ اس کی اس روایت میں امام مالک رحمہ اللہ کے ثقہ شاگردوں کی مخالفت کی ہے لہٰذا یہ روایت منکر ہے۔
اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ مانعینِ فاتحہ کے پاس منعِ فاتحہ کے بارے میں ایک بھی صحیح یا حسن روایت نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ نبی کریم صلى اللہ عليه وآله وسلم نے سورۃ فاتحہ سے منع فرمایا تھا۔ لہٰذا خاص اور صحیح دلیل کی وجہ سے ہر شخص چاہے امام ہو یا مقتدی یا منفرد، ہر نماز اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھنا فرض ہے۔ حنفیہ و دیوبندیہ و بریلویہ کے نزدیک اگر کوئی شخص (امام یا منفرد) فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں جان بوجھ کر سورۃ فاتحہ نہ پڑھے بلکہ چپ کھڑا رہے یا تسبیح پڑھتا رہے تو اس کی نماز بالکل صحیح اور کامل ہے۔
(دیکھئے قدوری ص 22، 23، 1311، ہدایہ اولین: 1381، فتح القدیر: 395/1، بہشتی زیور: ص 23 احضہ دوم ص 19، باب ہفتم مسئلہ نمبر وغیرہ)
اس سے معلوم ہوا کہ آخری دو رکعتوں میں ان لوگوں کے نزدیک سورۃ فاتحہ نہ امام پر واجب ہے اور نہ منفرد پر، لہٰذا مقتدی بے چارہ کس حساب و کتاب میں ہے۔ اس کے بعد والے باب میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم قائلینِ فاتحہ خلف الإمام کے قائل و فاعل تھے۔ وما علينا إلا البلاغ

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔