مضمون کے اہم نکات
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأولين والآخرين، وعلى آله وصحبه أجمعين ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين أما بعد:
نماز تراویح کی صحیح تعداد بسند صحیح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی ہے یہ مسئلہ ہندوستان میں مدت دراز سے موضوع بحث ہے حالانکہ مسئلہ اتنا واضح ہے کہ اس میں اس قدر بحث کی ضرورت ہے اور نا گنجائش مگر فرقہ بندی کا شکار چند مولوی اس مسئلہ کو الجھائے رکھنے میں ہی اپنی عافیت مانتے ہیں مسئلہ کی دو صورتیں ہیں۔
① رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر شریف میں کتنی رکعت پڑھی ہیں؟ آٹھ یا گیارہ؟
② حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کتنی رکعت پڑھنے کا حکم دیا، آٹھ یا بیس؟
یہ دو باتیں اگر واضح کر دی جائیں تو مسئلہ پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ مگر ہمارے کرم فرما تقلیدی حضرات خصوصاً دیوبندی حضرات مسئلہ کو سلجھانے کے بجائے الجھاتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ اگر صحیح صورت حال واضح ہو گئی تو ہماری پیری مریدی کا کیا ہوگا اور فقہ شریف پر عوام کا اعتماد کہیں متزلزل نہ ہو جائے، اس لئے خلط مبحث سے لے کر بے بنیاد اور بے دلیل دعوے کرنے کی ان حضرات کو بری عادت پڑ چکی ہے جس کا اظہار بار بار کرتے رہتے ہیں۔
اس وقت میرے پیش نظر ایک آٹھ ورقی رسالہ ہے جس کو غیر اہل حدیث مفتی شبیر احمد قاسمی صاحب نے قلم بند فرمایا ہے۔ سارا رسالہ مغالطوں کا پشتارہ ہے، اس بات کا اعتراف کرنے کے باوجود کہ بیس کا ثبوت کسی صحیح صریح مرفوع متصل حدیث سے نہیں ہے۔ موصوف نئے مغالطوں کے ذریعہ بیس رکعت تراویح کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ذیل میں ہم موصوف کی اس کاوش کا جائزہ لیں گے۔ اور دیکھیں گے کہ موصوف کے دعووں کی حقیقت کیا ہے۔
مفتی قاسمی اور ان کا یہ کتابچہ
ناظرین!
قاسمی صاحب نے مسئلہ کو سلجھانے کے بجائے الجھایا ہے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پہلے وہ مسئلہ کی اصل صورت حال بیان کرتے اور پھر وجہ خلاف کیا ہے اس کو بیان کرتے۔ پھر اپنا دعویٰ لکھتے اور اس کے بعد اپنی دلیل لکھتے تا کہ قاری اصل مسئلہ وجہ خلاف اور اس سے نکلنے کی صورت حال پوری طرح سمجھ جاتا اور اس طرح ان شاء الله وہ اس تذبذب سے نکل جاتا جس میں وہ گرفتار ہے۔ لیکن انہوں نے خلط مبحث کرتے ہوئے اصول اربعہ کا ذکر چھیڑ دیا اور ان کی بالکل من مانی طریقے سے تشریح کر ڈالی قیاس کی حجیت کا عنوان لگا کر جو کچھ انہوں نے لکھا ہے وہ ان کی ذہنی پریشانی پر دلالت کرتا ہے۔ اس آٹھ ورقی کتابچہ میں دو صفحات انہوں نے صرف بلا دلیل دعوے کرنے میں صرف کر دیئے۔
کتابچہ کی پہلی ہی لائن میں کہتے ہیں۔
”شریعت کے مسلمہ اصول تین ہیں“
حالانکہ شریعت کے مسلمہ اصول چار ہیں جن میں دو اصل ہیں اور باقی دو انہی دو سے ماخوذ ہیں۔
مفتی ہو کر مسلمہ اصول تین بتلانا اور پھر قیاس کی حجیت کا عنوان قائم کر کے قیاس کی من مانی تشریح کرنا ان کی ذہنی پریشانی کا غماز ہے۔ اگر وہ اصول فقہ حنفی کی درسی کتاب نور الانوار ہی دیکھ لیتے تو شاید ایسی بہکی بہکی باتیں نہ کرتے۔
اجماع کو مفتی صاحب نے صرف اجماع صحابہ تک محدود رکھا ہے چنانچہ کتابچہ کی چھٹی سطر میں نمبر کے تحت اجماع صحابہ کا عنوان لگاتے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ صحابہ کرام کے بعد منعقد ہونے والے اجماع مجتہدین کو اجماع نہیں مانتے ہم کو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر اصول فقہ حنفی میں اصلاح کی ان کی یہ کوشش علماء دیوبند کو پسند آئے گی یا نہیں یہ علماء دیوبند کے سوچنے کی چیز ہے۔
موصوف نے اجماع صحابہ کے لئے جو حدیث پیش کی ہے وہ بھی دعوے سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ دعویٰ موصوف کا اجماع صحابہ کا ہے اور دلیل میں صرف خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنے کا ذکر ہے اور خلفاء راشدین کے اتفاق کو اگر اجماع کہتے ہیں تو یہ تو صرف عہد صدیق ہی تک ممکن ہے آپ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد تو گویا کہ اجماع ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ آپ اجماع بتلا رہے ہو خلفاء راشدین کے کسی امر پر اتفاق کر لینے کو اور صدیق اکبر کے انتقال کے بعد ظاہر ہے چاروں خلفاء کا اتفاق ممکن نہ رہا۔
ناظرین!
اس طرح کے بہت سے سوال کیے جاسکتے ہیں لیکن ہم سر دست ان کو چھوڑتے ہیں آپ کو یہ بتلاتے ہوئے کہ اس حدیث کا اجماع کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور کسی اصولی نے اس کو اجماع کی حجیت کے لئے استعمال نہیں فرمایا۔
قیاس کی حجیت
اس عنوان کے تحت انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اگر دیوبندی علماء کے نزدیک قیاس کی حجیت کا بیان ہے تو ان کو مبارک ہم تو یہی کہیں گے۔
گر ہمیں مفتی و ہمیں افتاء
کار لمت تمام خواہدشد
مفتی صاحب نے جو حدیث حضرت علی کی ذکر کی ہے اور اس کو قیاس کے ثبوت کی دلیل کے طور پر بیان کیا ہے اس سے تو ہمیں یقین ہو چلا ہے کہ مفتی صاحب قیاس اور قیاس کے ارکان اربعہ کسی کو نہیں جانتے، شاید وہ یہ سوچ کر اپنی علمیت کا اظہار فرمارہے ہیں کہ یہ کتابچہ صرف مریدین تک رہے گا اور کوئی اہل علم اس پر نظر نہیں ڈالے گا اور مریدین تو تعصب اور فرقہ بندی کی بیماری سے مجبور ہو کر ان کے حق میں نعرے لگا ہی دیں گے۔
میرا مشورہ ہے مفتی صاحب اہل حدیث دشمنی میں اوٹ پٹانگ باتیں لکھ کر اپنی علمیت کا بھانڈا چورا ہے پر نا پھوڑوائیں۔
اہل حدیث کو اہل سنت سے الگ لکھ کر موصوف نے اپنے اکابر کے منہ پر طمانچہ مارا ہے اس میں ہماری نہیں خود ان کے اکابر کی رسوائی ہے اہل حدیث کو اہل سنت ہونے کی سند کسی مقلد سے لینا کل ضروری تھی اور نا آج، اہل حدیث جانتے ہیں کہ اصلی اہل سنت وہی ہیں جو ہر حال میں سنت کی پیروی کرتے ہیں جو لوگ تقلید امام کو لازم جان کر ہزاروں سنتوں کو یہ کہہ کر ٹال دیں کہ ہمارے امام کا قول اس کے خلاف ہے ہم اس پر عمل نہیں کرتے۔ کیا وہ اہل سنت ہو سکتے ہیں؟
اصول کرخی دیکھ لیں اور موجودہ مقلدوں کی روش بھی ملاحظہ کر لیں۔
قاسمی صاحب کے بلا دلیل دعوے
ناظرین کرام !
قاسمی صاحب نے ایک نہیں دو نہیں تین نہیں چار نہیں دعوے ہی دعوے کر دیئے ہیں اور تعجب یہ ہے کہ ان دعووں پر دلیل نام کی ایک چیز بھی نہیں۔
لکھتے ہیں۔
① صحیح سندوں کے ساتھ یہ بات حدیث کی کتابوں میں موجود ہے کہ بیس رکعت تراویح کے اہتمام کا سلسلہ خلفاء راشدین حضرت عمر کے زمانہ میں ہوا۔
② اور اس کے اوپر تمام صحابہ کرام کا اتفاق ہوا، کسی بھی صحابی نے اس عمل پر نکیر نہیں کی۔
③ اسی کو اجماع صحابہ کہا جاتا ہے۔
④ حضرت عمر کے دور سے بیس رکعت تراویح پر اہتمام کا سلسلہ امت کے سواد اعظم میں ہمیشہ باقی رہا۔
⑤ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پورے دور میں۔
⑥ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں۔
⑦ پھر صحابہ کے پورے دور میں۔
⑧ تابعین تبع تابعین، ائمہ مجتہدین کے زمانوں میں ہمیشہ جاری رہا
⑨ تراویح کا حکم شریعت کے اصول نمبر 3 اجماع صحابہ سے حتمی طور پر ثابت ہوا ہے۔
ناظرین کرام!
یہ ہیں قاسمی صاحب کے 9 دعوے جن میں سے کسی پر انہوں نے کوئی دلیل نہیں دی۔ شاید وہ اپنے فرمائے ہوئے کو مستند مانتے ہیں۔
ہو سکتا ہے آپ کہیں کہ انہوں نے دلیل بیس رکعت تراویح پر صحابہ کا اجماع میں دی ہے۔
تو آؤ پہلے اس کو دیکھ لیں پھر ان دعوؤں پر نظر ڈالیں گے اور ان کی قلعی کھولیں گے۔
آگے بڑھنے سے پہلے:
قاسمی صاحب نے مصنف ابن ابی شیبہ طبرانی، اور بیہقی کی اس روایت کو جس کو عام طور پر بعض دیوبندی مقلدین بطور دلیل پیش کرتے ہیں خود ہی نا قابل استدلال مان لیا ہے۔ لیکن اینچ پینچ لگا کر اس ناکارہ دلیل کو کارآمد بنانے کے لئے حیلہ بازی بھی نہیں چھوڑی ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ طبرانی اور بیہقی کی یہ روایت کسی طرح قابل استدلال نہیں ہے اور یہی واحد ایسی روایت ہے جس میں رسول کی طرف بیس کا انتساب کیا گیا ہے ورنہ تمام احادیث صحیحہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ رکعت سے زیادہ ثابت نہیں۔ جس کا اعتراف خود علماء احناف کو بھی ہے جیسا کہ آئندہ معلوم ہوگا۔
قاسمی صاحب:
یہ تو مانتے ہیں کہ یہ کوئی مستقل دلیل نہیں ہے کیونکہ متکلم فیہ اور ضعیف ہے اور اس کے ضعف پر محدثین کا اتفاق ہے پھر وہ احادیث صحیحہ کے خلاف بھی ہے۔ اس لئے نہ وہ خود دلیل ہے اور نہ وہ کسی کو سہارا ہی دے سکتی ہے۔