مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا کیسا ہے؟ حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا مرد شادی کے موقع پر سونے کی انگوٹھی پہن سکتا ہے؟ اکثر سسرال والے لڑکے کو انگوٹھی ڈال دیتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب :

مسلمان مرد کے لیے سونا پہننا بالکل حرام ہے، انگوٹھی سسرال والے پہنائیں یا خود بنوائے، ہر دو صورتوں میں منع ہے۔ علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کے ایک ہاتھ میں سونا اور دوسرے میں ریشم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔
(ابو داود کتاب اللباس باب في الحرير للنساء ح 4057، مسند أحمد 115/1 ح 935)
اسی طرح ایک صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنے ایک صحابی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھ کر فرمایا: ”تم نے اپنے ہاتھ پر آگ کا انگارہ رکھا ہوا ہے۔“ تو اس صحابی نے وہ انگوٹھی اتار کر پھینک دی۔
(مسلم کتاب اللباس والزينة باب تحريم الذهب على الرجال ح 2090)
لہذا مرد کے لیے سونا پہننا بالکل حرام ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔