مدعی علیہ کی قسم اور فیصلہ: شرعی اصول و روایات

تحریر: عمران ایوب لاہوری

مدعی علیہ کی قسم اور تر دیدی قسم کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا
ایک طویل روایت میں ہے کہ ایک حضرمی اور ایک کندی جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے كندى سے كہا:
ألك بينة؟ قال لا قال فلك يمينه
”کیا تیرے پاس کوئی ثبوت ہے؟ اس نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تجھے اس کی قسم کا اعتبار کرنا ہو گا ۔“
اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! وہ تو گنہگار آدمی ہے وہ پرواہ نہیں کرے گا کہ کس بات پر قسم اٹھا رہا ہے اور وہ کسی چیز سے نہیں بچے گا (یعنی اس کے لیے جھوٹی قسم کھانا کوئی بڑی بات نہیں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليس لك منه إلا ذلك
”اب تیرے لیے اس كى طرف سے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 3084 ، كتاب القضاء: باب الرجل يحلف على علمه فيما غاب عنه ، ابو داود: 3623]
اس سے مراد یہ ہے کہ مدعی علیہ انکار کر دے تو مدعی سے قسم اٹھوا لی جائے ۔ اس کے اثبات میں کوئی واضح دلیل موجود نہیں ۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
أن النبى صلى الله عليه وسلم رد اليمين على طالب الحق
”کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کو مدعی پر لوٹا دیا ۔“ لیکن یہ روایت ضعیف ہے ۔
[ضعيف: إرواء الغليل: 267/8 ، 2642 ، دار قطني: 213/4 ، حاكم: 100/4]
البتہ وہ حدیث صحیح ہے جس میں ذکر ہے کہ قسم صرف مدعی علیہ کے ذمہ ہی ہے جیسا کہ اس میں یہ لفظ ہیں کہ :
ولكن اليمين على المدعي عليه
”اور لیکن قسم مدعی علیہ پر ہے ۔“

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾