مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مرد و عورت کی نماز کا طریقہ: کیا دونوں میں فرق ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 321

سوال

مرد اور عورت کی نماز میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ:

((انما النساء شقائق الرجال))
سنن ابى داود، كتاب الطهارة، باب المراة ترى ما يرى الرجل، رقم الحديث: 236
’’عورتیں شرعی احکامات میں مردوں کی ہم پلہ ہیں۔‘‘

وضاحت

◄ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں بھی ان ہی احکامات کی پابند ہیں جن کی مردوں کو پابندی ہے۔
◄ البتہ ان معاملات میں جہاں اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے مردوں اور عورتوں کے احکام الگ بیان کیے ہیں، وہاں فرق موجود ہے۔
◄ باقی تمام امور اور معمولات میں عورتیں بھی ویسے ہی عمل کریں گی جیسے مرد عمل کرتے ہیں۔

نماز کے بارے میں

◄ دورانِ حیض اور نفاس کے علاوہ عورتوں پر بھی نماز اسی طرح فرض ہے جس طرح مردوں پر فرض ہے۔
◄ عورتیں بھی بالکل اسی طریقے سے نماز ادا کریں گی جیسے مرد نماز پڑھتے ہیں۔
◄ رسول اللہ ﷺ نے نماز کے طریقے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق بیان نہیں فرمایا۔
◄ لہٰذا اپنی رائے اور خیال سے نماز میں فرق پیدا کرنا جائز نہیں ہے۔

غلط روش کی نشاندہی

◄ عورتوں کو بھی عین اسی طریقے سے نماز پڑھنی ہے جیسے مرد پڑھتے ہیں، اس کے خلاف کسی قسم کی تفریق کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔
◄ احناف حضرات کے لیے تو تعجب کی بات نہیں کیونکہ وہ مقلد ہیں۔
◄ لیکن نہایت افسوس اور تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض اہل حدیث خواتین بھی ایسی نماز پڑھتی ہیں جس کا ثبوت کتاب و سنت سے نہیں ملتا۔
◄ کتاب و سنت کی رو سے یہی درست ہے کہ عورتیں بھی مردوں کی طرح نماز پڑھیں۔
◄ نماز کے طریقہ میں تفریق محض انسان کی ایجاد ہے، جس کی کوئی شرعی بنیاد نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔