مختلف فرقوں میں بٹے مسلمانوں آو توحید کی طرف اور شرک سے باز آجاؤ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس حافظ محمد علی فیصل کی مرتب کردہ کتاب” مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے مسلمانوں! آؤ لا إله إلا الله کی طرف“ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده

آسمانوں زمینوں اور تمام مخلوق سے زیادہ وزنی وظیفہ اور دعا کیلئے تعظیم وسیلہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ اے میرے رب مجھے ایسی چیز بتائیے جس کے ذریعے سے میں آپ کو یاد کیا کروں اور اس کے وسیلے سے آپ سے دعا کیا کروں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”مُوسَى لا إله إلا الله پڑھا کر۔“ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! اسے تو تیرے سارے ہی بندے پڑھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! اگر میرے سوا ساتوں آسمان اور ان کے سب رہنے والے اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور دوسرے پلڑے میں صرف لا إله إلا الله رکھ کر وزن کیا جائے تو لا إله إلا الله والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔
(نسائی: 10670، المستدرك للحاكم: 1936 صحیح علی شرط الشیخین)

آپ ﷺ  کی شفاعت کا مستحق کون؟

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ کون خوش نصیب شخص ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا مستحق ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص خلوص نیت سے کلمہ لا إله إلا الله کا اقرار کرے گا۔“ (بخاری: 99)
نوٹ: خلوص نیت سے کہنے کا مطلب ہے کہ شرک سے بچے، جو شرک سے نہ بچے وہ خلوص نیت سے اس کا قائل نہیں خواہ زبان سے اسے پڑھتا ہو۔

خالصتا اللہ کی رضا کیلئے کلمہ کے اقرار کی فضیلت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان سچے دل سے لا إله إلا الله کا اقرار کرتا ہے تو اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرش الہی کی طرف بڑھتا رہتا ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچا رہے۔“ (ترمذی: 3939 سندہ حسن)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص خالصتا اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے لا إله إلا الله کا اقرار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کے عذاب کو حرام کر دیتا ہے۔“ (بخاری و مسلم)

اعمال کی کمزوری کے باوجود جنت میں داخلہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دل کی گہرائیوں سے گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
وہ اکیلا ہے۔۔۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔
اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ کے بندے اور رسول اور اس کا کلمہ ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کی طرف بھیجا۔
اور وہ (عیسیٰ علیہ السلام) اس کی بھیجی ہوئی روح ہیں۔
اور جنت اور دوزخ برحق ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس گواہی دینے والے کو جنت میں داخل فرمائیں گے خواہ اس کے عمل کیسے ہی ہوں۔“ (بخاری: 3435 و مسلم: 149)

آج تجھ پر ظلم نہیں ہوگا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قیامت کے دن پوری کائنات کے سامنے ایک شخص کو بلایا جائے گا اس کے سامنے ننانوے رجسٹر اس کی برائیوں کے رکھ دیئے جائیں گے ہر رجسٹر اتنا لمبا چوڑا پھیلا ہو گا جتنی نظر کام کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال ہوگا کہ ان برائیوں میں سے کسی ایک برائی کا بھی انکار کر سکتا ہے؟ میرے نگران فرشتوں نے کہیں تجھ پر ظلم تو نہیں کیا۔
وہ جواب دے گا: اے میرے رب ایسا نہیں ہے۔
پھر سوال ہوگا کوئی عذر ہو تو پیش کرو یا کوئی نیکی ہو تو سامنے لاؤ ! !
بندہ ڈرتے ڈرتے جواب دے گا یا رب کوئی عذر بھی نہیں اور کوئی نیکی بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تیری ایک نیکی ہمارے پاس محفوظ ہے۔ یاد رکھ! آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
چنانچہ ایک کاغذ کا ٹکڑا نکالا جائے گا اس میں لکھا ہوگا أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله بندہ عرض کرے گا: یا اللہ! ان بڑے بڑے گناہوں کے انبار کے سامنے اس ٹکڑے کی کیا حیثیت ہے۔ جواب ملے گا: آج تجھ پر ظلم نہیں ہو گا۔
چنانچہ گناہوں کے وہ بڑے بڑے رجسٹر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں گے اور کاغذ کا ٹکڑا دوسرے پلڑے میں رکھ کر وزن کیا جائے گا تو وہ کلمے والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔
(ترمذی: 2850 سندہ حسن المستدرك: 9 صحیح علی شرط مسلم)
غور فرمائیں! گناہوں کے انبار کے مقابلے میں یہ کلمہ کیوں مقبول ہوا کیونکہ سچے دل سے پڑھا گیا تھا ورنہ عبد اللہ بن ابی منافق جو کلمہ بھی پڑھتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نمازیں بھی پڑھتا تھا اس کے باوجود اس کو کوئی عمل کام نہ آیا کیونکہ اس کی زبان پر تو کلمہ جاری تھا لیکن دل میں کفر تھا۔ معلوم ہوا کہ

اللہ کے ہاں قبولیت کا تعلق براہ راست انسان کے دل سے ہے

بعض اوقات دو اشخاص کلمہ پڑھتے ہیں لیکن ان کے خلوص میں کمی بیشی سے فضیلت کا اتنا فرق ہوتا ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔

لا إله إلا الله کے پڑھنے والے کو لازم ہے کہ

وہ لا إله إلا الله کے مطلب کو خوب اچھی طرح سمجھتا ہو جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے:
﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾
ترجمہ: پس خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
(47-محمد:19)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ لا إله إلا الله کی سمجھ رکھتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔“ (مسلم: 145)
اس کلمہ کا فائدہ تبھی پہنچے گا کہ اس میں جو اقرار کیا ہے خوب اچھی طرح سمجھ کر اس کے تقاضے پورے کرے ورنہ جہالت کے سوا کچھ نہیں۔

کلمہ طیبہ کے پہلے حصے لا إله کے معنی

”لا إله“ کا مطلب ہے کہ کوئی معبود نہیں۔۔۔ یعنی ایک اللہ کے اقرار سے پہلے۔۔۔ لا کا اقرار کروا کر پورے عالم کے تمام آقاؤں کی نفی کروائی گئی ہے۔ کیونکہ
⋆ آپ ایک ہی آقا کے نوکر اس وقت تک نہیں بن سکتے جب تک باقی تمام کی نوکری سے انکار نہ کر دیں۔
⋆ صرف ایک ہی چوکھٹ پر جب ہی سر جھک سکتا ہے جب دوسری تمام چوکھٹوں سے بے نیاز ہو جائے۔
⋆ جب آپ نے روشنی کو پسند کر لیا ہے تو ضمناً آپ نے تاریکی سے نفرت کا اظہار کر دیا۔
⋆ آپ ایک ہی جانب اپنا منہ نہیں کر سکتے جب تک آپ ہر طرف سے اپنا منہ نہ پھیر لیں۔

تمام باطل معبودوں کا انکار سب سے پہلی چیز ہے

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ”اے ابن آدم! اگر تو روئے زمین کے برابر گناہ لے کر آئے اور مجھ سے اس حال میں ملے کہ کسی کو میرے ساتھ شریک نہ کیا ہو تو میں روئے زمین کے برابر مغفرت لے کر تجھے ملوں گا۔“ (ترمذی: 3885 وقال الألباني: صحیح)

اللہ تعالیٰ شرک کو کبھی نہیں بخشے گا

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کو نہیں بخشے گا اور اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے گا بخش دے گا اور جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا درحقیقت وہ گمراہی میں بہت آگے نکل گیا ہے۔
(4-النساء:116)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا تھا وہ آگ میں داخل ہوگا۔“ (البخاری: 4497)

مکھی کی وجہ سے ایک آدمی جہنم میں چلا گیا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی صرف مکھی کی وجہ سے جنت میں چلا گیا اور دوسرا جہنم میں۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیسے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمی ایک قبیلے کے پاس سے گزرے اس قبیلے کا ایک بت تھا جس پر چڑھاوا چڑھائے بغیر کوئی آدمی وہاں سے نہیں گزر سکتا تھا چنانچہ ان میں سے ایک شخص سے کہا گیا کہ اس بت پر چڑھاوا چڑھاؤ اس نے کہا کہ میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں قبیلے کے لوگوں نے کہا تمہیں چڑھاوا ضرور چڑھانا ہو گا خواہ مکھی ہی پکڑ کر چڑھاؤ۔ مسافر نے مکھی پکڑی اور بت کی نذر کر دی۔ لوگوں نے اسے جانے دیا چنانچہ وہ اس چڑھاوے کی وجہ سے جہنم میں چلا گیا۔
قبیلے کے لوگوں نے دوسرے آدمی سے کہا تم بھی کوئی چیز بت کی نذر کرو اس نے کہا میں اللہ تعالیٰ عزوجل کے علاوہ کسی دوسرے کے نام کا چڑھاوا نہیں چڑھاؤں گا۔ لوگوں نے اسے قتل کر دیا اور وہ جنت چلا گیا۔“ (ابن ابی شیبہ، شعب الایمان للبیہقی: 7093)

اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود شرک کرتے ہیں

﴿‏ وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ﴾
اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ کو مانتے تو ہیں مگر اس طرح کہ ساتھ دوسروں کو شریک بھی ٹھہراتے ہیں۔
(12-يوسف:106)

عذاب سے بچنا بہت آسان تھا لیکن ابن آدم نہ مانا

رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا شخص سے کہے گا کہ اگر تیرے قبضے میں دنیا و مافیہا اور اس کے مثل مال و دولت ہوئی تو کیا آج وہ سب کچھ اس عذاب سے چھٹکارا پانے کے لئے فدیے میں دے دیتا؟ وہ کہے گا: ہاں۔
اللہ فرمائے گا: میں نے تو تجھ سے اس سے بھی آسان تر چیز مانگی تھی جب کہ ابھی تو پشت آدم میں تھا وہ یہ کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا ورنہ تجھے جہنم میں داخل کر دوں گا مگر تو نے نافرمانی کی اور شرک کر کے ہی رہا۔ (البخاری: 3334، مسلم: 7261)

شرک کیا ہے؟

اللہ نے ایک مثال سے ہمیں سمجھایا غور سے سنو

”اے لوگو! ایک مثال دی جارہی ہے اسے غور سے سنو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن معبودوں کو تم پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے خواہ وہ سب جمع ہو جائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ سب اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور ہیں اور جن سے مدد چاہتے ہو وہ بھی کمزور ہیں۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر ہی نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بہت طاقت اور عزت والا ہے۔“ (سورۃ الحج: 73,74)

سب سے زیادہ گمراہ کون؟

اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر ان سے دعا کرتا ہے جو قیامت تک اس کی دعاؤں کو قبول نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو ان کی دعاؤں سے ہی غافل ہیں۔

(سورۃ الاحقاف: 5)

اللہ کے سوا جن سے دعائیں کرتے ہو وہ تم ہی جیسے بندے ہیں

اللہ کے سوا جن سے تم دعائیں کرتے ہو وہ تم جیسے ہی بندے ہیں۔ پس دعائیں کرو ان سے۔ اگر تم سچے ہو تو انہیں چاہیے کہ وہ تمہاری دعاؤں کو قبول کریں۔

(سورۃ الاعراف: 194)

مردہ ہیں زندہ نہیں ان کو اتنا پر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے

اور اللہ کے علاوہ جن سے یہ دعائیں کرتے ہیں وہ کچھ پیدا نہیں کرتے اور وہ تو خود پیدا کئے گئے ہیں۔ مردے ہیں زندہ نہیں اور اتنا نہیں جانتے کہ کب انہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ تمہارا معبود بالکل اکیلا معبود ہے۔ تو جن کو آخرت کی زندگی کا یقین نہیں ان کے دل نہیں مانتے در حقیقت وہ متکبر ہیں۔

(سورۃ النحل: 20,21,22)

کہتے ہیں کہ اللہ کے حضور یہ ہمارے سفارشی ہیں

وہ اللہ کے سوا ان لوگوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نقصان اور فائدہ دے ہی نہیں سکتے اور کہتے ہیں کہ اللہ کے حضور یہ ہمارے سفارشی ہیں۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں کہ تم اللہ کو یہ نئی بات ایسے بتا رہے ہو جیسے اسے کوئی علم ہی نہیں ہے نہ آسمانوں کا اور نہ زمین کا۔ وہ پاک اور عالی شان ہے اس شرک سے جو یہ کر رہے ہیں۔ (سورۃ یونس: 18)

کہتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہیں

جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ دوسروں کو ولی بنا رکھا ہے (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کی بندگی اس غرض کے لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔ یقیناً اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا جس معاملہ میں یہ اختلاف کر رہے ہیں، جو لوگ جھوٹے ہوں اور حق کا انکار کرنے والے ہوں اللہ انہیں ہدایت نہیں دیتا۔ (سورۃ الزمر: 3)

میرے بندوں کو بتاؤ کہ میں تو بالکل قریب ہوں

﴿‏ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ﴾
ترجمہ: اے نبی میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انھیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کو قبول کرتا ہوں۔ تو انہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راہ پر آئیں۔
(2-البقرة:186)
﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾
تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔
(40-غافر:60)

کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے عطا کروں؟

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا بزرگ و برتر پروردگار آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش چاہے اور میں اسے بخش دوں؟“ (البخاری: 1145، مسلم: 1808)

تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں

حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان: ”اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں لہذا مجھ ہی سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں پہناؤں پس تم مجھ ہی سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔“ (مسلم: 6737)

اللہ تعالیٰ کیلئے افسران وغیرہ کی مثالیں مت دو

﴿فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الْأَمْثَالَ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾
”لوگو! تم اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں نہ دیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے۔“
(16-النحل:74)

اکیلے اللہ کے ذکر سے یہ بہت کڑھتے ہیں

﴿وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ﴾
”جب اکیلے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو فورا خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔“
(39-الزمر:45)

فوت شدہ بزرگوں کی یادگاریں شرک کا سبب بنیں

قرآن پاک میں قوم نوح علیہ السلام کے پانچ معبودوں ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کا ذکر ہے جن کی پرستش کی وجہ سے قوم نوح کو غرق کیا گیا۔ ان کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اس قوم کے یہ نیک لوگ تھے جب وہ مر گئے تو شیطان نے ان کی قوم کو یہ بات سمجھائی کہ یہ نیک لوگ تھے۔ ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے ان کی تصویر میں اور مجسمے بنا لو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ ان کے بعد ان کی بے عقل اولادوں نے ان بزرگوں کی تصویروں اور مجسموں کی باقاعدہ پرستش شروع کر دی۔ (البخاری: 4920)

اللہ کی مخلوق میں بدترین لوگ

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ملک حبشہ میں عیسائیوں کا ایک گرجا دیکھا جس میں تصاویر بھی تھیں۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ چشم دید منظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں اگر کوئی صالح اور دین دار شخص فوت ہو جاتا تو یہ لوگ اس کی قبر کے پاس مسجد بنا لیتے اور پھر فوت شدہ شخص کی تصویر بنا لیتے تھے۔ فرمایا کہ اللہ کی مخلوق میں اس قسم کے افراد بدترین لوگ ہیں۔ (البخاری: 1341، مسلم: 1209)

قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والے شریر ترین لوگ ہیں

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدترین اور شریر ترین لوگ وہ ہوں گے جن کی زندگی میں بڑے بڑے آثار قیامت نمودار ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو قبروں کو سجدہ گاہ بنائیں گے۔ (ابو حاتم، صحیح)

قبر کو پختہ بنانا اور اس پر بیٹھنا

جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو پختہ بنانے اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم: 2289)

خبردار! میں تم کو قبروں میں مساجد تعمیر کرنے سے منع کرتا ہوں

جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پانچ روز قبل یہ فرماتے ہوئے سنا:
خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا کرتے تھے میں تم کو قبروں پر مساجد تعمیر کرنے سے منع کرتا ہوں۔ (مسلم: 1216)

آپﷺ کے ارشاد کے مطابق لعنتی کون؟

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں کو لعنتی قرار دیا ہے جو قبروں کی بہت زیارت کرتی ہیں اور ان لوگوں کو بھی لعنتی قرار دیا جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور قبروں پر چراغاں کرتے ہیں۔ (سنن الترمذی: 321 وقال حديث حسن، ابن ماجه: حسن)

رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت فرمائی کیونکہ وہ نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے تھے۔ (البخاری)

اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر جانور ذبح کرے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔“ (مسلم: 5239)

قبر والوں کو آپ ﷺ بھی نہیں سنا سکتے

اور برابر نہیں ہو سکتا اندھا اور آنکھوں والا اور نہ ہی اندھیرا اور روشنی اور نہ ہی سایہ اور دھوپ اس طرح برابر نہیں ہو سکتے زندہ اور مردے۔ اللہ جس کو چاہے سناتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں سنا سکتے ان کو جو قبروں میں ہیں۔ (سورۃ فاطر: 22)

قبروں پر میلے اور عرس

میری قبر کو میلوں ٹھیلوں اور عرسوں کی جگہ نہ بنا لینا اور مجھ پر درود بھیجو پس بے شک تمہارا درود مجھ تک پہنچا دیا جاتا ہے تم جہاں پر بھی ہو۔ (ابوداؤد: 2044، احمد وقال الألباني: صحیح)

جو شخص ہڈی پتھر منکے اور سیپی وغیرہ لٹکائے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تمیمہ (ہڈی، پتھر اور سیپی وغیرہ) لٹکاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی خواہش کو پورا نہ کرے اور جو شخص شفا پانے کے لئے گھونگے لٹکائے اللہ اسے آرام نہ دے۔ (صحیح ابن حبان)
ایک اور روایت میں ہے کہ جس شخص نے اپنے گلے میں تمیمہ (ہڈی، پتھر، سیپی اور منکے وغیرہ) لٹکائے اس نے شرک کیا۔ (مسند احمد: 17884، صحیح ابن حبان: 6086)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھاڑ پھونک کے شرکیہ دم تمیمہ (ہڈی، پتھر منکے سیپیاں اور نظر بد کے جوتے لٹکانا) اور محبت کے ٹوٹکے کرنا سب شرک ہے۔“ (ابوداؤد: 3883 وقال الألبانی: صحیح)

آدمی دم والے دھاگے کے سپرد

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے گلے یا بازو میں کوئی چیز لٹکاتا ہے تو اس کی ذمہ داری اسی چیز کے سپرد کر دی جاتی ہے۔“ (ترمذی: 2072 وقال: حسن)
حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے ہاتھ میں بخار کی وجہ سے دھاگہ دم کیا ہوا دیکھا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے کاٹ دیا اور پھر سورۃ یوسف کی آیت 106 تلاوت فرمائی کہ:
”ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے تو ہیں مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔“ (ابن ابی حاتم : 12872)

جانور کے گلے میں نظر بد کی رسی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کو بھیجا کہ کسی اونٹ کی گردن میں کوئی ایسی رسی یا ہار باقی نہ رہنے دیا جائے (جو نظر بد وغیرہ کے سلسلے میں لوگ باندھ دیا کرتے تھے) اگر نظر آئے تو اس کو فورا کاٹ دیا جائے۔ (بخاری: 3005 و مسلم: 2115)

بیماری کی وجہ سے بازو میں پیتل کا چھلہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بازو میں پیتل کا چھلہ دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ اس شخص نے کہا کہ واہنہ بیماری کی وجہ سے پہنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس چھلے کو پہنے ہوئے تجھے موت آ جاتی تو تو اسی کے سپرد کر دیا جاتا۔“ (طبرانی: 14770 وقال الألبانی: صحیح)

اللہ کے سوا کسی اور کی قسم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔“ (ترمذی: 1535 وقال الألبانی: صحیح)

ستاروں کی گردش پر ایمان لانے والے کافر ہو گئے

زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام حدیبیہ میں ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ اس رات بارش ہوئی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آج صبح میرے بہت سے بندے مومن ہو گئے اور بہت سے کافر۔ جس نے یہ کہا کہ یہ بارش اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت سے ہوئی ہے وہ مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کی پرستش سے انکار کیا۔ اور جس نے یہ کہا کہ یہ بارش فلاں فلاں ستارے کی گردش کی وجہ سے ہوئی ہے اس نے میرا انکار کیا اور ستاروں پر ایمان لایا۔ (بخاری: 4147 و مسلم: 240)

مشرکین سے نکاح ہرگز نہ کرو

اور اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے ہرگز نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ایک آزاد مشرک مرد سے مومن غلام زیادہ بہتر ہے خواہ وہ( مشرک مرد )تمہیں کتنا ہی پسند ہو۔ (سورۃ البقرۃ: 221)

مشرکین کے لئے بخشش کی دعا نہ کرو

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والوں کو یہ لائق نہیں کہ وہ مشرکین کے لئے بخشش مانگیں خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ (سورۃ التوبہ: 113)

دراصل یہ لوگ تو جانوروں کی طرح ہیں

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
”ہم نے بہت سے جن و انسان جہنم کے لئے پیدا کئے ہیں۔
ان کے دل ہیں مگر سمجھنے کے لئے استعمال نہیں کرتے۔
ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔
ان کے کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔
دراصل یہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔“ (سورۃ الاعراف: 179)

اگر نجات چاہتے ہو تو سوچو اور غور کرو

کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار اس وقت تک نہیں بن سکتا

جب تک کہ تمام شیطانی قوتوں کا باغی نہ ہو جائے اور شیطان کی طاقت کا ایک بڑا مرکز انسان کی اپنے جی میں اٹھنے والی خواہشات ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ﴾
ترجمہ: کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو اپنی خواہشات کو معبود بنائے بیٹھا ہے۔
پس مقام لا إله إلا الله کو حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے اپنی خواہشات کے بت کی پوجا ترک کر دے خواہ وہ دولت دنیا کی خواہش ہو یا خاندان اور برادری کے رسوم و رواجات۔ غرض اللہ کی محبت میں اتنا شدید ہو کہ اس کی محبت میں تمام خواہشات اور محبتوں سے اپنے دل کو آزاد کر دے۔ اللہ نے اپنے خاص بندوں کی یہ علامت ارشاد فرمائی ہے کہ
﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ﴾
ترجمہ: ایمان والے لوگ اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں۔ (2-البقرة:165)
سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے خاندان اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور تمہارے وہ کاروبار جن کے مندے سے تم ڈرتے ہو اور تمہاری وہ رہائش گاہیں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ سب کچھ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو تم اللہ کے حکم سے عذاب کے آنے کا انتظار کرو۔ اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ (سورۃ التوبہ: 24)