سوال:
درج ذیل روایت میں مزمارة الشيطان سے کیا مراد ہے؟
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندي جاريتان تغنيان بغناء بعاث، فاضطجع على الفراش، وحول وجهه. ودخل أبو بكر، فانتهرني وقال: مزمارة الشيطان عند النبى صلى الله عليه وسلم، فأقبل عليه رسول الله عليه السلام فقال: دعهما، فلما غفل غمزتهما فخرجتا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میرے پاس دو بچیاں تھیں، جو بعاث کے متعلق گیت گا رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹ گئے اور چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو مجھے ڈانٹا اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں شیطان کی آوازیں نکالی جا رہی ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور فرمایا: (ابوبکر!) انہیں چھوڑ دیں۔ پھر جب ابو بکر کا دھیان بھٹکا، تو میں نے انہیں جانے کا اشارہ کیا، وہ چلی گئیں۔
(صحيح البخاري: 949، صحیح مسلم: 829)
جواب:
مزمارة الشيطان سے مراد گیت گانا یا دف بجانا ہے۔ لفظ مزمار کے کئی معانی ہیں، یہ سریلی آواز، سیٹی جیسی آواز، یا آلات موسیقی پر بولا جاتا ہے۔ اس حدیث میں بچیاں بعاث کے واقعات سے متعلق گیت گا رہی تھیں اور دف بجا رہی تھیں، جو کہ جائز ہے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اجتہاد میں اسے مزمارة الشيطان کہا، کیونکہ عموماً ایسی آوازیں ذکر الہی سے غافل کر سکتی ہیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اسے نامناسب سمجھا۔ لیکن یہ آلات موسیقی نہیں تھے، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرماتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی، جو اس کے جواز کی دلیل ہے۔
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
قوله: مزمارة الشيطان بكسر الميم يعني الغناء أو الدف لأن المزمارة أو المزمار مشتق من الزمير وهو الصوت الذى له الصفير ويطلق على الصوت الحسن وعلى الغناء وسميت به الآلة المعروفة التى يزمر بها وإضافتها إلى الشيطان من جهة أنها تلهي فقد تشغل القلب عن الذكر قال القرطبي: المزمور الصوت ونسبته إلى الشيطان ذم على ما ظهر لأبي بكر
مزمارة الشيطان سے مراد گیت یا دف ہے، کیونکہ مزمار لفظ زمیر سے نکلا ہے، جس کا معنی سیٹی والی آواز یا خوبصورت آواز ہے۔ اسے گانے اور آلات موسیقی پر بھی بولا جاتا ہے۔ اس کی نسبت شیطان کی طرف اس لیے کی کہ یہ دل کو ذکر الہی سے غافل کر سکتا ہے۔
❀ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (656ھ) فرماتے ہیں:
مزمار سے مراد آواز ہے اور اسے شیطان کی طرف منسوب کرنا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے اجتہاد کے مطابق مذمت کے لیے تھا۔
(فتح الباري: 2/442)
❀ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن عبد الله بن قيس أو الأشعري أعطي مزمارا من مزامير آل داود
عبد اللہ بن قیس یا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو آل داود کی خوبصورت آوازوں میں سے خوبصورت آواز عطا کی گئی ہے۔
(صحیح مسلم: 793)
یہ حدیث دلیل ہے کہ مزمار کا لفظ خوبصورت آواز پر بھی بولا جاتا ہے۔