مریض اور معذور کی نماز کا طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔

مریض اور معذور کی نماز:

❀ارشاد باری تعالی ہے:
فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا
(التغابن: 16)
جس قدر تم میں طاقت ہو اسی قدر اللہ سے ڈرو، اس کے احکام سنو اور اس کی اطاعت کرو۔
❀مریض اور معذور جس طرح آسانی سے نماز ادا کر سکتا ہو، اسی طرح نماز ادا کرے۔ عبد اللہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نماز میں آلتی پالتی مار کر بیٹھے ہیں (تو وجہ بتاتے ہوئے) فرمانے لگے: یہ اس لیے کہ میری ٹانگیں میرا بوجھ نہیں اٹھاتیں۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب سنة الجلوس في التشهد: 827]
❀اس سے ثابت ہوا کہ معذور آدمی کو جیسے سہولت ہو اسی طرح نماز پڑھنا جائز ہے۔ ممکن ہو تو کھڑے ہو کر نماز ادا کرے، ورنہ بیٹھ کر، بیٹھنے کی بھی استطاعت نہیں تو لیٹ کر محض سر کے اشارے سے نماز ادا کر لے۔
[بخاری، کتاب التقصير، باب إذا لم يطق قاعدا صلى على جنب: 1117]
جس حالت میں بآسانی بیٹھ سکتا ہے اسی طرح بیٹھے، جیسا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کیا تھا۔ اسی طرح کرسی وغیرہ پر بھی بیٹھ سکتا ہے۔
بیٹھے ہوئے آدمی میں کھڑے ہونے کی طاقت پیدا ہو گئی تو کھڑا ہو جائے اور لیٹے ہوئے میں بیٹھنے کی طاقت آ گئی تو وہ بیٹھ جائے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز شروع کرتے، جب قراءت میں سے تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے اور کھڑے ہو کر ان کی قراءت کرتے، پھر رکوع اور سجدہ کرتے۔“
[بخاری، کتاب التقصير، باب إذا صلى قاعدا: 1119۔ مسلم: 731/112]
کسی چیز پر ٹیک لگا کر کھڑا ہونا جائز ہے۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الرجل يعتمد في الصلاة على عصا: 948۔ صحیح]
رکوع یا سجدہ میں پوری طرح جھک نہ سکے تو جس قدر ممکن ہو جھکے اور سجدہ میں رکوع کی نسبت زیادہ جھکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مریض کو تکیہ پر سجدہ کرتے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکیہ اٹھا کر پھینک دیا اور فرمایا:
”اگر تجھ میں طاقت ہے تو زمین پر نماز پڑھ، ورنہ اشارے سے پڑھ لے اور سجدہ میں رکوع کی نسبت زیادہ جھک۔“
[السنن الكبرى للبيهقي، کتاب الصلاة، باب الإيماء بالركوع والسجود إذا عجز عنهما: 206/2، حدیث: 3669]
جو شخص جماعت میں حاضر ہونے سے معذور ہو وہ گھر میں نماز ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھائی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی زخم کی وجہ سے زخمی تھے۔
[بخاری، کتاب التقصير، باب صلاة القاعد: 1113۔ مسلم: 412]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾