مضمون کے اہم نکات
مریض اور مالی تصرفات
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
انسان کی حالتِ صحت اور حالتِ مرض اس اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں کہ جب وہ شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے، سمجھ داری کی حالت میں، کوئی مالی تصرف کرتا ہے تو وہ معتبر ہوتا ہے اور اس پر کسی کو اعتراض یا استدراک کا حق نہیں ہوتا۔ اسی لیے حالتِ صحت میں صدقہ و خیرات کرنا، حالتِ مرض کے صدقہ و خیرات کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَأَنفِقوا مِن ما رَزَقنـٰكُم مِن قَبلِ أَن يَأتِىَ أَحَدَكُمُ المَوتُ فَيَقولَ رَبِّ لَولا أَخَّرتَنى إِلىٰ أَجَلٍ قَريبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِنَ الصّـٰلِحينَ ﴿١٠﴾ وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفسًا إِذا جاءَ أَجَلُها وَاللَّهُ خَبيرٌ بِما تَعمَلونَ ﴿١١﴾… سورة المنافقون
"اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں (10) اور جب کسی کا مقرره وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بخوبی باخبر ہے” [المنفقون:63۔10۔11۔]
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَى وَلا تُمْهِلُ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلانٍ كَذَا وَلِفُلانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ”
"تم ایسی حالت میں صدقہ کرو کہ تم تندرست اور مال کے خواہشمند ہو، غنی ہونے کی امید رکھتے ہو، فقر سے ڈرتے ہو، اور صدقہ اتنا مؤخر نہ کرو کہ جب جان حلق تک پہنچ جائے تو کہنے لگو: فلاں کے لیے اتنا ہے اور فلاں کے لیے اتنا ہے، حالاں کہ وہ تو پہلے ہی فلاں فلاں کا ہو چکا۔” [صحیح البخاری الوصایا باب الصدقہ عند الموت حدیث 2748، وصحیح مسلم الزکاۃ باب بیان ان افضل الصدقۃ الصحیح الشیخ حدیث 1032]
مرض کی دو قسمیں
❀ ① ایسا مرض جس میں عموماً موت کا اندیشہ نہیں ہوتا
مثلاً: ڈاڑھ، آنکھ یا سر میں معمولی درد۔ ایسے مریض کے مالی تصرفات کا حکم وہی ہے جو حالتِ صحت میں ہوتا ہے۔ اس حالت میں آدمی اپنا پورا مال بطور عطیہ دے سکتا ہے۔
اور اگر ایسا معمولی مرض بعد میں بڑھ کر خطرناک بن گیا اور اسی کے نتیجے میں وفات ہو گئی، تو اس حالت میں کیا گیا صدقہ اور عطیہ بھی حالتِ صحت کے صدقے ہی کے حکم میں شمار ہو گا۔
❀ ② ایسا مرض جس میں عموماً موت کا خطرہ ہوتا ہے
ایسے مریض کو صدقات و عطیات میں صرف اپنے کل مال کے تہائی تک تصرف کا اختیار ہے۔ لہٰذا اگر اس کے عطیات یا تبرعات تہائی مال یا اس سے کم ہوں تو وہ نافذ ہوں گے، اور اگر تہائی سے زیادہ ہوں تو موت کے بعد ان کا نفاذ ورثاء کی رضا مندی اور اجازت کے بغیر نہیں ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"إنَّ اللَّهَ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ زِيَادَةً لَكُمْ فِي أَعْمَالِكُمْ "
"اللہ تعالیٰ نے تمھیں بوقت وفات اپنے اموال میں سے تہائی مال کی وصیت کی اجازت دے کر مہربانی فرمائی تاکہ تم اپنے نیک اعمال میں اضافہ کر سکو۔” [سنن ابن ماجہ الوصایا باب الوصیۃ بالثک حدیث 2709، مسند احمد 6/441440، سنن الدارقطنی 4/149 حدیث 4245 بلفظ: "زِيَادَةً فِي حَسَنَاتِكُمْ ، لِيَجْعَلَهَا لَكُمْ زَكَاةً فِي أَعْمَالِكُمْ”]
یہ حدیث اور اس باب کی دوسری احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو بوقتِ وفات اپنے کل مال میں سے ایک تہائی تک اپنی مرضی سے خرچ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ جمہور علماء کا یہی مسلک ہے، کیونکہ جب انسان ایسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہو جس سے غالب گمان موت کا ہو، تو ایسے وقت میں پورا مال عطیہ کر دینا ورثاء کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کے عطیہ کو وصیت کی طرح ثلث تک محدود کیا گیا ہے۔
وہ حالات جن میں موت کا خطرہ سامنے ہو
جس طرح مرض الموت کا حکم ہے، اسی طرح ان حالات کا بھی یہی حکم ہے جن میں انسان کو موت کا شدید خطرہ لاحق ہو، مثلاً:
✔ کسی شہر میں خطرناک وبا پھوٹ پڑے۔
✔ کوئی شخص میدانِ جنگ میں شریک ہو۔
✔ کوئی انسان سمندری طوفان میں موجوں کی زد میں آ جائے۔
ان حالات میں بھی تہائی مال سے زیادہ عطیہ کرنا جائز نہیں، الا یہ کہ ورثاء اجازت دے دیں۔
اور اگر اس حالت میں کوئی شخص اپنے کسی ایک وارث کو عطیہ دے کر فوت ہو جائے تو دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغیر وہ عطیہ نافذ نہیں ہو گا۔
البتہ اگر مریض یا خطرے میں مبتلا شخص اس حالت سے نکل آئے تو اس کے تمام عطیات نافذ ہوں گے، کیونکہ رکاوٹ ختم ہو گئی۔
دائمی مریض کا حکم
جو شخص کسی دائمی بیماری میں مبتلا ہو لیکن صاحبِ فراش نہ ہو، تو اس کے صدقات اور عطیات تندرست آدمی کے صدقات کی طرح ہوں گے، اور وہ اپنا پورا مال فی سبیل اللہ خرچ کر سکتا ہے، کیونکہ ایسی بیماری میں موت جلدی آ جانے کا خوف نہیں ہوتا، لہٰذا یہ بڑھاپے کے حکم کی مانند ہے۔
لیکن اگر وہ دائمی مرض کی وجہ سے صاحبِ فراش بھی ہو، تو پھر اس کا حکم اسی شخص کا ہے جو خطرناک مرض میں مبتلا ہو۔ وہ غیر وارث کے حق میں تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہیں کر سکتا، اور وارث کے حق میں وصیت بھی تبھی درست ہو گی جب دوسرے ورثاء اس کی اجازت دیں۔
ثلث مال کا اعتبار کب ہو گا؟
تہائی مال کی مقدار کا اعتبار وقتِ وفات کے ساتھ ہو گا، کیونکہ وصیتوں کے لازم ہونے اور ان کے استحقاق کا وقت یہی ہے، اور ثلث مال سے وصیت و عطیہ بھی اسی وقت نافذ ہوتے ہیں۔
اگر ترکہ کم ہو تو عطیات، وصایا پر مقدم ہوں گے، کیونکہ وہ مریض کے حق میں لازم ہوتے ہیں، جیسا کہ حالتِ صحت میں بھی عطیہ دینا وصیت پر مقدم ہوتا ہے۔
عطیہ اور وصیت میں چار فرق
❀ ① ترتیب کا اعتبار
وصیت میں یہ لحاظ نہیں رکھا جاتا کہ جس کے حق میں پہلے وصیت کی گئی اسے پہلے دیا جائے اور جس کے حق میں بعد میں کی گئی اسے بعد میں، کیونکہ وصیت موت کے بعد ایک تبرع ہے جو یکبارگی واقع ہوتا ہے۔
اس کے برعکس عطیہ میں تقدیم و تاخیر کا اعتبار ہو گا، یعنی جسے پہلے عطیہ دیا گیا ہو وہ پہلے مستحق ہو گا، کیونکہ عطیہ دینے والے کے حق میں وہ لازم ہو چکا ہے۔
❀ ② رجوع کا حکم
عطیہ پر جب قبضہ ہو جائے تو عطیہ دینے والا اسے واپس نہیں لے سکتا، بخلاف وصیت کے، کیونکہ وصیت موت کے بعد لازم ہوتی ہے، لہٰذا موصی اپنی زندگی میں وصیت سے رجوع کر سکتا ہے۔
❀ ③ قبول کا وقت
عطیہ میں قبول کا اعتبار اسی وقت ہو گا جب عطیہ دیا جائے، کیونکہ یہ فوری ملکیت ہے۔
وصیت میں چونکہ تملیک موت کے بعد ثابت ہوتی ہے، اس لیے اس میں قبول کا اعتبار موت کے بعد ہو گا۔
❀ ④ ملکیت کا ثبوت
عطیہ میں قبول کرتے ہی ملکیت ثابت ہو جاتی ہے، بخلاف وصیت کے، کیونکہ اس میں موت سے پہلے ملکیت ثابت نہیں ہوتی، بلکہ اس کی تملیک موت کے بعد ہوتی ہے۔
وصیت کے احکام
وصیت کے لغوی معنی "ملانے” کے ہیں، کیونکہ اس کے ذریعے زندگی کے بعض معاملات کو موت کے بعد کے بعض معاملات کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے، اور وصیت کرنے والا بھی اپنے بعض ایسے تصرفات کو، جو زندگی میں جائز تھے، بعد از وفات جاری رکھنے کے لیے ملا دیتا ہے۔
فقہاء کی اصطلاح میں وصیت کا معنی یہ ہے: "ترکے کے ایک مخصوص حصے کو موت کے بعد کسی شخص یا کسی مصرف میں صرف کرنے کا حکم دینا”
یا دوسرے الفاظ میں: "موت کے بعد مال کے ذریعے تبرع کرنا”
وصیت کی مشروعیت
وصیت کی مشروعیت کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع سے ثابت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ كُتِبَ عَلَيكُم إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ المَوتُ إِن تَرَكَ خَيرًا الوَصِيَّةُ لِلوٰلِدَينِ وَالأَقرَبينَ بِالمَعروفِ حَقًّا عَلَى المُتَّقينَ ﴿١٨٠﴾… سورة البقرة
"تم پر فرض کر دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور مال چھوڑے جا رہا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے اچھائی کے ساتھ وصیت کر جائے۔ پرہیز گاروں پر یہ حق اور ثابت ہے۔” [البقرۃ:2/180۔]
نیز فرمایا:
﴿مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ يوصىٰ بِها أَو دَينٍ… ﴿١٢﴾… سورة النساء
"(یہ تقسیم) اس کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہو گی۔” [النساء:4/11۔]
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ؛ زِيَادَةً فِي حَسَنَاتِكُمْ”
"اللہ تعالیٰ نے تم پر مہربانی کی کہ بوقت وفات تہائی مال خرچ کرنے کا حکم دیا تاکہ تمھاری نیکیاں زیادہ ہو جائیں۔” [(ضعیف) سنن ابن ماجہ الوصایا باب الوصیہ بالثک حدیث 2709، سنن الدارقطنی 4/149 حدیث 4245]
وصیت کے جواز پر امت کے علماء کا اجماع ہے۔
وصیت کب واجب اور کب مستحب ہوتی ہے؟
وصیت کبھی واجب ہوتی ہے اور کبھی مستحب۔
❀ واجب وصیت
ہر اس حق کے بارے میں وصیت کرنا واجب ہے جو یا تو اس کا دوسروں پر ہو یا دوسروں کا اس پر ہو، یعنی لین دین سے متعلق حقوق ہوں اور ان کے ثبوت کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود نہ ہو۔ ایسے حقوق کے ضائع ہونے سے بچانے کے لیے وصیت لازم ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، لَهُ شَيْءٌ يُوصَى فِيهِ ، يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ "
"کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اگر وہ کسی چیز کی وصیت کرنا چاہتا ہو تو دو راتیں اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔” [صحیح البخاری الوصایا باب الوصایا حدیث 2738، وصحیح مسلم الوصیہ باب وصیہ الرجل مکتوبۃ عندہ حدیث 1627]
لہٰذا اگر اس کے پاس لوگوں کی امانتیں ہوں یا اس پر لوگوں کے حقوق واجب ہوں، تو ان کو لکھنا اور واضح کرنا اس پر فرض ہے۔
❀ مستحب وصیت
یہ وہ وصیت ہے کہ ایک شخص اپنے مال کا ایک معین حصہ کسی نیکی کے کام میں لگانے کی وصیت کرے تاکہ بعد از وفات بھی اسے ثواب پہنچتا رہے۔ ایسے موقع پر شریعت نے زیادہ سے زیادہ تہائی مال تک وصیت کی اجازت دی ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم مہربانی ہے تاکہ انسان زیادہ سے زیادہ نیکیاں جمع کر سکے۔
سمجھ دار بچے کی وصیت
سمجھ دار بچے کی وصیت درست ہے، جیسے اس کی نماز درست ہوتی ہے۔
اور جب موصی اپنی وصیت پر کسی کو گواہ بنا دے یا خود اپنے ہاتھ سے لکھ دے، تو وصیت ثابت ہو جاتی ہے۔
تہائی سے کم وصیت افضل ہے
وصیت کے احکام میں یہ بھی شامل ہے کہ وصیت تہائی مال یا اس سے کم ہو۔ بعض علماء کے نزدیک مستحب یہ ہے کہ وصیت تہائی سے بھی کم ہو۔
یہ رائے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے۔
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی بنا پر:
﴿وَاعلَموا أَنَّما غَنِمتُم مِن شَىءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ…﴿٤١﴾… سورة الانفال
"اور (اے مسلمانوں!) جان لو کہ تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو، اس میں سے پانچواں حصہ یقیناً اللہ کا ہے۔” [الانفال: 8/41۔]
فرمایا: "میں خمس (پانچویں حصے) کی وصیت کو پسند کرتا ہوں۔” [(ضعیف) السنن الکبری للبیہقی 6/270، ارواء الغلیل 6/85 حدیث 1649]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "میں چوتھائی مال کے بجائے پانچویں حصے کی وصیت کو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔” [(ضعیف) السنن الکبری للبیہقی 6/270، ارواء الغلیل 6/85 حدیث 1650]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: "کاش لوگ تہائی مال کے بجائے چوتھائی مال کی وصیت کیا کریں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:”
"الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ "
"ایک تہائی کی وصیت درست تو ہے لیکن تہائی مال زیادہ ہے۔” [سنن ابی داؤد الوصایا باب ماجاءفی الوصیہ للوارث 2870، جامع الترمذی الوصایا باب ماجاءفی الاوصیہ لوارث حدیث 2120، مسند احمد 4/186۔187]
وارث موجود ہوں تو تہائی سے زیادہ وصیت کا حکم
جس شخص کے وارث موجود ہوں، اس کے لیے تہائی مال سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں۔
البتہ اگر ورثاء راضی ہوں اور اجازت دے دیں تو تہائی سے زیادہ کی وصیت بھی درست ہو سکتی ہے، کیونکہ تہائی سے زائد مال میں ورثاء کا حق متعلق ہوتا ہے۔ جب حق دار خود اپنا حق چھوڑ دے تو یہ درست ہے۔
اور اس اجازت کا اعتبار موت کے بعد ہو گا۔
وارث کے حق میں وصیت
وصیت کے احکام میں سے ایک اہم حکم یہ ہے کہ کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَاوَصِيَّةَ لِوَارِثٍ”
"وارث کے حق میں وصیت نہیں۔” [صحیح البخاری الجنائز باب رثاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن خولہ حدیث 1295، السنن الکبری للبیہقی 6/269]
شیخ تقی الدین ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "امت کا اس مسئلے پر اجماع ہے۔” [منہاج السنہ النبویہ 2/160]
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "یہ حدیث متواتر ہے۔”
اور مزید فرماتے ہیں کہ ہم نے اہل فتویٰ اور ان اہل علم کو، جن سے ہم نے علم حاصل کیا، قریش اور غیر قریش میں ایسا پایا کہ ان کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا: وارث کے لیے وصیت نہیں ہے۔ اور وہ اپنے سے پہلے اہل علم سے بھی یہی بات نقل کرتے ہیں۔ [المجموع للنووی 16/374]
البتہ اگر ورثاء اجازت دے دیں تو وارث کے حق میں وصیت درست ہو گی، کیونکہ وہ اپنا حق خوش دلی سے چھوڑ رہے ہیں۔ اور غیر وارث کے حق میں وصیت، نیز وارث کے حق میں ایک تہائی تک وصیت کی اجازت ورثاء کی طرف سے اسی وقت معتبر ہو گی جب مرنے والا مرض الموت میں مبتلا ہو یا وفات پا چکا ہو۔
کس شخص کے لیے وصیت مناسب ہے؟
وصیت کے احکام میں یہ بھی شامل ہے کہ وصیت وہ شخص کرے جس کے پاس مال کثیر ہو اور اس کے ورثاء محتاج نہ ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿كُتِبَ عَلَيكُم إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ المَوتُ إِن تَرَكَ خَيرًا الوَصِيَّةُ…﴿١٨٠﴾… سورة البقرة
"تم پر فرض کر دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور مال چھوڑے جا رہا ہو تو وصیت کر جائے۔” [البقرۃ:2/180۔]
عرف میں "خیر” سے مراد "مالِ کثیر” ہے۔
اگر صورت حال اس کے برعکس ہو، یعنی مال کم ہو یا ورثاء محتاج ہوں، تو وصیت کرنا مکروہ ہے، کیونکہ اس میں محتاج اقارب کو چھوڑ کر دوسروں کو نوازنا لازم آتا ہے، اور یہ درست نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا:
"إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ "
"اپنے ورثاء کو مالدار بنا کر چھوڑ جانا اس سے بہتر ہے کہ انہیں ایسی حالت میں چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔” [صحیح البخاری الجنائز باب رثاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن خولہ حدیث 1295]
امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "اجر و ثواب کے اعتبار سے سب سے افضل مال وہ ہے جو انسان اپنی اولاد کے لیے چھوڑ جائے، جس سے وہ لوگوں سے بے نیاز ہو جائیں۔” [المغنی والشرح الکبیر 6/447]
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا: "تم جو تھوڑا مال چھوڑ کر جا رہے ہو، اسے اپنے ورثاء ہی کے لیے رہنے دو۔” [تفسیر ابن کثیر 1/180، البقرۃ:2/180]
اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کوئی وصیت نہیں کی تھی۔
ورثاء کو نقصان پہنچانے والی وصیت
اگر کوئی موصی وصیت کے ذریعے اپنے ورثاء کو نقصان پہنچانا چاہے، تو یہ کام حرام اور گناہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"غَيْرَ مُضَارٍّ "
"جبکہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے والا نہ ہو۔” [النساء:4/12۔]
حدیث میں ہے:
"إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةُ بِطَاعَةِ اللَّهِ سِتِّينَ سَنَةً ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ "
"بے شک ایک مرد اور عورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ساٹھ سال عمل کرتے رہتے ہیں، پھر جب ان کو موت آتی ہے تو وہ وصیت کے ذریعے ورثاء کو نقصان پہنچاتے ہیں، پس ان پر جہنم واجب ہو جاتی ہے۔” [(ضعیف) سنن ابی داؤد الوصایا باب ماجاءفی کراھیۃالاضرارفی الوصیہ حدیث 2867، جامع الترمذی الوصایا باب ماجاءفی الضرر فی الوصیۃ حدیث 2117 واللفظ لہ، سنن ابن ماجہ الوصایا باب الحیففی الوصیہ حدیث 2754، مسند احمد 2/278]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
” الإضرار في الوصية من الكبائر "
"وصیت کے ذریعے کسی وارث کو نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔” [السنن الکبری للنسائی 6/320]
امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے فرمان "غَيْرَ مُضَارٍّ” کا مطلب یہ ہے کہ موصی ایسی وصیت کرے جس میں ورثاء کا کسی بھی طریقے سے نقصان نہ ہو، مثلاً کسی ایسی چیز کا اقرار کر دے جو حقیقت میں اس کے ذمے نہ ہو، یا محض ورثاء کو نقصان پہنچانے کی نیت سے وصیت کرے، یا کسی وارث کے حق میں مطلق وصیت کر دے، یا کسی غیر وارث کے لیے تہائی سے زیادہ وصیت کر دے جس پر ورثاء راضی نہ ہوں۔
یہ تمام صورتیں باطل اور مردود ہیں، اور ان میں سے کوئی صورت نافذ نہ ہو گی، چاہے وصیت ثلث کی ہو یا اس سے کم کی۔ واللہ اعلم۔ [تفسیر فتح القدیر 1/487]
جس کا کوئی وارث نہ ہو
وصیت کے احکام میں سے ایک حکم یہ بھی ہے کہ جس شخص کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اپنے پورے مال کی وصیت کر سکتا ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تھا:
"إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ "
"اگر تو اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں ایسی حالت میں چھوڑے کہ وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائیں۔” [صحیح البخاری الجنائز باب رثاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن خولہ حدیث 1295]
اس روایت میں سارے مال کی وصیت سے ممانعت ورثاء کی وجہ سے ہے، تاکہ وہ محتاج نہ ہو جائیں۔
لیکن اگر کسی کے وارث ہی نہ ہوں تو پھر پورے مال کی وصیت جائز ہو گی، کیونکہ اس میں کسی وارث یا قرض خواہ کے حق کا تعلق نہیں۔ اس صورت میں یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص صحت کی حالت میں اپنا سارا مال صدقہ کر دے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اس کا جواز منقول ہے، اور اہل علم کی ایک جماعت بھی اسی کی قائل ہے۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "صحیح بات یہی ہے کہ جس کا کوئی وارث نہ ہو، اسے پورے مال کی وصیت کا اختیار ہے۔ ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت سے شریعت نے وارثوں کی موجودگی کی وجہ سے روکا ہے۔ جس کا کوئی وارث نہ ہو، اس کے مالی تصرفات پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔” [اعلام الموقعین 4/35]
جب تہائی مال تمام موصیٰ لہُم کے لیے کافی نہ ہو
اگر موصی نے تہائی مال کی وصیت کی، لیکن وہ مال تمام موصیٰ لہُم کو حسبِ وصیت پورا نہ مل رہا ہو، بلکہ کم پڑ رہا ہو، اور ورثاء وصیت شدہ تہائی سے زیادہ خرچ کرنے کی اجازت بھی نہ دیں، تو ہر موصیٰ لہ کو اس کی وصیت کے تناسب سے کم حصہ ملے گا، اور سب کی باہمی نسبت برقرار رہے گی۔ اس میں تقدیم و تاخیر کا لحاظ نہیں ہو گا، کیونکہ ہر ایک کو موصی کی موت کے بعد تبرعاً مال مل رہا ہے، لہٰذا مال یکبارگی تقسیم ہو گا، اگرچہ اصل حق سے کم۔
یہ حکم اس مسئلہ کی طرح ہے جسے مسئلہ عائلہ کہتے ہیں، جس میں ہر وارث کو اپنے مقررہ حصے سے کم ملتا ہے۔
مثال
اگر کسی نے ایک شخص کے لیے 100 روپے، دوسرے کے لیے بھی 100 روپے، تیسرے کے لیے 50 روپے، چوتھے کے لیے 30 روپے اور پانچویں کے لیے 20 روپے کی وصیت کی، جبکہ ترکے کا تہائی مال صرف 100 روپے ہو، اور مجموعی وصیت 300 روپے بنتی ہو، تو ہر موصیٰ لہ کو اس کے لیے مقرر وصیت کا ایک تہائی حصہ دیا جائے گا۔
یعنی:
✔ 100 روپے کی وصیت والے کو 33 روپے 33 پیسے کے قریب
✔ دوسرے 100 روپے والے کو بھی اتنا ہی
✔ 50 روپے والے کو تقریباً 16 روپے 66 پیسے نہیں، بلکہ اصل متن کے مطابق تیسرے والے کو دس روپے لکھا گیا ہے، اور علی ہٰذا القیاس باقیوں کا حساب ہو گا۔
وصیت کے صحیح یا باطل ہونے کا اعتبار وقتِ موت سے ہو گا
وصیت کی صحت یا عدمِ صحت کا اعتبار وقتِ وفات سے ہو گا۔
مثلاً اگر کسی نے کسی وارث کے حق میں وصیت کر دی، لیکن وقتِ موت وہ شخص وارث نہ رہا، تو اس کے حق میں وصیت جائز ہو گی۔
جیسے: ایک بھائی کے حق میں وصیت کی گئی، جو ابتدا میں وارث تھا، لیکن بعد میں میت کے ہاں بیٹا پیدا ہو گیا، تو اب بھائی وارث نہ رہا، لہٰذا اس کے حق میں وصیت جائز ہو گی۔
اس کے برعکس اگر کسی شخص کے حق میں غیر وارث سمجھ کر وصیت کی گئی، لیکن وقتِ موت وہی شخص وارث بن گیا، تو ورثاء کی اجازت کے بغیر وصیت درست نہیں ہو گی۔
مثلاً: بیٹے کی موجودگی میں بھائی کے حق میں وصیت کی گئی، جو اس وقت درست تھی، لیکن موصیٰ کی موت سے پہلے اس کا بیٹا فوت ہو گیا، تو اب بھائی وارث بن گیا، لہٰذا اب ورثاء کی اجازت کے بغیر اس بھائی کے حق میں وصیت درست نہ رہے گی۔
اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ وصیت کو قبول کرنا اور وصیت شدہ چیز پر قبضہ کرنا موصیٰ کی موت کے بعد ہو گا، اس سے پہلے نہیں، کیونکہ حق بھی موت کے وقت ثابت ہوتا ہے۔
ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ہمیں اہل علم کے درمیان اس مسئلے میں کوئی اختلاف معلوم نہیں کہ وصیت کا اعتبار موت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر وصیت غیر معین افراد کے لیے ہو، جیسے فقراء و مساکین، یا بہت سے افراد مثلاً بنو تمیم قبیلے کے لیے، یا کسی مصلحت مثلاً مسجدوں کے لیے، تو اس میں قبول شرط نہیں، بلکہ محض موت کے ساتھ وصیت لازم ہو جاتی ہے۔ اور اگر وصیت کسی معین شخص کے لیے ہو تو بعد از موت قبول سے لازم ہو گی۔” [المغنی والشرح الکبیر 6/460۔473]
وصیت سے رجوع
موصی اپنی وصیت سے کلی یا جزوی طور پر رجوع کر سکتا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے: "آدمی اپنی وصیت میں حسبِ خواہش ترمیم کر سکتا ہے۔” [سنن الدارمی الوصایا باب الرجوع الوصیۃ حدیث 32123211، والتلخیص الجیر 3/96 حدیث 1380]
اہل علم کا اس پر اتفاق ہے۔
لہٰذا اگر وہ کہے: "میں نے وصیت سے رجوع کر لیا” یا "میں نے وصیت منسوخ کر دی” تو وصیت منسوخ ہو جائے گی، کیونکہ وصیت کے لازم ہونے میں موصی کی موت معتبر ہے، اس لیے زندگی میں اسے رجوع کا حق ہے۔
مثلاً اگر اس نے کہا: "اگر زید آ گیا تو جو کچھ میں نے عمرو کے حق میں وصیت کی ہے وہ زید کو دے دینا۔”
اب اگر زید موصی کی زندگی میں آ گیا تو وصیت کا مال زید کو ملے گا، کیونکہ موصی نے عمرو والی وصیت سے رجوع کر لیا۔
لیکن اگر زید موصی کی وفات کے بعد آیا تو وصیت عمرو ہی کے لیے ہو گی، کیونکہ زید کے آنے سے پہلے موصی فوت ہو چکا تھا، اور پہلی وصیت متعین ہو گئی۔
قرض، وصیت سے پہلے ادا ہو گا
وصیت کے نفاذ سے پہلے لوگوں کے قرض اور اللہ تعالیٰ کے قرضے، یعنی واجباتِ شرعیہ، مثلاً زکاۃ، حج، نذر اور کفارے ادا کیے جائیں گے، اگرچہ میت نے ان کی وصیت نہ بھی کی ہو۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ يوصىٰ بِها أَو دَينٍ… ﴿١٢﴾… سورة النساء
"یہ حصے اس وصیت کی تکمیل کے بعد ہیں جو مرنے والا کر گیا ہو یا ادائے قرض کے بعد۔” [النساء:4/11۔]
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے:
"إن النبي صلى الله عليه وسلم قضى بالدين قبل الوصية "
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔” [صحیح البخاری الوصایا باب "مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ” قبل حدیث 2750، جامع الترمذی الوصایا باب ماجاء یدا یالدین قبل الوصیۃ حدیث 2122، مسند احمد 1/79۔131]
صحیح بخاری میں ہے:
"اقْضُوا اللَّهَ ، فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ "
"اللہ تعالیٰ کے قرض ادا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قرضوں کی ادائیگی زیادہ حق رکھتی ہے۔” [صحیح البخاری جزاء الصید باب الحج والنذور عن المیت حدیث 1852]
خلاصہ یہ ہے کہ ترتیب یہ ہو گی:
❀ پہلے قرض ادا ہوں گے۔
❀ پھر وصیت نافذ ہو گی۔
❀ پھر ترکہ تقسیم ہو گا۔
اس ترتیب پر علماء کا اجماع ہے۔
اگرچہ وصیت کا نفاذ ادائے قرض سے مؤخر ہے، لیکن قرآن مجید میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے آیا ہے۔ اس میں یہ حکمت ہے کہ وصیت میراث کی طرح بلا عوض ہوتی ہے، اس لیے انسان پر اس کا نکالنا گراں گزرتا ہے، جب کہ قرض خواہ اپنا قرض زور سے بھی لے سکتا ہے اور انسان کو ویسے بھی قرض کی فکر ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن میں وصیت کا ذکر رغبت دلانے اور اہمیت جتانے کے لیے پہلے کیا گیا۔
اور آیت میں (أَوْ) کا لفظ آیا ہے، جس کا یہاں معنی برابری کا ہے، یعنی وصیت اور قرض دونوں اہم ہیں، اگرچہ ادائیگی میں قرض مقدم ہے۔
جائز وصیت میں تبدیلی کی وعید
وصیت کا معاملہ بہت اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جائز وصیت نافذ کرنے کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ اسی لیے اس کے ذکر کو اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا۔ جو شخص جائز وصیت کے نفاذ میں کوتاہی کرے یا کسی شرعی دلیل کے بغیر اس میں تبدیلی کرے، اس کے لیے سخت وعید آئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَمَن بَدَّلَهُ بَعدَ ما سَمِعَهُ فَإِنَّما إِثمُهُ عَلَى الَّذينَ يُبَدِّلونَهُ إِنَّ اللَّهَ سَميعٌ عَليمٌ ﴿١٨١﴾… سورة البقرة
"اب جو شخص اسے سننے کے بعد بدل دے، اس کا گناہ بدلنے والوں ہی پر ہو گا، واقعی اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔” [البقرۃ:12۔18۔]
امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: "تبدیل، تغیر کو کہتے ہیں۔ آیت میں مذکور اس تبدیلی کے نتیجے میں وعید اس شخص کے لیے ہے جو ایسی وصیت کو بدل دے جو حق کے مطابق ہو اور اس میں نہ زیادتی ہو نہ کمی۔ لہٰذا بدلنے والا گناہ گار ہو گا، البتہ موصی پر اس کا کوئی بوجھ نہیں ہو گا، کیونکہ وہ وصیت میں برحق تھا۔” [تفسیر فتح القدیر 1/195]
کس کے حق میں وصیت جائز ہے؟
وصیت ہر اس شخص کے لیے جائز ہے جو مالک بننے کی اہلیت رکھتا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِلّا أَن تَفعَلوا إِلىٰ أَولِيائِكُم مَعروفًا… ﴿٦﴾… سورةالاحزاب
"(ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو۔” [الاحزاب:33۔6۔]
حضرت محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں: "اس آیت میں یہودی یا نصرانی کے لیے مسلمان کی وصیت کے جواز کی دلیل ہے۔” [تفسیر الطبری 21/124]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مشرک بھائی کو کپڑا دیا تھا۔ [صحیح مسلم اللباس والزینہ باب تحریم لیس الحریر وغیر ذلک للرجال حدیث 2068]
سیدہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی مشرکہ ماں کے ساتھ، جو ان سے تعلق رکھنا چاہتی تھی، صلہ رحمی کی تھی۔ [صحیح البخاری الھیۃ وفضلہا باب الھدیہ للمشرکین حدیث 2620]
ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے یہودی بھائی کے حق میں تہائی ترکہ کی وصیت کی تھی۔ [سنن الدارمی الوصایا باب الوصیۃ حدیث الاھل الذمۃ حدیث 3299، والتلخیص الجیر 3/93 حدیث 1380]
اور اس کے جواز میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿لا يَنهىٰكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذينَ لَم يُقـٰتِلوكُم فِى الدّينِ وَلَم يُخرِجوكُم مِن دِيـٰرِكُم أَن تَبَرّوهُم وَتُقسِطوا إِلَيهِم إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُقسِطينَ ﴿٨﴾… سورة الممتحنة
"جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمھیں جلا وطن نہیں کیا، ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ بھلا برتاؤ کرنے سے اللہ تمھیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔” [الممتحنہ:60۔8۔]
کافر کے حق میں وصیت کی حدود
کسی معین کافر کے حق میں مسلمان کا وصیت کرنا درست ہے، جیسا کہ گزر چکا۔
لیکن غیر معین کافر کے حق میں وصیت درست نہیں، مثلاً یہود و نصاریٰ یا ان کے فقراء کے لیے عمومی وصیت کرنا۔
اسی طرح کسی معین کافر کو وصیت کے ذریعے ایسی چیز کا مالک بنانا بھی جائز نہیں جس کا اس کے لیے مالک بنانا شرعاً درست نہ ہو، مثلاً:
✔ نسخۂ قرآن
✔ مسلمان غلام
✔ اسلحہ
حمل کے حق میں وصیت
ماں کے پیٹ میں موجود بچے کے حق میں وصیت جائز ہے، بشرطیکہ وقتِ وصیت اس کا پیٹ میں ہونا ثابت ہو۔
اس کا علم اس طرح ہو گا کہ اگر حاملہ عورت وصیت کے وقت سے پورے چھ ماہ کے اندر بچہ جنے، بشرطیکہ اس کا شوہر یا مالک موجود ہو۔
اور اگر وہ شوہر یا آقا والی نہ ہو تو چار سال سے کم مدت میں بچہ پیدا ہو۔
کیونکہ جب ایسا حمل وارث بن سکتا ہے تو اس کے حق میں وصیت بدرجہ اولیٰ جائز ہو گی۔ [یہ مسئلہ محل نظر ہے۔]
اگر بچہ مردہ پیدا ہو تو اس کے حق میں کی گئی وصیت باطل ہو جائے گی۔
البتہ ایسے بچے کے حق میں وصیت درست نہیں جس کا وجود وقتِ وصیت پیٹ میں موجود نہ ہو، مثلاً کوئی کہے: "میں اس حمل کے حق میں وصیت کرتا ہوں جو آئندہ فلاں عورت کے پیٹ میں ہو گا۔”
حج کے لیے وصیت
اگر کسی نے بڑی مالیت کے بارے میں یہ وصیت کی کہ: "اس مال سے میری طرف سے حج کیا جائے”
تو اس مال سے بار بار حج کروایا جائے گا یا کئی افراد بھیجے جائیں گے، یہاں تک کہ وہ رقم ختم ہو جائے۔
اور اگر رقم کم ہو تو جس قدر حج میں خرچ ہو سکتی ہو اتنی خرچ کی جائے گی۔
لیکن اگر موصی نے کہا ہو کہ میری یہ بڑی رقم ایک ہی حج میں خرچ کی جائے، تو اسے ایک ہی حج میں خرچ کیا جائے گا، کیونکہ موصی کا مقصد بظاہر حج کرنے والے کو زیادہ سے زیادہ فائدہ، راحت اور آسانی پہنچانا ہے۔
وصیت کے مال سے کون فائدہ نہیں اٹھا سکتا؟
جس شخص کو وصیت نافذ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہو، وہ وصیت کے مال سے خود حج نہیں کر سکتا۔
اسی طرح جو شخص وراثت میں حصہ دار ہو، وہ بھی اس وصیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، کیونکہ بظاہر موصی کا مقصد اس کے علاوہ دوسروں کو فائدہ پہنچانا ہے۔
جس میں مالک بننے کی صلاحیت نہ ہو
جس میں مالک بننے کی اہلیت نہ ہو، اس کے حق میں وصیت درست نہیں، مثلاً:
✔ جن چوپایہ
✔ میت
معصیت کے کاموں میں وصیت
گناہ اور معصیت کے کاموں میں وصیت کرنا جائز نہیں، مثلاً:
✔ گرجا گھروں یا کفار و مشرکین کے معبد خانوں کی تعمیر کے لیے وصیت
✔ مزاروں کی تعمیر کے لیے وصیت
✔ ان پر چراغاں کے لیے وصیت
✔ ان کے مجاوروں کے لیے وصیت
اس حکم میں موصی کا کافر ہونا یا مسلمان ہونا برابر ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "اگر کسی ذمی نے اپنے مال کو اپنی کسی عبادت گاہ کے لیے وقف کرنے کی وصیت کی تو مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ اس کے جواز کا فتویٰ دیں، کیونکہ انہیں وہی فتویٰ دینا چاہیے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، اور اللہ کا حکم یہ ہے کہ کفر، فسق اور معصیت کے کاموں میں باہمی تعاون نہ کرو۔ لہٰذا کفر و عصیان کی جگہوں کے لیے مال وقف کرنے میں تعاون کیسے جائز ہو سکتا ہے؟”
اسی طرح منسوخ شدہ کتابوں، مثلاً تورات و انجیل، یا گمراہ کن کتابوں کی اشاعت و طباعت کی وصیت بھی درست نہیں، جیسے زندیقوں اور ملحدوں کی کتابیں۔
موصیٰ بہ کی نوعیت
وصیت کے احکام میں یہ بھی ہے کہ موصیٰ بہ یعنی جس چیز کی وصیت کی گئی ہو، وہ مال کی صورت میں ہو یا اس سے جائز منافع حاصل ہو سکے، اگرچہ اس کی سپردگی پر فی الحال قدرت نہ ہو۔
مثلاً:
✔ فضا میں موجود پرندے کے بارے میں وصیت
✔ جانور کے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں وصیت
✔ جانور کے تھنوں میں موجود دودھ کے بارے میں وصیت
✔ معدوم چیز کے بارے میں وصیت، جیسے کسی نے وصیت کی کہ اس کے جانور کے پیٹ میں جو بچہ ہو گا یا فلاں درخت کا پھل ہمیشہ کے لیے یا ایک سال کے لیے تمھارا ہو گا۔
اگر اس معدوم شے سے بعد میں کچھ حاصل ہو گیا تو وہ موصیٰ لہ کا ہو گا، ورنہ وصیت باطل ہو جائے گی، کیونکہ وصیت نافذ ہونے کا محل باقی نہ رہا۔
مجہول چیز کی وصیت
مجہول چیز کی وصیت بھی درست ہے، مثلاً اگر کسی نے کسی شخص کے لیے غلام یا بکری کی وصیت کی، تو موصیٰ لہ کو کوئی غلام یا کوئی بکری دے دی جائے گی۔
وصیت کے بعد حاصل ہونے والا نیا مال
اگر موصی نے تہائی مال کی وصیت کی، پھر وصیت کے بعد اسے مزید مال حاصل ہو گیا، تو تہائی میں یہ نیا مال بھی شامل ہو گا، کیونکہ تہائی مال سے مراد وہ تہائی ہے جو وقتِ وفات موجود ہو، نہ کہ وہ جو وقتِ وصیت تھا۔
اگر وصیت کردہ مخصوص چیز ضائع ہو جائے
اگر موصی نے کسی شخص کے لیے اپنے مال میں سے کوئی مخصوص چیز وصیت کی، لیکن وہ چیز موصی کی موت سے پہلے یا بعد میں ضائع ہو گئی، تو وصیت باطل ہو جائے گی، کیونکہ وصیت کردہ چیز کے تلف ہو جانے سے موصیٰ لہ کا حق بھی ختم ہو گیا۔
"سہم” اور "کچھ مال” کی وصیت
اگر کسی نے وصیت میں مال کی مقدار متعین نہ کی اور یوں کہا: "میرے مال کا ایک سہم فلاں شخص کو دیا جائے”
تو کل ترکے میں سے چھٹا حصہ مراد ہو گا، کیونکہ کلامِ عرب میں "سہم” سے مراد چھٹا حصہ لیا جاتا ہے۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہی رائے ہے۔
مزید یہ کہ مرد کے لیے چھٹا حصہ فرائض کے حصوں میں کم از کم حصہ ہے، لہٰذا وصیت میں بھی یہی مراد لیا جائے گا۔
اور اگر وصیت کرنے والے نے کہا: "فلاں شخص کو کچھ مال دیا جائے”
اور مقدار متعین نہ کی، تو موصیٰ لہ کو اتنا مال دیا جائے گا جسے عرف میں مال کہا جاتا ہو، کیونکہ لغت اور شریعت میں اس کی کوئی معین حد نہیں۔
لہٰذا موصیٰ لہ کو کم از کم اتنا مال دیا جائے گا کہ وہ مالدار شمار ہو جائے، ورنہ مقصود حاصل نہ ہو گا۔ واللہ اعلم۔
وصی کے احکام
"وصی” یا "موصیٰ الیہ” اس شخص کو کہتے ہیں جسے میت نے اپنی وصیت نافذ کرنے میں ان امور کی ذمہ داری سونپی ہو جنہیں وہ خود اپنی زندگی میں انجام دیا کرتا تھا اور جن میں نیابت بھی درست تھی، کیونکہ موصیٰ الیہ، وصیت کے نفاذ میں موصی کا نائب ہوتا ہے۔
وصیت کی نیابت قبول کرنے کا حکم
وصیت کرنے والے کی نیابت قبول کرنا موصیٰ الیہ کے لیے مستحب اور باعثِ اجر و ثواب ہے، لیکن یہ ذمہ داری وہی شخص قبول کرے جس میں وصیت نافذ کرنے کی طاقت ہو اور جسے اپنی امانت داری پر بھی اعتماد ہو۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ وَالتَّقوىٰ…﴿٢﴾… سورة المائدة
"نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔” [المائدۃ 5۔2۔]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ "
"اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔” [صحیح مسلم الذکر والدعاء باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر حدیث 2699]
اس کے علاوہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے ایک جماعت نے سیدنا زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی وصیت کے نفاذ میں نائب بنایا تھا۔
اسی طرح سیدنا عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی وصیت نافذ کرنے کا ذمہ دار بنایا تھا۔
اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو وصیت کے نفاذ کی ذمہ داری دی تھی۔ [سنن الدارمی الوصایا باب الوصیۃ للنساء حدیث 3298]
اور سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بعد اپنی بڑی اولاد کو اس کا ذمہ دار مقرر کیا۔
کون شخص وصی نہ بنے؟
جو شخص موصیٰ کی وصیت نافذ نہیں کر سکتا یا جسے اپنی امانت داری پر اعتماد نہیں، اسے ہرگز یہ ذمہ داری قبول نہیں کرنی چاہیے۔
وصی کی شرائط
◈ وصی کا مسلمان ہونا ضروری ہے
کسی کافر پر ایسی اہم ذمہ داری ڈالنا درست نہیں۔
◈ وصی کا مکلف ہونا ضروری ہے
یعنی وہ عاقل و بالغ ہو۔ اس لیے بچے، کم عقل اور مجنون شخص کو یہ ذمہ داری نہیں دی جا سکتی، کیونکہ وہ مالی معاملات میں ولایت اور تصرف کی اہلیت نہیں رکھتے۔
البتہ بچے کو وصی بناتے وقت یہ شرط لگا دی جائے کہ وہ بالغ ہونے کے بعد وصیت نافذ کرے گا، تو یہ درست ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
"أميركم زيد بن حارثة، فإن قتل فجعفر بن أبى طالب”
"تمھارا امیر زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے، اگر وہ شہید ہو جائے تو جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیر بنا لینا۔” [الشہید لابن عبدالبر 8/388]
عورت کو وصی بنانا
عورت کو وصی بنایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ امورِ وصیت اور اس کے احکام کو سمجھتی ہو اور وصیت نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنا وصی بنایا تھا۔ [سنن الدارمی الوصایا باب الوصیہ للنساء حدیث 3298]
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عورت بعض مواقع میں مرد کی طرح شہادت دے سکتی ہے تو وصی بھی بن سکتی ہے۔
اگر وصی میں عملی طاقت نہ ہو
اگر کوئی شخص وصیت پر عمل درآمد کی طاقت نہ رکھتا ہو، لیکن فہم و فراست اور عقل و دانش رکھتا ہو، تو اسے وصی بنایا جا سکتا ہے، البتہ اس کے ساتھ بطور معاون ایسا شخص مقرر کیا جائے جو وصیت نافذ کرنے کی قدرت اور امانت دونوں رکھتا ہو۔
ایک سے زیادہ وصی
وصی ایک سے زیادہ افراد بھی ہو سکتے ہیں، چاہے انہیں ایک ساتھ وصی مقرر کیا گیا ہو یا ایک کے بعد ایک، جبکہ پہلے وصی کو معزول بھی نہ کیا گیا ہو۔
اگر ایک سے زیادہ افراد وصی ہوں تو وصیت کے نفاذ میں سب شریک ہوں گے، اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر مال میں تصرف نہیں کرے گا۔
اگر ان میں سے ایک کہیں غائب ہو جائے تو حاکم کو چاہیے کہ اس کی جگہ کسی دوسرے شخص کو مقرر کر دے جو وصیت کے امور کو اچھی طرح ادا کر سکے۔
وصی کا قبول کرنا اور دست بردار ہونا
وصی، موصی کی زندگی میں بھی اور اس کی موت کے بعد بھی وصیت کی ذمہ داری قبول کر سکتا ہے، اور موصی کی زندگی میں یا اس کی موت کے بعد جب چاہے اس ذمہ داری سے الگ بھی ہو سکتا ہے۔
اسی طرح موصی بھی جب چاہے وصی کو معزول کر سکتا ہے، کیونکہ وصی کی حیثیت ایک وکیل کی سی ہے۔
کیا وصی کسی دوسرے کو وصی بنا سکتا ہے؟
وصی کسی دوسرے شخص کو وصی نہیں بنا سکتا، الا یہ کہ موصی نے اسے اس کی اجازت دی ہو، مثلاً موصی کہے: "میں تمھیں اجازت دیتا ہوں کہ تم جسے چاہو وصی بنا لو۔”
مالی وصیت میں مال واضح ہونا چاہیے
جب کسی کو مالی وصیت نافذ کرنے کی ذمہ داری دی جائے تو وہ مال واضح اور متعین ہونا چاہیے، تاکہ وصی اس کی حفاظت، نگرانی اور اس میں تصرف اچھی طرح کر سکے۔
وصیت میں وہی کام ہو جو موصی کے لیے جائز تھا
جس کام کی وصیت کی گئی ہو، وہ ایسا ہونا چاہیے جو موصی کے لیے خود کرنا جائز ہو، مثلاً:
✔ قرض ادا کرنا
✔ تہائی مال تقسیم کرنا
✔ بچوں کی نگہداشت کرنا
اس کی وجہ یہ ہے کہ وصی بغیر اجازت کسی چیز میں تصرف کا مجاز نہیں۔
لہٰذا جس مال یا حق میں موصی کو خود تصرف کا اختیار نہ ہو، اس میں وصی کو بھی اختیار نہیں ہو گا، جیسا کہ وکالت میں ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ موصی اصل ہے اور وصی اس کا نائب و فرع ہے، اور جس کام کا اختیار اصل کو نہ ہو، نائب کو بھی نہیں ہو سکتا۔
مثلاً: کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کی نگہداشت کے لیے ان کے باپ کی موجودگی میں کسی کو وصی بنائے، کیونکہ بچوں کی اصل سرپرستی باپ کے سوا کسی اور پر نہیں ہوتی۔
وصی کی ذمہ داری محدود ہوتی ہے
جس چیز کے بارے میں کسی کو وصی مقرر کیا گیا ہو، اس کی ذمہ داری صرف اسی حد تک ہو گی۔ دوسری چیزوں کی ذمہ داری اس پر نہیں ہو گی۔
مثلاً اگر کسی نے اپنے قرض ادا کرنے کے لیے ایک شخص کو وصی مقرر کیا، تو وہ اس کی اولاد کے معاملات میں وصی نہیں ہو گا، کیونکہ وہ محدود اختیارات والا وکیل ہے، اور صرف انہی امور میں عمل کرے گا جن کی اجازت دی گئی ہے۔
کافر اگر مسلمان کو وصی بنائے
کافر کسی مسلمان کو اپنا وصی بنا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کا ترکہ مباح ہو۔
لیکن اگر مسلمان کو شراب، خنزیر یا دوسری حرام اشیاء کے بارے میں وصی بنایا جائے تو یہ درست نہیں، بلکہ مسلمان کو انکار کرنا چاہیے، کیونکہ ایسی ذمہ داری قبول کرنا شرعاً جائز نہیں۔
وصی اپنے لیے یا اپنی اولاد کے لیے مال نہیں رکھ سکتا
اگر موصی نے اپنے وصی سے کہا ہو: "میرے ترکہ کا ایک تہائی حصہ جہاں چاہو خرچ کر دینا”
تو وصی کے لیے جائز نہیں کہ اس میں سے کچھ اپنے لیے رکھ لے۔
اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ وہ وہ مال اپنی اولاد یا اپنے ورثاء کو دے دے، کیونکہ ممکن ہے لوگ اس پر بدگمانی کریں کہ اس نے وصیت کے خلاف ذاتی فائدہ حاصل کیا ہے۔
اگر کوئی شخص جنگل میں فوت ہو جائے
احکامِ وصیت میں سے ایک حکم یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی جنگل میں وفات پا جائے، جہاں کوئی حاکم نہ ہو اور نہ اس نے کسی کو وصی مقرر کیا ہو، تو جو مسلمان بھی اس کے پاس موجود ہو وہ اس کے ترکہ کی تقسیم کا ذمہ دار بن جائے، اور وہی کام کرے جو میت کے حق میں مفید ہو، مثلاً بیع وغیرہ، کیونکہ ضرورت اسی کی متقاضی ہے، ورنہ ترکہ ضائع ہو جائے گا۔
اور ترکہ کی حفاظت فرضِ کفایہ ہے۔
اسی ترکہ سے میت کی تجہیز و تکفین بھی کی جائے گی۔
احکامِ وراثت
وراثت کا موضوع نہایت اہم اور قابلِ اعتنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں اس علم کو سیکھنے اور سکھانے کی ترغیب دی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا فَإِنَّهُ نِصْفُ الْعِلْمِ، وَهُوَ يُنْسَى، وَهُوَ أَوَّلُ شَيْءٍ يُنْزَعُ مِنْ أُمَّتِي”
"علم فرائض سیکھو اور اسے سکھاؤ، کیونکہ یہ نصف علم ہے، اور اسے بھلا دیا جائے گا، اور یہی وہ پہلی چیز ہے جو میری امت سے اٹھا لی جائے گی۔” [(ضعیف) سنن ابن ماجہ الفرائض باب الحث علی تعلیم الفرائض حدیث 2719، سنن الدارقطنی 4/66 حدیث 4014]
ایک روایت میں ہے:
"فَإِنِّي امْرُؤٌ مَقْبُوضٌ وَالْعِلْمُ سَيُقْبَضُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتَّى يَخْتَلِفَ اثْنَانِ فِي فَرِيضَةٍ لَا يَجِدَانِ أَحَدًا يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا”
"میں ایک ایسا انسان ہوں جس کی روح قبض کی جائے گی، اور علم اٹھا لیا جائے گا، اور فتنے ظاہر ہوں گے، یہاں تک کہ دو آدمی وراثت کے ایک مسئلے میں اختلاف کریں گے مگر کوئی فیصلہ کرنے والا نہ ملے گا۔” [(ضعیف) جامع الترمذی الفرائض باب ماجاء فی تعلیم الفرائض حدیث 2091، سنن الدارمی المقدمۃ باب الاقتداء بالعلماء حدیث 227 واللفظ لہ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے خبر دی تھی، ویسی ہی صورت حال اب نظر آتی ہے۔ علمِ میراث کو نظر انداز کر دیا گیا ہے، اکثر لوگ اسے بھول چکے ہیں، اور آج مساجد و مدارس میں بہت کم اسے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔
اور اگر کہیں پڑھایا بھی جاتا ہے تو اتنے ناقص اور سرسری انداز میں کہ نہ اصل مقصد حاصل ہوتا ہے اور نہ اس علم کی بقا کا اطمینان ہوتا ہے۔
لہٰذا مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس علم کو زندہ کرنے کے لیے کمر بستہ ہوں، اس کی حفاظت کریں، اور مساجد، مدارس اور جامعات میں اس کی تعلیم کا اہتمام کریں، کیونکہ لوگوں کو اس علم کی شدید ضرورت ہے، اور خاص طور پر اہل علم پر اس کی ذمہ داری زیادہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ : آيَةٌ مُحْكَمَةٌ ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ "
"(بنیادی) علم تین ہیں، اور ان کے سوا باقی سب زائد فضیلت ہیں: محکم آیات کا علم، قائم سنت کا علم، یا علم الفرائض جو عدل و انصاف پر قائم ہے۔” [(ضعیف) سنن ابی داؤد الفرائض باب ماجاء تعلیم الفرائض 2885، سنن ابن ماجہ السنۃ (المقدمۃ) باب اجتناب الری والقیاس حدیث 54]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
"تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ فَإِنَّهَا مِنْ دِينِكُمْ”
"علم فرائض سیکھو، کیونکہ یہ تمھارے دین کا حصہ ہے۔” [السنن الکبری للبیہقی 6/209]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
"مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، فَلْيَتَعَلَّمْ الْفَرَائِضَ”
"جو شخص قرآن پڑھے، اسے چاہیے کہ علم فرائض بھی سیکھے۔” [السنن الکبری للبیہقی 5/209]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: "علم فرائض نصف علم ہے” کا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ انسان کی دو حالتیں ہیں:
① زندگی
② موت
علم فرائض کا تعلق موت کے بعد کے احکام سے ہے، جب کہ باقی علوم زیادہ تر زندگی کے احکام سے متعلق ہیں۔
بعض علماء نے یہ معنی بیان کیا ہے کہ تمام لوگوں کو اس علم سے واسطہ پڑتا ہے، یعنی تقسیمِ ترکہ میں لوگ علم فرائض کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں۔
اور بعض اہل علم نے اس کے اور بھی معنی ذکر کیے ہیں۔
بہرحال مقصود یہ ہے کہ اس علم کی تعلیم و تدریس میں غیر معمولی اہتمام کی ضرورت ہے۔
علم الفرائض کی تعریف
اس علم کو علم الفرائض کہا جاتا ہے۔ فرائض، فریضہ کی جمع ہے، جو فرض سے ماخوذ ہے۔ فرض کے لغوی معنی مقرر کرنے کے ہیں، کیونکہ اس علم میں ورثاء کے حصے مقرر شدہ ہوتے ہیں۔
فریضہ وہ مقرر حصہ ہے جو شریعت نے مستحق شخص کے لیے متعین کیا ہے۔
علم الفرائض کی تعریف یہ ہے: "فقہ اور حساب سے متعلق ان اصولوں کو جاننا جن کے ذریعے ترکے میں سے وارثوں کے حصے معلوم کیے جائیں۔”
ترکہ سے متعلق چار حقوق
میت کے ترکہ سے متعلق چار حقوق ہیں۔ [اصل کتاب میں پانچ کا لفظ ہے اور یہ تصحیح علم وراثت کی معتبر کتاب السراجی اور فقہ المواریث سے کی ہے۔]
❀ ① تجہیز و تکفین
سب سے پہلے میت کے ترکہ سے کفن سے لے کر دفن تک کے تمام اخراجات ادا کیے جائیں گے۔
❀ ② ادائیگیِ قرض
اس کے بعد مطلق قرض ادا کیے جائیں گے، خواہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ہو، جیسے زکاۃ، کفارات، نذر اور حجِ واجب، یا بندوں کا حق ہو۔
❀ ③ اجرائے وصیت
پھر میت کے مال میں سے زیادہ سے زیادہ ایک تہائی (3/1) تک وصیتیں پوری کی جائیں گی۔
❀ ④ تقسیمِ ترکہ
ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ جائے گا، اسے کتاب و سنت کے مطابق ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
تقسیمِ ترکہ کا آغاز اصحاب الفروض سے ہو گا، پھر اگر مال بچ جائے تو وہ عصبات کو دیا جائے گا، جن کی تفصیل آگے آئے گی۔
احکامِ میراث میں تبدیلی کی حرمت
شریعت کے مقرر کردہ احکامِ میراث میں کسی قسم کی تبدیلی جائز نہیں۔ ان میں تبدیلی کرنا اللہ عزوجل کے ساتھ کفر ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿تِلكَ حُدودُ اللَّهِ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسولَهُ يُدخِلهُ جَنّـٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهـٰرُ خـٰلِدينَ فيها وَذٰلِكَ الفَوزُ العَظيمُ ﴿١٣﴾ وَمَن يَعصِ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدودَهُ يُدخِلهُ نارًا خـٰلِدًا فيها وَلَهُ عَذابٌ مُهينٌ ﴿١٤﴾… سورة النساء
"یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے (13) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرره حدوں سے آگے نکلے اسے وه جہنم میں ڈال دے گا جس میں وه ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لئے رسوا کن عذاب ہے” [النساء:4۔13۔14۔]
امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے فرمان "تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ” میں سابقہ احکامِ میراث کی طرف اشارہ ہے، اور انہیں حدود اللہ کہا گیا ہے، کیونکہ حد سے آگے بڑھنا جائز نہیں۔ اور "وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ” میں میراث کی تقسیم اور دیگر شرعی احکام کی طرف اشارہ ہے، جیسا کہ آیت کے الفاظ "يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ” کا عموم بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔
سنن ابن ماجہ میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"من قطع ميراث وارثه؛ قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة”
"جس نے کسی وارث کو اس کی میراث سے محروم کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جنت کی میراث سے محروم کر دے گا۔” [تفسیر فتح القدیر النساء 4/13۔14، واللفظ لہ، و سنن ابن ماجہ بلفظ "مَنْ فَرَّ مِنْ مِيرَاثِ ….” الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ حدیث 2703۔ (یہ روایت ضعیف ہے)]
شرعی احکامِ میراث میں تبدیلی کی صورتیں یہ ہیں:
✔ غیر وارث کو وارث قرار دینا
✔ کسی وارث کو پورے حصے یا بعض حصے سے محروم کرنا
✔ مرد اور عورت کا حصہ برابر کر دینا، جیسا کہ بعض کفریہ قوانین میں کیا جاتا ہے
یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم "مرد کے لیے دو عورتوں کے برابر حصہ ہے” کے صریح خلاف ہے۔
ایسی تبدیلی کرنے والا شخص کافر ہے اور ہمیشہ کے لیے جہنمی ہے، الا یہ کہ موت سے پہلے سچی توبہ کر لے۔
جاہلیت کا قانون اور اسلام کی اصلاح
دورِ جاہلیت میں عورتوں اور بچوں کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا، اور صرف ان بالغ مردوں کو حق دار سمجھا جاتا تھا جو گھوڑے پر سوار ہو سکتے ہوں اور ہتھیار اٹھا سکتے ہوں۔ اسلام نے اس قانون کو باطل قرار دیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ وَلِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ مِمّا قَلَّ مِنهُ أَو كَثُرَ نَصيبًا مَفروضًا ﴿٧﴾… سورة النساء
"ماں باپ اور قرابت داروں کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی، جو مال ماں باپ اور قرابت دار چھوڑ کر مریں خواہ مال کم ہو یا زیادہ، اس میں حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔” [النساء:4۔7۔]
اس آیت کے ذریعے عورتوں اور بچوں کو وراثت نہ دینے کا جاہلی قانون ختم کر دیا گیا۔
نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يوصيكُمُ اللَّهُ فى أَولـٰدِكُم…﴿١١﴾… سورة النساء
"اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔” [النساء:4/11۔]
اور فرمایا:
﴿ وَإِن كانوا إِخوَةً رِجالًا وَنِساءً فَلِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ… ﴿١٧٦﴾… سورة النساء
"اور اگر کئی بھائی بہن، یعنی مرد بھی اور عورتیں بھی ہوں، تو مرد کے لیے دو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔” [النساء:4۔176۔]
ان آیات میں جدید جاہلی دعوؤں کو بھی باطل قرار دیا گیا ہے، جن میں عورت کو مرد کے برابر میراث دے کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی جاتی ہے اور حدود اللہ سے تجاوز کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ قدیم جاہلیت کے قانون میں عورتیں حقِ میراث سے محروم ہوتی تھیں، جبکہ جدید جاہلیت کے قانون میں عورتوں کو ان کے جائز حق سے زیادہ دیا جاتا ہے۔
حالانکہ اسلام نے عورت کے ساتھ مکمل عدل و انصاف کیا ہے اور اسے عزت کا مقام دیتے ہوئے اس کا جائز حق عطا کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کفار، منافقین اور ملحدین کو تباہ و برباد کرے، جن کے عزائم و ارادے کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے:
﴿يُريدونَ لِيُطفِـٔوا نورَ اللَّهِ بِأَفوٰهِهِم وَاللَّهُ مُتِمُّ نورِهِ وَلَو كَرِهَ الكـٰفِرونَ ﴿٨﴾… سورة الصف
"وہ (کافر) چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ انکاری ہے مگر اسی بات کا کہ اپنا نور پورا کرے گا، اگرچہ کافر ناخوش رہیں۔” [التوبہ:9/32۔]
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب