میں مرگی کے مرض کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا :۔
سوال :۔
مجھے مرگی کا مرض لاحق ہے جس وجہ سے میں رمضان شریف کے روزے نہیں رکھ سکتا۔ مجھے دن میں تین مرتبہ دوائی استعمال کرنا ہوتی ہے۔ میں نے دو دن روزہ رکھا مگر اس کو پورا نہیں کر سکا۔ میں ریٹائرڈ ہوں اور مجھے بطور پنشن محض 83 دینار ماہوار ملتے ہیں۔ میری بیوی بھی ہے اور پنشن کے علاوہ میرا کوئی ذریعہ معاش بھی نہیں ہے۔ ان حالات میں شرع کا میرے بارے میں کیا حکم ہے کہ اگر میں رمضان میں تیس مسکینوں کو کھانا نہ کھلا سکوں تو وہ کتنی رقم ہے جو مجھے ادا کرنی ہے؟
فتوی :۔
آپ نے جس مرض کا ذکر کیا ہے اس کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے کہ کسی دن ان شاء اللہ آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔ آپ انتظار کریں یہاں تک کہ آپ صحت یاب ہو جائیں، پھر آپ روزہ رکھیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ آيَامٍ أُخَرَ (البقرہ : 185)
”اور جو کوئی مریض ہو یا سفر کی حالت میں ہو تو اس کو چاہیے کہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے (یعنی اس دوران جتنے روزے چھوڑے ہیں ان کو رکھ لے)۔“
لیکن اگر یہ مرض مستقل ہے جس سے صحت یابی کی امید نہیں ہے، تو آپ کے لئے ضروری ہے کہ ایک روزے کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں اور ایسا کرنا جائز ہے کہ ایک دن دوپہر یا شام کا کھانا بنائیں اور رمضان کے دنوں کے برابر مساکین کو بلائیں اور کھانا کھلا کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائیں اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص اتنی بھی طاقت اللہ کے فضل سے نہ رکھتا ہو اور اگر آپ ایک ہی مرتبہ ایک ماہ میں اتنے آدمیوں کو کھانا کھلانے کی طاقت نہیں رکھتے تو آپ ان میں بعض کو اس ماہ میں کھانا کھلا دیں اور بعض کو دوسرے مہینوں میں حسب استطاعت کھلا دیں۔