مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مرد کے لیے کس قدر سونا،چاندی استعمال کرنا جائز ہے؟
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
مرد کے لیے چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اسے استعمال فرمایا۔ [صحیح البخاری اللباس باب خاتم الفضۃ حدیث 5866، وصحیح مسلم، اللباس باب لبس النبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتما من ورق۔ قبل حدیث 2092]
(1) مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی اور سونے کے زیور کا حکم
① مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونے کا زیور پہننے سے منع فرمایا، بلکہ سخت الفاظ کے ساتھ اس کی وعید سنائی:
” يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ ، فَيَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ "
"تم میں سے کوئی شخص (سونا پہن کر) گویا جہنم کی آگ کے انگارے کی طرف قصد کرتا ہے، پھر اسے اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے (یعنی پہنتا ہے)۔” [صحیح مسلم اللباس باب تحریم خاتم الذھب علی الرجال حدیث 2090]
(2) شدید ضرورت میں مرد کے لیے سونے کے استعمال کی اجازت
② اگر کوئی شدید ضرورت پیش آجائے تو مرد کے لیے سونے کا استعمال جائز ہو سکتا ہے، مثلاً:
◈ سونے کی ناک بنوانا
◈ یا دانتوں کے جوڑ کے لیے سونے کے تار کا استعمال
سیدنا عرفجہ بن اسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ناک جنگِ کلاب کے دن کٹ گئی، انہوں نے چاندی کی ناک بنوائی، لیکن بعد میں اس میں بدبو پیدا ہوگئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کی اجازت دے دی۔ [سنن ابی داود الخاتم باب ماجاء فی ربط الاسنان بالذھب حدیث 4232، والسنن الکبریٰ للبیہقی الصلاۃ باب الرخصۃ فی اتخاذ الانف 2/425۔426]
عورتوں کے لیے کس قدر سونا، چاندی استعمال کرنا جائز ہے؟
(1) عورتوں کے لیے زیور پہننے کی اصل اجازت
① عورتوں کے لیے عرف و رواج کے مطابق سونا اور چاندی پہننا جائز ہے، کیونکہ شریعت نے عورتوں کے لیے اسے عمومی طور پر حلال قرار دیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أُحِلَّ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ لِإِنَاثِ أُمَّتِي, وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهِمْ”
"میری امت کی عورتوں کے لیے سونا اور ریشم حلال کیا گیا ہے، اور ان کے مردوں پر حرام کیا گیا ہے۔” [جامع الترمذی اللباس باب ماجاء فی الحریر والذھب للرجال حدیث 1720، وسنن النسائی الزینۃ باب تحریم لبس الذھب حدیث 5267، ومسند احمد 4/392۔393 واللفظ لہ]
(2) عورتوں کے زیورات میں زکاۃ کا مسئلہ
③ عورتوں کے سونے اور چاندی کے زیورات میں زکاۃ نہیں، بشرطیکہ وہ زیور:
◈ استعمال کے لیے بنوایا گیا ہو
◈ پہننے کے لیے ہو
◈ یا کسی کو عاریتاً دینے کے لیے ہو
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"ليس في الحلي زكاة”
"زیور میں زکاۃ نہیں۔” [(ضعیف) سنن الدارقطنی 2/106 حدیث 1937]
اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے، لیکن جمہور علماء کے عمل سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین میں سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بھی یہی رائے منقول ہے۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"یہ پانچ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا مذہب تھا، نیز یہ مال بڑھتا بھی نہیں بلکہ گھستا ہے۔ یہ مال استعمال کے کپڑوں، خدمت کے غلاموں اور رہائشی گھروں کی طرح ہے۔” [المغنی والشرح الکبیر 2/603۔605۔بتصرف۔بہت سے علمائے کرام سونے چاندی کے زیورات کی زکاۃ کے قائل ہیں اور ان کے دلائل قوی اور زیادہ صحیح ہیں۔(صارم)]
✔ اگر زیورات بنانے کا مقصد یہ ہو کہ:
◈ انہیں کرائے پر دیا جائے
◈ کسی ضرورت یا اہم کام کے لیے محفوظ رکھا جائے
◈ کاروبار/تجارت میں لگایا جائے
◈ یا محض ذخیرہ کر کے سنبھال کر رکھا جائے
تو ایسے زیور میں زکاۃ واجب ہوگی، کیونکہ اصل حکم یہی ہے کہ سونے اور چاندی میں زکاۃ لازم ہے، اور یہ حکم صرف اسی وقت ساقط ہوتا ہے جب زیور استعمال یا عاریت کے لیے ہو۔
◈ البتہ شرط یہ ہے کہ وہ زیور خود نصاب تک پہنچے، یا دوسرے مال کے ساتھ ملا کر نصاب تک پہنچ جائے۔
◈ اور اگر نصاب تک نہ پہنچے تو زکاۃ لازم نہیں۔
◈ ہاں! اگر وہ سونا تجارت کے لیے ہو تو اس کی قیمت میں زکاۃ ہوگی۔
در و دیوار پر سونے چاندی کی ملمع سازی اور برتن بنانے کا حکم
در و دیوار یا چھت پر سونے چاندی کی ملمع سازی (پالش/کوٹنگ) کرانا، یا کار وغیرہ کی چیزوں پر یا اس کی چابیوں پر سونے چاندی کا ملمع چڑھوانا مسلمان کے لیے حرام ہے۔ اسی طرح سونے چاندی کا قلم یا دوات بنوانا یا ان پر پالش کروانا بھی حرام ہے، کیونکہ یہ فضول خرچی اور تکبر میں شامل ہے۔
اسی طرح سونے چاندی کے برتن بنوانا یا ان پر پالش کروانا بھی حرام ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"من شرب في إناء ذهب أو فضة، أو إناء فيه شيء من ذلك فإنما يجرجر في بطنه نار جهنم”
"جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے، یا ایسے برتن میں جس میں ان (سونے چاندی) میں سے کچھ ہو، تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ڈال رہا ہوتا ہے۔” [صحیح البخاری الاشربۃ باب آنیۃ الفضۃ حدیث 5634، وصحیح مسلم اللباس والزینۃ باب تحریم استعمال اوانی الذھب والفضۃ حدیث 2065 واللفظ لہ]
اوپر والی روایت میں مردوں کے لیے سونے کے استعمال کی حرمت اور سخت وعید واضح ہے، لیکن اس کے باوجود افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے مسلمان مرد سونے کی انگوٹھیاں پہنتے اور سینوں پر زنجیریں لٹکاتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ یا تو اس وعید کی پروا نہیں کرتے، یا پھر انہیں ان احادیث کا علم ہی نہیں ہوتا۔
ایسے لوگوں کو چاہیے کہ سونے کے زیورات پہننے سے توبہ کریں، اور صرف چاندی کی انگوٹھی پر اکتفا کریں جسے اللہ تعالیٰ نے مردوں کے لیے مباح بنایا ہے۔ حلال موجود ہو تو حرام اختیار کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجعَل لَهُ مَخرَجًا ﴿٢﴾ وَيَرزُقهُ مِن حَيثُ لا يَحتَسِبُ وَمَن يَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسبُهُ إِنَّ اللَّهَ بـٰلِغُ أَمرِهِ قَد جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَىءٍ قَدرًا ﴿٣﴾… سورة الطلاق
"اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے (2) اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اسے کافی ہے۔ یقیناً اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔” [الطلاق 65/2۔3]
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دین کی بصیرت، اس کا صحیح فہم، اور عمل و اخلاص کی توفیق عطا فرمائے۔
سامانِ تجارت میں زکاۃ کا بیان
سامانِ تجارت میں زکاۃ فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿خُذ مِن أَموٰلِهِم صَدَقَةً تُطَهِّرُهُم وَتُزَكّيهِم بِها …﴿١٠٣﴾… سورة التوبة
"(اے نبی!) ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجئے، تاکہ آپ اس کے ذریعے انہیں پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں۔” [التوبۃ 9/103]
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ وَفى أَموٰلِهِم حَقٌّ لِلسّائِلِ وَالمَحرومِ ﴿١٩﴾… سورةالذاريات
"اور ان کے مالوں میں سائل (مانگنے والے) اور محروم (سوال نہ کرنے والے) کے لیے مقررہ حق ہے۔” [المعارج 70/24۔25]
چونکہ عام طور پر لوگوں کا مال زیادہ تر سامانِ تجارت ہی کی صورت میں ہوتا ہے، اس لیے یہ مذکورہ آیات کے عمومی حکم میں بدرجۂ اولیٰ داخل ہے۔
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم تجارت کے مال میں سے زکاۃ ادا کریں۔ [سنن ابی داود الزکاۃ باب العروض اذا کانت للتجارۃ ھل فیھازکاۃ؟ حدیث 1562]
اور یہ بھی واضح ہے کہ جنگل میں چرنے والے جانوروں کی طرح مالِ تجارت بھی بڑھنے والا مال ہے، لہٰذا اس میں زکاۃ فرض ہے، بشرطیکہ اس پر ایک سال گزر جائے۔ متعدد اہلِ علم نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"ائمہ اربعہ اور امت کے دیگر علماء (چند افراد کے سوا) اس پر متفق ہیں کہ اموالِ تجارت میں زکاۃ فرض ہے، چاہے تاجر مقیم ہو یا مسافر، اور چاہے وہ مالِ تجارت کی قیمت بڑھنے کا منتظر ہو، یا دوکاندار ہو، نیز مالِ تجارت نیا کپڑا ہو یا استعمال شدہ، کھانے پینے کی اشیاء ہوں یا پھل پھول، اچار مربے ہوں یا کوئی اور چیز، مٹی کے برتن ہوں (چینی مٹی کے یا عام)، یا غلام، گھوڑے، خچر، گدھے، بھیڑ بکریاں ہوں؛ چاہے گھر میں چارہ ڈال کر پالی جائیں یا خود چر لیتی ہوں—سب پر زکاۃ ہے، کیونکہ ہر علاقے کے لوگوں کا باطنی مال زیادہ تر سامانِ تجارت پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ ان کا ظاہری مال زیادہ تر مویشیوں کی صورت میں ہوتا ہے۔” [مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ 25/45]
(1) سامانِ تجارت میں زکاۃ واجب ہونے کی شرائط
① وہ اپنے کسی عمل کے ذریعے اس کا مالک بنا ہو، مثلاً:
◈ خرید و فروخت
◈ ہبہ قبول کرنا
◈ وصیت
◈ اجرت کے ذریعے حصول
◈ یا کسی اور کمائی کے ذریعے
② اس مال کی ملکیت تجارت کی نیت سے ہو، یعنی اس کے ذریعے مزید مال کمانا مقصود ہو، کیونکہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور تجارت بھی عمل ہے۔
③ اس مال کی قیمت سونے یا چاندی کے نصاب تک پہنچ جائے۔
④ اس مال پر ایک سال گزر جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ ، حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ”
"کسی مال میں زکاۃ (اس وقت) واجب ہوتی ہے جب اس پر ایک سال گزر جائے۔” [سنن ابی داود الزکاۃ باب فی رکعۃ السائمۃ حدیث 1573]
اگر کسی نے زکاۃ کے نقدی نصاب کے عوض کوئی دوسرا سامانِ تجارت خرید لیا، یا ایسے سامان کے بدلے میں دوسرا سامان لیا جو پہلے سے نصاب کو پہنچ چکا تھا، تو سال کی ابتدا اسی پہلے مال سے شمار ہوگی جس کے بدلے نیا سامان خریدا گیا۔
(2) زکاۃ نکالنے کا طریقہ
سال پورا ہونے پر سامانِ تجارت کی موجودہ قیمت کرنسی کے ساتھ ملا کر لگائی جائے، اور فقراء کی مصلحت کو سامنے رکھا جائے۔ اگر مجموعی قیمت سونے یا چاندی کے نصاب تک پہنچ جائے تو اس میں چالیسواں حصہ (2.5٪) زکاۃ واجب ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ قیمت وہ نہیں دیکھی جائے گی جو ایک سال پہلے تھی، بلکہ موجودہ قیمت معتبر ہوگی، یہی تاجر اور زکاۃ وصول کرنے والے دونوں کے درمیان عدل و انصاف ہے۔
(3) حساب و کتاب میں احتیاط
مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ زکاۃ ادا کرتے وقت اپنے سامانِ تجارت کا باریک بینی سے حساب کرے، اور دکان/گودام کی ہر ہر چیز تک کو شمار کرے، مثلاً:
◈ جنرل اسٹور کے مختلف سامان (ڈبوں میں بند اشیاء سمیت)
◈ چھوٹی بڑی تمام چیزیں
◈ اوزار، مشینری، اسپیئر پارٹس
◈ وہ گاڑیاں جو فروخت کے لیے ہوں
◈ فروخت کے لیے پلاٹ اور عمارتیں
البتہ جو عمارات، گھر اور کاریں وغیرہ کرائے پر دینے کے لیے ہوں، ان کی اصل قیمت میں زکاۃ نہیں، بلکہ ان کے کرائے کی آمدن میں زکاۃ ہے، بشرط یہ کہ آمدن پر ایک سال گزر جائے۔
اسی طرح رہائشی مکانات، ضرورت کی چیزیں، اور سواری کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں میں زکاۃ نہیں۔
گھر یا دکان کا سامان، اور تاجر کے آلات (ناپ تول کی چیزیں، عطار کی شیشیاں وغیرہ) میں بھی زکاۃ نہیں، کیونکہ یہ تجارت کے لیے نہیں رکھے جاتے۔
(4) خوش دلی سے زکاۃ ادا کرنے کی ترغیب
میرے مسلمان بھائیو! خوشی کے ساتھ پورا حساب کر کے ثواب کی نیت سے زکاۃ ادا کرو۔ اسے اپنے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی سمجھو، جرمانہ اور تاوان نہ سمجھو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمِنَ الأَعرابِ مَن يَتَّخِذُ ما يُنفِقُ مَغرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوائِرَ عَلَيهِم دائِرَةُ السَّوءِ وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ ﴿٩٨﴾ وَمِنَ الأَعرابِ مَن يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَيَتَّخِذُ ما يُنفِقُ قُرُبـٰتٍ عِندَ اللَّهِ وَصَلَوٰتِ الرَّسولِ أَلا إِنَّها قُربَةٌ لَهُم سَيُدخِلُهُمُ اللَّهُ فى رَحمَتِهِ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ ﴿٩٩﴾… سورة التوبة
"اور ان دیہاتیوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو جرمانہ سمجھتے ہیں اور تم مسلمانوں کے واسطے برے وقت کے منتظر رہتے ہیں، برا وقت ان ہی پر پڑنے والا ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے (98) اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو عنداللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں، یاد رکھو کہ ان کا یہ خرچ کرنا بیشک ان کے لیے موجب قربت ہے، ان کو اللہ تعالیٰ ضرور اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے” [التوبۃ:9/98۔99]
اس سے معلوم ہوا کہ دونوں گروہ زکاۃ ادا کرتے تھے، مگر اللہ کے ہاں قبولیت اور بدلہ نیت کے مطابق ہوگا۔ پہلا گروہ اسے تاوان سمجھ کر محض اپنی جان بچانے کے لیے دیتا تھا اور مسلمانوں کے خلاف برے وقت کا منتظر تھا، چنانچہ وہ ثواب سے محروم رہا اور نقصان میں پڑا۔ دوسرا گروہ ایمان والا تھا، جو اللہ کا قرب اور ثواب پانے کے لیے زکاۃ دیتا تھا، اسی لیے اسے پورا اجر ملے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ أَلا إِنَّها قُربَةٌ لَهُم سَيُدخِلُهُمُ اللَّهُ فى رَحمَتِهِ … ﴿٩٩﴾… سورة التوبة
"یاد رکھو کہ ان کا یہ خرچ کرنا بیشک ان کے لیے موجب قربت ہے، ان کو اللہ تعالیٰ ضرور اپنی رحمت میں داخل کرے گا” [التوبۃ:9/99]
اے مسلمان بھائی! اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور ان آیات کے معانی میں خوب غور کرو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَأَقرِضُوا اللَّهَ قَرضًا حَسَنًا وَما تُقَدِّموا لِأَنفُسِكُم مِن خَيرٍ تَجِدوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيرًا وَأَعظَمَ أَجرًا وَاستَغفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ ﴿٢٠﴾… سورة المزمل
"اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت زیادہ پاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے” [المزمل 20/73]
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب