اگر پیٹ میں سے بچہ مردہ نکلے تو ایک غلام دیت ہے
غرة: اس سفیدی کو کہتے ہیں جو گھوڑے کے چہرے پر ہوتی ہے اور امام جوہریؒ فرماتے ہیں کہ گویا کہ غرہ سے تمام جسم مراد لیا گیا ہے ۔
[نيل الأوطار: 512/4 ، مختار الصحاح ، غرر]
➊ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی عورت کے پیٹ کے بچے کے متعلق (جو کہ مردہ ساقط ہوا تھا )
بغرة عبد أو أمة
”ایک غلام یا لونڈی ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا تھا ۔“
[بخاري: 5758 ، 5759 ، كتاب الطب: باب الكهانة ، مؤطا: 855/2 ، ترمذى: 1410 ، ابو داود: 4576 ، نسائي: 47/8]
➋ ایک روایت میں ہے کہ ”قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں آپس میں جھگڑ پڑیں اور ایک نے دوسری پر پتھر دے مارا ۔ اس پتھر سے وہ عورت اور اس کے پیٹ کا بچہ مر گیا تو اس کے وارث مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لائے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ :
أن دية جنينها غرة عبد أو وليدة
”جنین (پیٹ کے بچے ) کے بدلے ایک لونڈی یا غلام دیت ہے ۔“
[بخاري: 5759 ، كتاب الطب: باب الكهانة ، مسلم: 1681 ، نسائي: 48/8 ، احمد: 236/2]
❀ دیت کے وجوب کے لیے جنین کی کیا کیفیت و صورت ہونی چاہیے اس میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے:
(احناف ) پیدائش کا کچھ حصہ ظاہر ہو جانا ہی کافی ہے مثلاََ ناخن اور بال وغیرہ ۔
[الفتاوى الهندية: 34/6 ، حاشية ابن عابدين: 587/6]
(مالکیہ ) دیت تب واجب ہو گی جب جنین مکمل ہو یا (کم از کم ) گوشت کا لوتھڑا بن چکا ہو ۔
[مواهب الجليل للحظاب: 257/6 ، الخرشى: 38/8 ، حاشية الدسوقى على الشرح الكبير: 268/4]
(شافعیؒ ، حنابلہ ) دیت اس وقت واجب ہو گی جب گوشت کا لوتھڑا بن چکا ہو اور یہ شہادت سے ثابت بھی ہو جائے ۔ شافعیہ کے نزدیک چار عورتوں کی شہادت اور حنابلہ کے نزدیک کچھ ثقہ عورتوں کی شہادت قبول ہو گی ۔
[المهذب: 198/2 ، المغنى: 406/8]
(ابن حجرؒ ) فرماتے ہیں کہ فقہا نے غرہ (غلام یا لونڈی ) کے وجوب میں یہ شرط لگائی ہے کہ جنین ماں کے پیٹ سے مردہ نکلے اور زندہ نکلے گا تو اس میں قصاص یا دیت واجب ہو گی ۔
[فتح البارى: 247/14]
❀ جنین کی موت اگر ماں کی موت کے بعد ہو۔
(احناف ، مالکیہ ) اگر جنین ماں کی موت کے بعد مردہ نکلے تو مارنے والے پر ماں کی دیت ہے اور جنین میں سوائے تعزیر کے کچھ نہیں ہے ۔
[بدائع الصنائع: 326/7 ، الشرح الكبير: 269/4 ، بداية المجتهد: 408/2 ، القوانين الفقهية: ص / 347]
(شافعیہ ، حنابلہ ) مارنے والے پر ماں کی دیت اور جنین کا غلام ادا کرنا واجب ہے ۔ اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ ماں کی موت کے بعد مردہ نکلے یا اس کی زندگی میں مردہ نکلے ۔
[المغني: 802/7 ، كشاف القناع: 22/6 ، مغنى المحتاج: 103/4]
(راجح ) شافعیہ وغیرہ کا مؤقف ہی احادیث کے زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے ۔