مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مرتد شخص کے اہل و عیال کے حقوق کا شرعی حکم

فونٹ سائز:

سوال

مضمون کے اہم نکات

جو شخص مرتد ہوگیا تو اس کے اہل و عیال کا کیا حکم ہے؟

جواب از فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

مرتد کے اہل و عیال پر اثر:

اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے اور حالت ارتداد میں فوت ہو جائے یا پھر اسلام کی طرف لوٹ آئے، اس صورت میں اس کے اہل و عیال پر اس کے مرتد ہونے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

قرآنی دلیل:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

“وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌”
[سورة الإسراء: 15]

’’اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘

حدیث مبارکہ:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ.”
[سنن ابن ماجہ: 2669]

’’خبردار! مجرم اپنے جرم پر خود پکڑا جائے گا، باپ کے جرم میں بیٹا نہ پکڑا جائے گا، اور نہ بیٹے کے جرم میں باپ۔‘‘

فقہی قاعدہ:

یہ اصول ثابت کرتا ہے کہ مرتد ہونے والے شخص کے گناہ کا بوجھ اس کے اہل و عیال پر نہیں ڈالا جائے گا۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔