مرتد عورت کو قتل کرنے کا حکم
(ابن عمر رضی اللہ عنہما ، زہریؒ ، ابراہیمؒ ) مرتد عورت کو قتل کیا جائے گا ۔
[بخارى: قبل الحديث / 6922 ، كتاب استتابة المرتدين: باب حكم المرتد والمرتدة واستنابتهم]
(جمہور ، احمدؒ ، شافعیؒ ) اسی کے قائل ہیں ۔
(ابو حنیفہؒ ) عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ صرف قید کیا جائے گا ۔ ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران جنگ عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ۔
[تحفة الأحوذى: 850/4 ، فتح البارى: 284/12]
(راجح ) مرتد عورت کو بھی قتل کیا جائے گا ۔
اور جن عورتوں کے قتل سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا وہ ایسی عورتیں تھیں جو اصل میں کافر تھیں اور مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک نہیں تھیں ۔ البتہ جو مسلمان ہو کر مرتد ہو جائیں وہ دلائل کے عموم کے تحت ہوں گی یعنی :
من بدل دينه فاقتلوه
”جس نے (مرد ہو یا عورت ) اپنا دین بدل دیا اسے قتل کر دو ۔“
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دور خلافت میں ایک مرتد عورت کو قتل کیا تھا لیکن کسی صحابی سے اس پر انکار ثابت نہیں ۔
[مزيد تفصيل كے ليے ملاحظه هو: تحفة الأحوذي: 850/4 ، السيل الجرار: 373/4 ، فتح البارى: 284/12 ، الروضة الندية: 623/2 ، نيل الأوطار: 655/4 ، الأم للشافعي: 156/6 ، الإختیار: 149/4 ، الحجة على أهل المدينة: 530/3]