مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مرحوم کی جائیداد کا ہبہ بھتیجے کو: ورثاء کا حصہ یا نہیں؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ صفحہ نمبر 582

سوال

کیافرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ مرحوم محمود کی دو بیویاں تھیں۔

✿ پہلی بیوی سے دو بیٹے تھے: محمد عثمان اور محمد عمر۔
✿ دوسری بیوی سے تین بیٹے تھے: محمد حسن عبدالواحد، رمضان اور ایک بیٹی مسمات سارہ۔

اس کے بعد محمد عثمان فوت ہوگئے۔ مرحوم نے اپنی وفات سے پہلے اپنی تمام ملکیت اپنے بھتیجے کو ہبہ کردی تھی۔ وضاحت فرمائیں کہ شریعتِ محمدی کے مطابق یہ ہبہ قائم رہے گا یا دوسرے ورثاء کو بھی اس میں حصہ ملے گا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اگر مرحوم نے اپنی پوری زندگی میں اپنی ملکیت اپنے بھتیجے کو ہبہ کردی تھی تو یہ ہبہ برقرار رہے گا۔ اس صورت میں پوری جائیداد کا مالک صرف محمد عمر کا بیٹا یعنی مرحوم کا بھتیجا ہی ہوگا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔