جب مدعی کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو پھر اسے مدعی علیہ کی قسم تسلیم کرنا ہو گی اگرچہ وہ گنہگار و فاجر ہی کیوں نہ ہو
➊ حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے اور ایک آدمی کے درمیان کنوئیں کے معاملے میں جھگڑا تھا ۔ ہم جھگڑا لے کر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
شاهداك أو يمينه
”تمہیں دو گواہ پیش کرنے ہوں گے یا پھر اس سے قسم لی جائے گی ۔“
میں نے کہا :
إذن يحلف ولا يبالي
”پھر تو وہ بغیر کسی پرواہ کے قسم اٹھا لے گا ۔“
آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
من حلف على يمين يقتطع بها مال امرئ مسلم لقى الله وهو عليه غضبان
”جو شخص قسم اٹھا کر کسی مسلمان کا مال ناحق اڑا لے تو وہ اللہ تعالیٰ سے جب ملاقات کرے گا تو اللہ اس پر ناراض ہو گا ۔“
[بخاري: 2669 ، 2670 ، كتاب الشهادات: باب اليمين على المدعى عليه فى الأموال والحدود ، مسلم: 138]
➋ ایک روایت میں ہے کہ دو آدمی جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک (کندی) کے لیے کہا کہ کیا تمہارے پاس دلیل ہے ۔ اس نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فلك يمينه
”تیرے لیے پھر اس کی قسم ہے ۔“
تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول !
الرجل فاجر لا يبالي على ما حلف عليه وليس يتورع من شيئ فقال ليس لك منه إلا ذلك
”وہ آدمی تو گنہگار ہے وہ پرواہ نہیں کرے گا کہ کس بات پر قسم اٹھا رہا ہے اور نہ ہی وہ کسی چیز سے بچے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے لیے اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے ۔“
[مسلم: 139 ، كتاب الإيمان: باب وعيد من اقتطع حق مسلم بيمين فاجرة بالنار ، ابو داود: 2623 ، ترمذي: 1340 ، احمد: 317/4]
➌ ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
اليمين على من أنكر
”قسم وہ شخص اٹھائے گا جس نے انکار کیا ۔“
[بيهقي: 252/10]