مضمون کے اہم نکات
یہ مضمون اس اہم مسئلے پر ہے کہ کیا مرنے کے بعد کوئی انسان کلام کر سکتا ہے؟ اور بعض بریلوی بدعتی حضرات نے اس جھوٹے عقیدہ کو بنیاد بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک تہمت لگائی کہ آپ ﷺ کسی کے مرنے کے بعد اس کا جنازہ پڑھانے کے لئے خود تشریف لاتے ہیں۔ یہ نہ صرف جھوٹ ہے بلکہ نبی کریم ﷺ پر بہتان باندھنے کے مترادف ہے۔
اس آرٹیکل میں ہم درج ذیل امور کو واضح کریں گے:
❀ قرآن و سنت اور اقوال ائمہ کی روشنی میں مردے کے کلام کرنے کا حکم
❀ اس جھوٹی روایت کی سند اور متن کا تحقیقی تجزیہ
❀ عبدالملک بن عمیر نامی راوی کی حقیقت اور اس پر محدثین کی جرح مفسر
❀ صحیح بخاری میں اس کی روایات کا حکم
❀ نبی کریم ﷺ پر جھوٹ باندھنے کی سخت وعید
اس تحقیق سے ان شاء اللہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گی کہ:
① مردے کے کلام والی روایت سنداً و متناً مردود ہے۔
② نبی کریم ﷺ کے جنازے میں آنے کا عقیدہ صریح بہتان ہے۔
③ عبدالملک بن عمیر پر جرح مفسر موجود ہے اور وہ مدلس بھی ہے۔
✿ بدعتی کا دعویٰ ✿
ایک بریلوی بدعتی نے یہ جھوٹ لکھا:
متقدمین ائمہ کا یہ عقیدہ تھا کہ ہمارے فوت ہونے کے بعد بھی نبی اکرم ﷺ ہمارا جنازہ پڑھا سکتے ہیں۔
اور پھر اس جھوٹی بات کو ثابت کرنے کے لئے ربیع بن خراش کے بھائی کے بارے میں ایک منکر روایت پیش کی، جس میں کہا گیا کہ مرنے کے بعد اس نے سلام کیا اور کہا:
"حضرت ابوالقاسم (یعنی نبی ﷺ) میری نماز جنازہ پڑھانے کا انتظار فرما رہے ہیں۔”
یہی وہ اصل تہمت ہے جسے بریلوی نے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنے کی جسارت کی۔
✿ روایت کا متن ✿
بریلوی بدعتی نے یہ واقعہ نقل کیا:
أخبرنا إسحاق الصفار، أنبأنا ابن خليل، أنبأنا أبو المكارم اللبان، أنبأنا أبو علي، أنبأنا أبو نعيم، حدثنا أبو أحمد الغساني، حدثنا علي بن العباس البجلي، حدثنا جعفر بن محمد بن رياح الأشجعي، حدثنا أبي، عن عبيدة، عن عبد الملك بن عمير، عن ربعي، قال: كنا أربعة إخوة، فكان الربيع أكثرنا صلاة وصياما في الهواجر، وإنه توفي، فبينا نحن حوله قد بعثنا من يبتاع له كفنا، إذ كشف الثوب عن وجهه، فقال: السلام عليكم. فقال القوم: عليكم السلام يا أخا عيسى، أبعد الموت؟ قال: نعم، إني لقيت ربي بعدكم، فلقيت ربا غير غضبان، واستقبلني بروح وريحان وإستبرق، ألا وإن أبا القاسم ينتظر الصلاة علي، فعجلوني. ثم كان بمنزلة حصاة رمي بها في طست. فنمي الحديث إلى عائشة – رضي الله عنها – فقالت: أما إني سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: (يتكلم رجل من أمتي بعد الموت).
✿ اردو ترجمہ ✿
ربیع بن خراش کہتے ہیں:
ہم چار بھائی تھے، ان میں سب سے زیادہ عبادت گزار میرا بھائی ربیع تھا۔ جب وہ فوت ہوا تو ہم سب اس کے پاس بیٹھے تھے اور ایک آدمی کو کفن لانے بھیجا۔ اچانک اس نے اپنا چہرہ کھولا اور کہا: السلام علیکم۔ لوگوں نے کہا: وعلیکم السلام! کیا تم مرنے کے بعد کلام کر رہے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! میں اپنے رب سے ملا، وہ مجھ سے راضی تھا، اس نے مجھے راحت، پھول اور ریشمی لباس دیا۔ اور سنو! ابو القاسم (یعنی نبی کریم ﷺ) میری نماز جنازہ پڑھانے کے انتظار میں ہیں، لہٰذا جلدی کرو۔ پھر اچانک ایسا ہوا جیسے ایک کنکری کو پانی میں ڈال دیا جائے۔
یہ خبر حضرت عائشہؓ تک پہنچی تو انہوں نے کہا:
میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے:
"میری امت میں ایک آدمی مرنے کے بعد کلام کرے گا۔”
✿ بریلوی کا استدلال ✿
بریلوی نے اس روایت سے یہ نتیجہ نکالا کہ:
① مرنے کے بعد بھی انسان کلام کرسکتا ہے۔
② نبی کریم ﷺ جنازہ پڑھانے کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔
③ اس روایت کو حافظ ذہبی نے سیر اعلام میں ذکر کیا ہے اس لئے یہ درست ہے۔
اس روایت کی سند کا تحقیقی جائزہ
اب آتے ہیں اس روایت کی سند اور راویوں کی حقیقت کی طرف، تاکہ واضح ہو کہ بریلوی کا استدلال کس قدر باطل ہے۔
✿ پہلی سند: حافظ ذہبی کے طریق سے (ابو نعیم اصفہانی کے حوالہ سے)
اس سند میں دو ایسے راوی ہیں جو مجہول الحال ہیں:
① جعفر بن محمد بن ریاح الأشجعی
-
رجال کی کسی معتبر کتاب میں ان کا کوئی ترجمہ موجود نہیں۔
-
ابن حجر اور ذہبی وغیرہ نے کہیں ذکر نہیں کیا۔
-
نتیجہ: یہ راوی مجہول الحال ہے۔
② محمد بن جعفر الأشجعی (والد)
-
یہ بھی مجہول الحال ہے۔
-
کتب رجال میں اس کا ذکر تک نہیں ملتا۔
➤ لہذا یہ روایت سنداً سخت ضعیف ہے۔
✿ البانیؒ کا حکم
علامہ ناصر الدین البانیؒ نے اس روایت کے بارے میں لکھا:
قال الألباني: «إسنادُه لا يصحُّ؛ لأنَّ جعفرَ بنَ محمدِ بنِ رياحٍ الأشجعيَّ وأباهُ مجهولان.»
(السلسلة الضعيفة، 4/367)
ترجمہ:
علامہ البانیؒ فرماتے ہیں: اس روایت کی سند صحیح نہیں، کیونکہ جعفر بن محمد بن رِیاح الاشجعی اور اس کے والد دونوں مجہول ہیں۔
✿ شعیب الارنووط کا حکم
قال شعيب الأرناؤوط: «رِجالُ إسنادِه ثقاتٌ، لكنَّه موقوفٌ لا مرفوعٌ، والصوابُ وقفُه على عبدِ الملكِ بنِ عُميرٍ.»
(تعليقه على حلية الأولياء، 4/367)
ترجمہ:
علامہ شعیب ارناؤوط (حنفی) لکھتے ہیں: اس سند کے رجال ثقہ ہیں، مگر یہ روایت موقوف ہے مرفوع نہیں؛ صحیح بات یہی ہے کہ اسے عبدالملک بن عمیر پر موقوف مانا جائے۔
نتیجہ: اس روایت کو نبی کریم ﷺ کی طرف مرفوعًا منسوب کرنا درست نہیں۔
✿ عبدالملک بن عمیر کا حال
اس سند کا مرکزی راوی عبدالملک بن عمیر (متوفی 136ھ) ہے۔ اس پر ائمہ نے سخت جرح کی ہے:
① امام یحییٰ بن معینؒ
قال يحيى بن معين:
«عبد الملك بن عمير مخلط»
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 6/330)
🔹 ترجمہ: عبدالملک بن عمیر مخلّط (اختلاط کا شکار) تھا۔
② امام ابو حاتم الرازیؒ
قال أبو حاتم:
«ليس بحافظ، هو صالح، تغير حفظه قبل موته»
(الجرح والتعديل 6/330)
🔹 ترجمہ: یہ حافظہ والا نہیں تھا، اگرچہ فی الجملہ صالح تھا لیکن وفات سے پہلے اس کا حافظہ خراب ہوگیا تھا۔
③ امام احمد بن حنبلؒ
قال الإمام أحمد:
«عبد الملك بن عمير مضطرب الحديث جدّاً، مع قلة حديثه، وقد غلط في كثير منها»
(الجرح والتعديل 6/330)
🔹 ترجمہ: عبدالملک بن عمیر بہت زیادہ مضطرب الحدیث تھا، حالانکہ اس کی مرویات زیادہ نہیں تھیں لیکن ان میں بھی اکثر میں اس نے غلطیاں کی ہیں۔
④ امام دارقطنیؒ
قال الدارقطني:
«الاضطراب فيه من عبد الملك بن عمير»
(علل الدارقطني 4/303)
🔹 ترجمہ: اس روایت میں جو اضطراب ہے وہ عبدالملک بن عمیر ہی کی طرف سے ہے۔
⑤ امام ابن الجوزیؒ
قال ابن الجوزي:
«عبد الملك بن عمير مضطرب الحديث… ضعفه أحمد جداً، وقال يحيى: مخلط»
(الضعفاء والمتروكون 2/207)
🔹 ترجمہ: عبدالملک بن عمیر مضطرب الحدیث ہے، امام احمد نے اسے سخت ضعیف کہا، اور یحییٰ نے کہا کہ یہ مخلط ہے۔
⑥ حافظ ابن حجرؒ
قال ابن حجر:
«مدلس من الطبقة الثالثة… وإنما عيب عليه أنه تغير حفظه لكبر سنه»
(طبقات المدلسين، وفتح الباري 1/391)
🔹 ترجمہ: یہ تیسرے درجے کا مدلس ہے، اس کا عنعنہ مردود ہے جب تک تصریح نہ کرے، اور اس پر عیب یہ تھا کہ بڑھاپے میں اس کا حافظہ خراب ہوگیا تھا۔
✿ خلاصہ سندی حیثیت
① سند میں مجہول راوی ہیں (جعفر بن محمد اور اس کا والد)۔
② مرکزی راوی عبدالملک بن عمیر مضطرب الحدیث، مدلس اور ضعیف ہے۔
③ البانی اور شعیب الارنووط دونوں نے روایت کو مرفوع ماننے سے انکار کیا ہے۔
➤ لہٰذا یہ روایت سخت ضعیف ہے اور نبی ﷺ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔
عبدالملک بن عمیر کی صحیح بخاری میں مرویات اور ان کا حکم
اب دیکھتے ہیں کہ جس راوی (عبدالملک بن عمیر کوفی، متوفی 136ھ) پر جرح مفسر موجود ہے، اس کی احادیث کو امام بخاری نے کن شرائط کے ساتھ درج کیا اور محدثین نے ان کی حیثیت کے بارے میں کیا وضاحت فرمائی۔
✿ صحیح بخاری میں اس کی روایات
امام بخاری نے عبدالملک بن عمیر سے روایت احتجاج کے طور پر صرف قدیم شیوخ سے نقل کی ہیں، اور متاخرین تلامذہ سے صرف متابعت و شواہد میں۔
-
بخاری (حدیث 678)
عبد الملك بن عمير ← ابو بردہ ← ابو موسیٰ الاشعری
-
بخاری (حدیث 755)
عبد الملك بن عمير ← جابر بن سمرہ
-
بخاری (حدیث 844)
عبد الملك بن عمير ← ورّاد کاتب مغیرہ بن شعبہ
-
بخاری (حدیث 1864)
عبد الملك بن عمير ← قزعہ مولیٰ زیاد
➤ ان تمام اسانید میں امام بخاری نے زائدہ بن قدامہ (ت 161ھ)، شعبہ بن الحجاج (ت 160ھ)، سفیان الثوری (ت 161ھ) اور ابو عوانہ الوضاح (ت 176ھ) جیسے قدیم ثقہ تلامذہ سے روایت لی ہے۔
✿ حافظ ابن حجرؒ کی وضاحت
قال ابن حجر:
«وأخرج له الشيخان من رواية القدماء عنه في الاحتجاج، ومن رواية بعض المتأخرين عنه في المتابعات»
(فتح الباري 1/391)🔹 ترجمہ: بخاری و مسلم نے عبدالملک بن عمیر کی قدیم شاگردوں سے مروی احادیث کو احتجاج میں لیا ہے، اور اس کے متاخرین تلامذہ سے مروی احادیث کو صرف متابعات میں ذکر کیا ہے۔
خلاصہ
-
عبدالملک بن عمیر پر ائمہ کی شدید جرح موجود ہے: مخلط، مضطرب الحدیث، غیر حافظ، مدلس۔
-
لیکن امام بخاری و مسلم نے اس کی صرف قدیم ثقہ شاگردوں (زائدہ، شعبہ، سفیان، ابو عوانہ) سے مروی احادیث درج کی ہیں، اس لیے وہ روایات صحیح ہیں۔
-
اس کے علاوہ اس کی منفرد یا متاخر روایات حجت نہیں ہیں۔
طبقات ابن سعد اور بیہقی کی اسانید کا جائزہ
① پہلی سند (ابن سعد)
قال ابن سعد:
أخبرنا محمد بن عبيد، قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن عبد الملك بن عمير، قال: أُتي ربعي بن حراش فقيل له: قد مات أخوك، فذهب مستعجلاً حتى جلس عند رأسه يدعو له ويستغفر له، فكشف عن وجهه، ثم قال: السلام عليكم، إني قدمت على ربي بعدكم، فتلقّيت بروح وريحان، وربّ غير غضبان، وكساني ثياب سندس واستبرق، وإني وجدت الأمر أهون مما تظنون، ولكن لا تتكلموا، احملوني؛ فإني قد واعدت رسول الله ﷺ أن لا يبرح حتى ألقاه.
(الطبقات الكبرى لابن سعد 6/32)
🔹 ترجمہ:
ابن سعد نے بیان کیا: ربعی بن خراش کو کہا گیا تیرا بھائی مر گیا ہے، وہ جلدی سے پہنچا، بھائی کے سرہانے بیٹھ گیا اور دعا و استغفار کرنے لگا۔ پھر اس نے چہرہ کھولا تو مردہ نے کہا: السلام علیکم۔ میں اپنے رب سے ملا، میرے رب نے مجھ سے خوش ہو کر ملاقات کی، مجھے ریشمی لباس پہنایا، معاملہ تمہارے خیال سے زیادہ آسان نکلا۔ مجھے اٹھاؤ کیونکہ میرا رسول اللہ ﷺ سے وعدہ ہے کہ ان سے ملاقات کروں گا۔
② دوسری سند (ابن سعد)
قال ابن سعد:
أخبرنا هشام بن عبد الملك أبو الوليد الطيالسي، قال: حدثنا أبو عوانة، عن عبد الملك بن عمير، عن ربعي بن حراش، أن أخاه الربيع مرض مرضاً شديداً فثقل…
🔹 ترجمہ:
ابن سعد نے دوسری سند دی: ربعی بن حراش کے بھائی ربیع شدید بیماری میں مبتلا ہوئے اور بہت بے چین ہوگئے۔ پھر وہ فوت ہوگئے۔ بعد میں ان کے چہرے کو کھولا گیا تو انہوں نے بات کی۔
③ سند میں موجود علتیں
-
دونوں اسانید میں عبدالملک بن عمیر ہے (جس پر سخت جرح اوپر گزر چکی ہے: مخلط، مضطرب الحدیث، مدلس، ضعیف الحفظ)۔
-
پہلی سند میں متن مختلف ہے اور دوسری سند میں کچھ اور تفصیل ہے۔ یہ اضطراب کو ظاہر کرتا ہے۔
④ امام بیہقی کی سند (دلائل النبوة)
قال البيهقي:
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني، أخبرنا أبو سعيد بن الأعرابي، حدثنا سعدان بن نصر، حدثنا إسحاق بن يوسف الأزرق، عن المسعودي، عن عبد الملك بن عمير، عن ربعي بن حراش، قال: توفي أخي…
(دلائل النبوة للبيهقي 7/185)
🔹 ترجمہ:
امام بیہقی نے بھی روایت کیا: ربعی بن حراش نے کہا: میرا بھائی فوت ہوا تو اس نے مرنے کے بعد کلام کیا۔
⑤ سند میں علتیں
-
اس روایت میں المسعودي (عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي) ہے، جو صدوق تھا لیکن اختلاط کا شکار ہوگیا تھا۔
-
امام ابن حجر نے کہا:
«صدوق، اختلط قبل موته، وضابطه أن من سمع منه ببغداد فبعد الاختلاط»
(تقريب التهذيب 1/583)
🔹 ترجمہ: المسعودی صدوق تھا مگر وفات سے پہلے اختلاط میں مبتلا ہوگیا تھا۔ جو لوگ اس سے بغداد میں روایت کریں وہ سب اختلاط کے بعد کے ہیں۔
خلاصہ
-
طبقات ابن سعد کی دونوں اسانید میں عبدالملک بن عمیر ہے، جو مضطرب الحدیث اور مدلس تھا۔
-
دونوں روایات کے متون میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے:
-
ایک میں سلام کرنے والا خود ربعی بن خراش ہے،
-
اور دوسری میں اس کا بھائی مسعود بن خراش ہے۔
-
-
امام بیہقی کی روایت میں المسعودی ہے جو اختلاط کا شکار تھا۔
-
لہذا یہ ساری اسانید ناقابلِ حجت ہیں۔
باقی اسانید: شریک القاضی کی سند اور ابن عبدالبر والی سند — متن، ترجمہ، علت
1) سندِ بیہقی (شریک القاضی کے طریق سے)
قال البيهقي:
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، حَدَّثَنَا مُطَيَّنٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ التَّغْلِبِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، قَالَ: مَاتَ الرَّبِيعُ فَسَجَّيْتُهُ فَضَحِكَ، فَقُلْتُ: يَا أَخِي أَحَيَاةٌ بَعْدَ الْمَوْتِ؟
(دلائل النبوة للبيهقي 7/185)
ترجمہ:
ربیع وفات پاگئے، میں نے انہیں ڈھانپ دیا تو وہ ہنس پڑے۔ میں نے کہا: اے میرے بھائی! کیا موت کے بعد بھی زندگی ہے؟ (ساقط السياق حکایت …)
عللِ سند:
-
أبو نصر بن قتادة: مجہول الحال (ذکر تراجم میں غیر واضح؛ بیہقی کے بعض شیوخ میں غیر موثق غیر مشہور)۔
-
شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ القَاضِي:
-
ابن حجر: «صدوق سيّء الحفظ، يخطئ كثيراً» (تقريب التهذيب).
-
ذہبی: کثیر الخطأ، اختلاط اور تشیع کی نُکتہ چینی معروف۔
➤ لہٰذا یہ سند ضعیف؛ شریک کی سوء حفظ و کثیر الخطأ ہونے کی وجہ سے اضطرب/نکارت کا اندیشہ مزید بڑھتا ہے۔
-
2) سندِ ابن عبدالبر (الاستیعاب) — منقطع علت کے ساتھ
قال ابن عبد البر:
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ خِرَاشٍ…
(الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ترجمة ربعي/زید بن خارجة کے ذیل میں)
ترجمہ:
ابن عبدالبر اپنے شیخ عبداللہ بن محمد بن عبدالمؤمن، وہ اسماعیل بن اسحاق القاضی… علی بن المدینی… سفیان بن عیینہ… عبدالملک بن عمیر… ربعی بن خراش سے نقل کرتے ہیں (موقوف حکایت)۔
علتِ انقطاع (سقوطِ لقاء):
-
عبد الله بن محمد بن عبد المؤمن القرطبي (ابن الزیات):
-
مولد: 314ھ، وفات: 390ھ (تاریخ علماء الأندلس لابن الفرضي 2/757) — ابن الفرضی نے کہا: «ضبطُه لم يكن جيداً، وكان ضعيفَ الخطّ، ربما أخلّ بالهجاء» (یعنی ضبط کمزور، کتابت میں غلطیاں)۔
-
-
إسماعيل بن إسحاق القاضي: وفات 282ھ (سیر أعلام 13/208)۔
➤ ظاہر ہے کہ 314ھ میں پیدا ہونے والا راوی 282ھ میں فوت ہونے والے سے ملاقی نہیں — اس بنا پر سند منقطع ہے؛ ساتھ ہی شیخِ ابن عبدالبر کا ضعفِ ضبط مزید نقصان دہ۔
3) مشترک علتیں (کل روایات پر تطبیق)
-
مرکزی کڑی عبدالملک بن عمیر ہے؛ جس پر ائمہ کی سخت جرح (مخلط/مضطرب/مدلس/سوء حفظ خصوصاً آخر عمر) — معنعن ہونے پر تو حجت ہی نہیں (طبقات المدلسين لابن حجر: الطبقة الثالثة)۔
-
متون میں اضطراب: کہیں کلام کرنے والا خود ربعی، کہیں اس کا بھائی؛ کہیں سلام، کہیں ضحک؛ کہیں ”أبو القاسم ﷺ جنازہ پڑھانے کے منتظر ہیں“، کہیں اس کا ذکر ہی نہیں — یہ سب نکارت و اختلاط کی علامتیں۔
-
بیہقی کے طرق میں المسعودی (عبدالرحمن بن عبداللہ) مختلط — ابن حجر: «صدوق اختلط قبل موته … ومن سمع منه ببغداد فبعد الاختلاط» (تقریب 1/583)۔
-
نتیجتاً تمام طرق قابلِ احتجاج نہیں؛ اور مرفوع نسبت (عائشہؓ کی طرف) کو شعیب الأرناؤوط نے بھی نامنہود قرار دیا:
«رجال إسناده ثقات لكن ليس فيه المرفوع، وهو الأصح…» (تعلیق على حلیة الأولیاء 4/367)
پورے مضمون کا خلاصہ اور حاصل کلام
اس تحقیق میں بریلوی بدعتی کے اس دعوے کا مفصل رد پیش کیا گیا کہ ”مرنے کے بعد بھی لوگ کلام کر سکتے ہیں اور نبی کریم ﷺ ان کے جنازے پڑھانے کے لیے تشریف لاتے ہیں“۔
-
اصل ماخذ: یہ حکایت صرف ربعی/ربیع بن خراش کے بھائی سے منقول ہے۔ مگر اس کی تمام اسانید میں شدید علل موجود ہیں:
-
جعفر بن محمد الأشجعی اور والدہٗ: دونوں مجہول۔
-
عبدالملک بن عمیر: محدثین کے نزدیک مخلط، مضطرب الحدیث، غیر حافظ، مدلس (طبقة ثالثہ)۔
-
المسعودی: آخر عمر میں مختلط۔
-
شریک القاضی: سیّء الحفظ، کثیر الخطأ۔
-
ابن عبدالبر کے شیخ (ابن الزیات): ضبط کمزور + سند منقطع (کیونکہ وہ اسماعیل القاضی سے ملاقات نہیں کر سکتا تھا)۔
-
-
اضطرابِ متن:
-
ایک جگہ کلام کرنے والا ربیع ہے، دوسری میں مسعود۔
-
ایک میں صرف سلام کا ذکر ہے، دوسری میں ہنسنے کا۔
-
کسی متن میں ”ابو القاسم ﷺ جنازہ پڑھانے کے منتظر ہیں“ کا ذکر، جبکہ دوسری اسانید میں یہ بات سرے سے موجود ہی نہیں۔
➤ یہ سب علاماتِ وضع و نکارت ہیں۔
-
-
محدثین کی تصریحات:
-
شعیب الأرناؤوط (حنفی): «رجال إسناده ثقات لكن ليس فيه المرفوع، وهو الأصح» → مرفوع نسبت (نبی ﷺ کی طرف) غلط ہے۔
-
ابن حجر: عبدالملک بن عمیر کا حافظہ خراب، روایتیں اختلاط اور تدلیس کے سبب ناقابلِ اعتماد۔
-
امام احمد: «مضطرب الحديث جداً … ضعفه جداً».
-
یحییٰ بن معین: «مخلّط».
-
ابو حاتم: «ليس بحافظ، تغيّر حفظه قبل موته».
➤ یعنی یہ راوی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
-
-
اصولی پہلو:
-
قرآن: ﴿وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾ (فاطر: 22) — ”آپ قبروں والوں کو نہیں سنا سکتے“۔
-
حدیث: ”جب بندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو وہ قدموں کی آہٹ سنتا ہے“ (بخاری 1338) → صرف دفن کے وقت تک مخصوص سننا ثابت، اس سے عام و مستقل کلام نہیں ثابت۔
-
اصولِ حدیث: ایسی مضطرب و معلول روایات سے عقیدہ ثابت کرنا جائز نہیں۔
-
🔴 اصولی نتیجہ
-
مردے کے عام طور پر بولنے کا کوئی ثبوت صحیح سند سے نہیں۔
-
نبی کریم ﷺ کے کسی بھی امتی کے جنازے میں مرنے کے بعد حاضر ہونے کا عقیدہ صریح جھوٹ اور بہتان ہے۔
-
ایسی ضعیف حکایات کو دلیل بنانا ”من كذب عليّ متعمداً فليتبوأ مقعده من النار“ (بخاری 108، 109) کی وعید میں داخل ہے۔
اہم حوالاجات کے سکین

















