سوال:
مختار ثقفی کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب:
مختار بن ابی عبید ثقفی عام الہجرہ میں پیدا ہوا، اس کی زندگی کے مختلف ادوار ہیں۔ آخر میں اس نے دعوی نبوت کر دیا تھا۔
❀ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن فى ثقيف كذابا ومبيرا.
” ثقیف میں ایک کذاب اور ایک مبیر ہوگا۔“
(صحیح مسلم: 2545)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
اتفق العلماء على أن المراد بالكذاب هنا المختار بن أبى عبيد وبالمبير الحجاج بن يوسف والله أعلم.
”اہل علم کا اجماع ہے کہ اس حدیث میں کذاب سے مراد مختار بن ابی عبید اور مبیر سے مراد حجاج بن یوسف ہے، واللہ اعلم!“
(شرح النووي: 100/16)
❀ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
القرآن ما منه حرف أو قال: آية، شك عمرو، إلا وقد عمل به قوم أو قال: بها قوم، أو سيعملون بها قال مرة: فقرأت ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ﴾ (الأنعام: 93)، فقلت: من عمل بهذه حتى كان المختار بن أبى عبيد.
قرآن کا کوئی حرف یا آیت نہیں (راوی عمرو بن مرہ کو شک ہے۔) مگر اس پر لوگوں نے عمل کیا ہے یا عنقریب عمل کریں گے۔ مرہ ہمدانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں یہ آیت پڑھا کرتا تھا: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ﴾ (الانعام: 93)” اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے، جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا کہے کہ میرے طرف وحی ہوتی ہے، جبکہ اس کی طرف وحی نہیں ہوتی ہو اور جو کہے کہ عنقریب (اس پر بھی) ایسی ہی کتاب نازل ہوگی، جو اللہ تعالیٰ نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر) نازل کی ہے۔ میں (مرہ رحمہ اللہ) سوچتا تھا کہ اس پر کون عمل کرے گا؟ یہاں تک مختار بن ابی عبید ثقفی نے عمل کر دیا۔“
(دلائل النبوة للبيهقي: 484/6، وسنده صحيح)