ایک مرد کی شہادت اور مدعی کی قسم (کے ساتھ فیصلہ ہو گا )
➊ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ :
أن رسول الله قضي بيمين و شاهد
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ کیا ۔“
[مسلم: 1712 ، كتاب الأقضية: باب وجوب الحكم بشاهد ويمين ، ابو داود: 3608 ، ابن ماجة: 2370 ، احمد: 248/1]
➋ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
أن النبى صلى الله عليه وسلم قضى باليمين مع الشاهد
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے ساتھ فیصلہ کیا جس کے ساتھ ایک گواہ بھی موجود تھا ۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 1919 ، كتاب الأحكام: باب القضاء بالشاهد واليمين ، ابن ماجة: 2369 ، إروا الغليل: 303/8 ، ترمذي: 1344 ، احمد: 305/3 ، بيهقي: 170/10]
➌ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی عراق میں قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ کیا ۔“
[صحيح: صحيح ترمذي ، ترمذي: 1345 ، كتاب الأحكام: باب ما جآء فى اليمين مع الشاهد ، دارقطنی: 212/4]
➍ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
أن النبى صلى الله عليه وسلم قضى باليمين مع الشاهد
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے ساتھ فیصلہ فرمایا جس کے ساتھ ایک گواہ بھی تھا ۔“
[صحيح: صحيح أبو داود: 3076 ، كتاب القضاء: باب القضاء باليمين و الشاهد ، ابو داود: 3610 ، ابن ماجة: 238 ، ترمذي: 1343]
➎ اس معنی کی احادیث بیان کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد بیس کے قریب ہے ۔
[تلخيص الحبير: 206/4]
(جمہور ، مالکؒ ، شافعیؒ ) مدعی کی قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ کرنا جائز ہے ۔
(ابن حجرؒ ، شوکانیؒ ) اسی کے قائل ہیں ۔
(احناف ) قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ کرنا جائز نہیں ۔
[نيل الأوطار: 379/5 ، الأم للشافعي: 256/6 ، المغني لابن قدامة: 129/14 ، بداية المجتهد: 467/2]
احناف کا مستدل یہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مرد کی غیر موجودگی میں دو عورتوں کو گواہ بنانے کا ذکر کیا ہے ، اس کے بعد قسم کا ذکر نہیں کیا ۔ حالانکہ یہ استدلال اس وجہ سے غلط ہے کہ صحیح حدیث کے ذریعے ثابت ہونے والی قرآن پر زیادتی مستقل عمل کی حیثیت رکھتی ہے ایسا ہرگز نہیں ہے کہ اسے ترک کر دیا جائے گا ۔
بعض حنفیہ نے اس بات کا یوں جواب دیا ہے کہ قرآن پر حدیث کی زیادتی منسوخ ہے اور خبر واحد متواتر کو منسوخ نہیں کر سکتی نیز احادیث کی زیادتی کو قبول نہیں کیا جائے گا إلا کہ اس کے ساتھ خبر مشہور ہو ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ شیخ کا مطلب ہے ایک حکم کو ختم کرنا اور یہاں کسی حکم کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ قرآن کا حکم اپنی جگہ ثابت ہے اور حدیث کا حکم اپنے مقام پر ۔
اگر قرآن پر حدیث کی زیادتی قابل قبول نہیں تو عورت اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنا اور دوسری مرتبہ چوری میں پاؤں کاٹنا وغیرہ جیسے مسائل احناف کیوں تسلیم کرتے ہیں حالانکہ یہ قرآن کے علاوہ محض سنت سے ہی ثابت ہیں ۔
[نيل الأوطار: 379/5 – 380]
(راجح) جمہور کا موقف راجح و برحق ہے ۔
[فتح البارى: 615/5]
❀ ایک گواہ اور قسم کے ساتھ صرف مالی مسائل میں ہی فیصلہ ہو گا یا دوسرے معاملات میں بھی کیا جا سکتا ہے ، اس میں اختلاف ہے ۔
(مالکؒ ، شافعیؒ ) یہ فیصلہ صرف اموال کے معاملات میں خاص ہے ۔ حدود ، نکاح ، طلاق ، رجوع ، چوری ، قصاص وغیرہ میں اس کے ساتھ فیصلہ درست نہیں کیونکہ ان کی الگ تعیین موجود ہے مثلا :
حد قذف میں بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ [النور: 4] ”چار گواه ۔“
طلاق میں وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ [الطلاق: 2] ”اپنے دو عادل گواہ مقرر کر لو ۔“
قرض میں وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ [البقرة: 282] ”دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ۔“
[مزيد تفصيل كے ليے ديكهيے: الروضة الندبة: 556/2 – 557 ، المسوى: 226/2]
(ابن حزمؒ ) حدود کے علاوہ باقی سب مسائل میں قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ درست ہے اور جنہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال کے متعلق فیصلہ فرمایا تھا وہ بات ثابت نہیں ۔
[المحلى بالآثار: 490/8 – 491]
(نواب صدیق حسن خانؒ ) عادل گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلہ کرنا واجب ہے ۔
[الروضة الندية: 558/2 ، اس مسئلے كي مزيد تفصيل كے ليے ديكهيے: اعلام الموقعين: 32/1 – 38]