مضمون کے اہم نکات
فتویٰ: مرحوم کی طرف سے بہنوئی کے لیے الاٹ کردہ مکان کی ملکیت کا شرعی حکم
سوال:
درج ذیل مسئلہ کے متعلق قرآن و حدیث کی روشنی میں فتویٰ عطا فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں:
میرے برادر نسبتی، چوہدری عبدالحفیظ صاحب، نے تقریباً تیرہ یا چودہ سال قبل جھنگ نیا شہر کی ایک رہائشی اسکیم میں ایک پلاٹ میرے نام قرعہ اندازی کے ذریعے الاٹ کروایا۔ اس کے بعد انہوں نے اس پلاٹ پر دو کمرے، باورچی خانہ اور چار دیواری تعمیر کی۔
پلاٹ کی الاٹمنٹ اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد انہوں نے کئی بار مختلف مواقع پر، ہمارے سامنے اور اپنے دیگر قریبی رشتہ داروں کے سامنے، واضح طور پر یہ کہا کہ:
"یہ مکان میں ان کے لیے بنا رہا ہوں جن کے نام پر میں نے الاٹ کرایا ہے اور یہ مکان انہی کا ہے۔”
ان کے رشتہ دار اس بات کے گواہ ہیں۔
15 جنوری 1991ء کو حاجی صاحب کا انتقال ہوا (إنا لله وإنا إليه راجعون)۔ اپنی وفات سے قبل، موقع پر موجود اپنی دو بہنوں، بھانجوں اور بھانجیوں کے سامنے انہوں نے اپنے بہنوئی چوہدری محمد یوسف صاحب سے فرمایا:
"میرا ترکہ تم سب آپس میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کر لینا، لیکن مکان میں نے جن کے لیے الاٹ کروایا، ان کو دے چکا ہوں۔ تم تمام ورثاء اس بارے میں ہرگز جھگڑا نہ کرنا۔”
یہ بات انہوں نے مکمل ہوش و حواس کے ساتھ دوبارہ تاکید کے ساتھ فرمائی۔
مرحوم کے قریبی ورثاء میں ایک بیوہ اور چار بہنیں موجود ہیں۔ ان کی کوئی اولاد نہیں۔ مرحوم کی ترکہ میں شامل اشیاء درج ذیل ہیں:
◈ زرعی زمین
◈ گاؤں میں بائیس مرلہ کا مکان
◈ قیمتی گھریلو سامان
مزید یہ کہ مرحوم سرکاری پنشنر تھے اور ان کی پنشن ان کی بیوہ کو مل رہی ہے۔
اب مرحوم کی بیوہ اور دیگر ورثاء اس مکان پر جھگڑا کر رہے ہیں، جو انہوں نے اپنے بہنوئی (راقم) کے نام الاٹ کروایا تھا۔
براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں فتویٰ دیں کہ کیا اس مکان میں بیوہ اور دیگر ورثاء کا کوئی شرعی حق بنتا ہے یا نہیں؟
جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
(۱) جائیداد میں تصرف کا شرعی اختیار:
صورتِ مسئولہ میں، متوفی چوہدری حاجی عبدالحفیظ صاحب مرحوم اپنی زندگی میں اپنی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کے مکمل مالک تھے اور انہیں اپنی ملکیت میں تصرف کا شرعی حق حاصل تھا۔
(۲) پلاٹ کی الاٹمنٹ اور تعمیر:
انہوں نے اپنی زندگی میں، وفات سے تقریباً بارہ یا تیرہ سال قبل، اپنے بہنوئی کے نام پلاٹ الاٹ کروایا اور اس پر تعمیر بھی کی۔ یہ عمل وصیت کے زمرہ میں نہیں آتا بلکہ یہ اپنے بہنوئی کے ساتھ اعانت ہے، جو شرعی طور پر بالکل درست اور جائز ہے۔
(۳) شرعی ملکیت کا فیصلہ:
جس بہنوئی کے نام پر پلاٹ الاٹ کیا گیا اور مکان تعمیر کیا گیا، وہ شرعاً اس مکان کا مالک ہے۔
مرحوم کے دیگر ورثاء کا اس مکان میں کوئی شرعی حق نہیں۔
(۴) وراثت کی حدیث کا اطلاق:
چونکہ بہنوئی مرحوم کے وارث نہیں، لہٰذا ان کو دیا گیا مکان حدیث «لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ» کے تحت بھی نہیں آتا۔
لہٰذا یہ مکان مکمل طور پر بہنوئی کی ملکیت ہے اور اس پر ورثاء کا کوئی دعویٰ جائز نہیں۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب