مریضہ ہوں، رمضان کے کچھ روزے نہیں رکھے کفارہ کیا ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

مریضہ ہوں، رمضان کے کچھ روزے نہیں رکھے کفارہ کیا ہے؟

سوال :۔

میں ایک شادی شدہ مریضہ ہوں۔ میں نے گزشتہ رمضان میں بعض روزے چھوڑے ہیں اور اپنے مرض کی وجہ سے ان کی قضا نہیں دے سکتی۔ ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اسی طرح اس سال بھی میں رمضان کے روزے نہ رکھ سکوں گی۔ ان کا کفارہ کیا ہوگا؟

فتوی :۔

ایسا مریض جس پر روزے شاق ہوں اسے روزہ نہ رکھنا مشروع ہے۔ جب اللہ اسے شفا دے اس کی قضا دے دے جو اس کے ذمہ ہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں :
وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ(البقرہ : 185)
”اور جو تم میں سے مریض ہو یا سفر میں ہو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرلے۔“
لہذا اے سائلہ ! آپ پر روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے تنگی نہیں اور اس مہینہ میں بھی جب تک مرض باقی ہے، روزہ چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ روزہ چھوڑنا مریض اور مسافر کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اس کی رخصتوں کو قبول کیا جائے۔ جیسے اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کی جائے۔
آپ پر کوئی کفارہ نہیں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ آپ کو مرض سے نجات دے تو پھر ان کی قضا لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر بیماری سے شفا دے اور ہماری اور آپ کی بیماریاں دور کرے۔