مسئلہ رفع سبابہ یعنی حالت تشہد میں شہادت کی اُنگلی سے اشارہ کرنا

یہ اقتباس شیخ عبدالروف ہانجی السلفی کی کتاب مسئلہ رفع سبابہ (یعنی تشہد میں شہادت کی اُنگلی سے اشارہ کرنا) سے ماخوذ ہے۔

(1) سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو غور سے دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ ۔ چنانچہ میں نے (توجہ کے ساتھ) آپ کی طرف دیکھا۔
ثم قبض اثنتين من أصابعه و حلق حلقة ثم رفع اصبعه فرأيته يحركها يدعو بها
(یعنی پھر ہاتھ کی دو انگلیاں بند کیں اور [درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے] حلقہ بنایا۔ اپنی [تشہد کی] انگلی کو اٹھایا، چنانچہ میں نے دیکھا، آپ اسے حرکت دیتے تھے اور اس کے ساتھ دعا کرتے تھے)
[سنن نسائی، کتاب الافتتاح، حدیث نمبر: 890/سنن ابن ماجه، ابواب الصلاة والسنة فيها، حدیث نمبر: 912]
علامہ شمس الحق عظیم آبادی المتوفی 1329ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وفيه تحريكها دائما إذ الدعاء بعد التشهد
(یعنی اس حدیث سے پورے تشہد میں انگلی کو حرکت دینا ثابت ہوتا ہے اس لیے کہ دعا تشہد کے بعد سلام تک ہوتی ہے۔)
[عون المعبود، کتاب الصلاة، جلد 3، صفحہ 196، تحت حدیث نمبر: 985]
مشارح سنن نسائی فضیلۃ الشیخ محمد امین حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دورانِ تشہد میں سلام تک انگلی کو حرکت دینا مسنون ہے۔ يُحرِّك فعل مضارع ہے جو یہاں استمرار کا فائدہ دے رہا ہے کیونکہ يَدْعُو بِهَا اس سے حال ہے، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگلی کو حرکت دے رہے تھے، دورانِ حال یہ کہ آپ اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔
[شرح سنن نسائی اردو، جلد 2، صفحہ 440، مکتبہ دار السلام ریاض]
(2) سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:
ووضع يده اليمنى علىٰ فخذه اليميني وأشار بإصبعه
(یعنی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا داہنا ہاتھ داہنی ران پر رکھتے اور انگلی سے اشارہ کرتے)
[صحیح مسلم، کتاب المساجد، حدیث نمبر: 1307 (ترقیم)]
یہی حدیث سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، حدیث نمبر: 988 میں ان الفاظ سے مروی ہے:
وأرانا عبد الواحد وأشار بالسبابة
(یعنی اور راوی حدیث عبد الواحد رحمہ اللہ نے ہمیں دکھایا اور انگشتِ شہادت سے اشارہ کیا۔) یہی روایت سیدنا نمیر الخزاعی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
دیکھیے: سنن نسائی، کتاب السهو، حدیث نمبر: 1272
(3) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور داہنے ہاتھ کے کلمے کی انگلی اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے۔۔۔۔۔۔ الخ
[صحیح مسلم، کتاب المساجد، حدیث نمبر: 1309 (ترقیم)/سنن ابن ماجه، ابواب الصلاة والسنة فيها، حدیث نمبر: 913]
(4) مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی سلام تک انگلی سے اشارہ کرنے کے قائل تھے۔ کہتے ہیں کہ ترمذی کی کتاب الدعوات میں حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کے بعد فلاں دعا پڑھی اور اس میں سبابہ شہادت کی انگلی سے اشارہ فرما رہے تھے، اور ظاہر ہے کہ دعا قریب سلام کے پڑھی جاتی ہے، پس ثابت ہو گیا کہ آخر تک اس کا باقی رکھنا حدیث میں منقول ہے۔
[تذکرۃ الرشید، صفحہ 164، باب تفقه وافتاء، مکتبہ دارالکتاب دیوبند]
(5) امام نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشہد کے لیے نماز میں بیٹھتے تو وہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ لیتے، انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی نظر اشارے یا انگلی پر رکھتے، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بهي أشد على الشيطان من الحديد يعني السبابة
(یعنی انگشتِ شہادت کا یہ اشارہ شیطان کے لیے لوہے کی چوٹ اور اس کی دھار دار چھری یا تلوار سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے)
[مسند احمد، حدیث نمبر: 2000، مترجم جلد 3، صفحہ 377/ مشکوٰۃ، کتاب الصلاۃ، حدیث نمبر: 179، و سندہ حسن]
بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ شیطان پر اتنے حملے کرنے کی بجائے اگر نشانہ تان کر ایک ہی وار کیا جائے تو وہ کارگر ہو سکتا ہے، اس لیے بار بار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے!! عرض ہے کہ ایسا کہنے والے شیطان کے دوست ہیں جو سنتوں کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کے ہاں تو نماز کی بھی کوئی وقعت نہیں۔ اللہ ہمیں ہدایت دے۔
(6) تشہد میں اشارہ کے وقت، شہادت کی انگلی کو تھوڑا سا خم دینا سنت ہے۔
[سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 991، و سندہ حسن/صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر: 716]
(7) أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ پر انگلی اٹھانا اور إِلَّا اللہ پر جھکانا کسی صحیح حدیث تو کیا، ضعیف حدیث سے بھی ثابت نہیں ہے۔ اگر کسی صاحب کے پاس ایسی کوئی روایت ہو تو ہمیں اس کی خبر دیں۔ ہم علانیہ رجوع کریں گے، ورنہ اگر کوئی روایت نہ ملے تو ہم انہیں سنتِ صحیحہ پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔

(8)حرکت نہ دینے والی روایت کا حال:

سنن ابی داؤد [رقم: 989] میں ہے: سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو انگلی سے اشارہ کرتے اور اسے حرکت نہ دیتے تھے۔
یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں محمد بن عجلان مدلس راوی ہے اور وہ عن سے روایت کرتا ہے۔
[ دیکھیے: تقریب التہذیب، ت 6136، صفحہ 553، مکتبہ بیت الافکار الدولیہ، یروشلم، طبع 2000ء]
اصول حدیث کا متفقہ قاعدہ ہے کہ اگر صحیحین (بخاری و مسلم) کے علاوہ کسی روایت میں کوئی مدلس راوی عن سے روایت کرے اور سماع کی تصریح نہ کرے تو اس کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔
[دیکھیے: مقدمہ ابن الصلاح، صفحہ 60، فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 245 وغیرہ]
(9) خلاصہ کلام: اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ تشہد میں بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ بند کر کے دائیں ران پر رکھا جائے۔ ان احادیث میں بند کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کنارے کی دو انگلیاں بند کرے۔ درمیانی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنا کر تشہد کی انگلی کو تھوڑا سا خم دے کر کھلا چھوڑ دے اور سلسلہ وار حرکت دے جس طرح کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
(10) تنبیہ بلیغ: بریلویوں، دیوبندیوں اور حنفیوں کے ہاں انگلی اٹھانے کا طریقہ رائج ہے وہ سند صحیح سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ثابت نہیں۔ کسی کو اس خوش فہمی میں نہ رہنا چاہیے۔ اگر کسی صاحب کے پاس ایسی کوئی سند ہو جو اس مسئلے کو امام صاحب سے ثابت کرے تو ہمیں باخبر کر کے منہ مانگا انعام حاصل کرے، لیکن شرط ہے کہ سند صحیح ہو۔

ایک گذارش

بعض الناس سے جب کسی مسئلے میں سند مانگتے ہیں تو وہ گالیوں پر اتر آتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ تو اپنے باپ کا ہے، کیا تمہارے پاس اس کی سند ہے؟!!! یہ سراسر شرافت کے خلاف ہے۔ بلکہ فرار کا بہانہ ہے۔ گذارش ہے کہ اس معاملے میں ناراض ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سند طلب کرنا کوئی نیا طریقہ نہیں بلکہ پہلے سے ہی چلا آ رہا ہے۔ مثلاً:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
‏ قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ ‎﴿١٠﴾‏
(51-الذاريات:10)
(ہلاک ہو گئے بے سند باتیں کہنے والے)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع
[مقدمہ صحیح مسلم]
(آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات [بغیر تحقیق] کہہ دے)
❀ امام محمد بن سیرین تابعی رحمہ اللہ [وفات: 110ھ] فرماتے ہیں:
إن هذا الحديث دين فانظروا عمن تأخذوه
[الجرح والتعديل لابن ابی حاتم: جلد 2، صفحہ 15، و سندہ صحیح]
(بلا شبہ یہ حدیث دین ہے، لہٰذا تم دیکھو کہ کس سے دین لے رہے ہو)
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ [وفات: 181ھ] فرماتے ہیں:
الإسناد من الدين، ولولا الإسناد قال من شاء ما شاء
[مقدمہ صحیح مسلم، و سندہ صحیح]
(سند دین ہے، اگر سند نہ ہوتی تو ہر کہنے والا، جو اس کے جی میں آتا، کہہ دیتا)
تو عرض ہے کہ اس میں غصہ نہ ہونا چاہیے اور حق کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اللہ ہمیں حق کے سامنے جھکنے کی ہمت عطا فرمائے۔ آمین۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️