مخالفین رفع یدین کے شبہات کا مدلل رد اصول محدثین کی روشنی میں

یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

مخالفین رفع یدین کے شبہات کا مدلل رد

اب مخالفین رفع یدین ، تارکین اور مدعیان نسخ کے شبہات کا مختصر اور جامع جائزہ پیش خدمت ہے:
➊ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: کیا میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟
پھر انھوں نے نماز پڑھی اور رفع یدین نہیں کیا مگر صرف پہلی دفعہ
(ابو داود: 748 من طريق سفيان الثوري عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة عن عبد الله بن مسعود به وقال : هذا حديث مختصر من حديث طويل و ليس هو بصحيح على هذا اللفظ الترمذی: 257 وقال : حدیث حسن النسائی: 1059،1027، یہ روایت بلحاظ سند ضعیف ہے۔)
اس روایت کی سند میں ایک راوی امام سفیان بن سعید الثوری رحمہ اللہ ہیں جو کہ مدلس ہیں اور روایت عن سے کر رہے ہیں لہذا اصولِ حدیث کی رو سے یہ سند ضعیف ہے۔
سفیان الثوری کے شاگرد ابو عاصم ( الضحاک بن مخلد النبیل ) ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ
نرى أن سفيان الثوري إنما دلسه عن أبى حنيفة
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بے شک سفیان ثوری نے اس روایت میں ابوحنیفہ سے تدلیس کی ہے۔ [سنن الدارقطنی 201/3 ح 3423 وسندہ صحیح]
حافظ ابن حبان البستی فرماتے ہیں:
وأما المدلسون الذين هم ثقات و عدول فإنا لا نحتج بأخبارهم إلا ما بينوا السماع فيما رووا مثل الثوري و الأعمش و أبى إسحاق و أضرابهم
اور مدلس جو ثقہ و عادل ہیں جیسے ( سفیان) ثوری، اعمش اور ابو اسحاق (السبیعی ) وغیر ہم تو ہم ان کی ( بیان کردہ ) احادیث سے حجت نہیں پکڑتے الا یہ کہ انھوں نے سماع کی تصریح کی ہو۔ (الاحسان طبع مؤسسة الرسالۃ 161/7 قبل ح 1)
قسطلانی ، عینی اور کرمانی فرماتے ہیں:
سفیان (ثوری )مدلس ہیں اور مدلس کی عن والی روایت حجت نہیں ہوتی الا یہ کہ دوسری سند سے (اس روایت میں ) سماع کی تصریح ثابت ہو جائے۔ (ارشاد الساری شرح صحیح البخاری للقسطلانی ج ص 286، عمدة القاري للعینی ج 3 ص 112، شرح الکرمانی ج 3 ص 62)
ابن الترکمانی الحنفی نے کہا : الثوري مدلس و قد عنعن ثوری مدلس ہیں اور انھوں نے یہ روایت عن سے بیان کی ہے۔ ( الجوہر المثنی ج 8 ص 362]
تفصیل کے لیے دیکھئے میرا رسالہ ”التأسيس في مسألة التدليس“ ص32،20

تنبیہ اول:

سفیان ثوری کی اس معنعن روایت کی نہ کوئی متابعت ثابت ہے اور نہ کوئی شاہد، العلل للدارقطنی میں متابعت والا حوالہ بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

تنبیہ ثانی:

امام ابن المبارک ، الشافعی، ابوداوداور دارقطنی وغیر ہم جمہور محدثین نے اس روایت کو غیر ثابت شدہ اور ضعیف قرار دیا ہے۔
➋ یزید بن ابی زیاد الکوفی نے عبد الرحمن بن ابی لیلی ( ثقہ تابعی ) سے روایت کی ہے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کانوں تک رفع یدین کرتے تھے ( اور ) پھر دوبارہ (رفع یدین) نہیں کرتے تھے ۔
(ابوداود: 752 وقال : هذا الحدیث لیس صحیح)
یہ روایت یزید بن ابی زیاد کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ یزید کو جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ یزید بن ابی زیاد کی متابعت میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی کی ایک روایت پیش کی جاتی ہے۔ [ ابو داود : 749 وسنده ضعیف، محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی نے یہ روایت یزید بن ابی زیاد سے لی ہے ۔ (کتاب العلل لاحمد بن حنبل ج1 ص 143 رقم 693 و معرفته السنن و الآثار للبیہقی ج 1ص 219 مخطوط ) لہذا یہ متابعت مردود ہے ۔]
اس روایت میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ دیکھئے فیض الباری لا نورشاہ الکشمیر ی الدیو بندی ( ج 3 ص 168)
➌ باطل سند کے ساتھ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی ہے ۔ وہ شروع نماز میں تکبیر تحریمہ کے سوا ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔
(الدار قطنی 295 ح 120 وقال : تفرد به محمد بن جابر دكان ضعیفا)
اس کا راوی محمد بن جابر جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ [ مجمع الزوائد ج 5 ص 191]
امام احمد بن حنبل نے محمد بن جابر کی اس روایت کے بارے میں فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہے۔ [ کتاب العلل ج1ص 514 رقم 701 ]
حاکم نیشاپوری نے کہا: هذا إسناد ضعيف [ معرفة السنن والآثار البیہقی ج1 ص 220]
اس روایت میں دوسری علت یہ ہے کہ حماد بن ابی سلیمان مختلط ہے۔ دیکھئے مجمع الزوائد ج 1 ص 911،120 وقال :ولا يقبل من حديث حماد بن أبى سليمان إلا ما رواه عنه القدماء : شعبة و سفيان الثوري و الدستوائي و من عدا هؤلاء رووا عنه بعد الإختلاط حماد بن ابی سلیمان کی صرف وہی حدیث مقبول ہے جسے شعبہ، ثوری اور ( ہشام ) الدستوائی نے بیان کیا ہے ۔ ان کے علاوہ سب لوگوں نے حماد کے اختلاط کے بعد بیان کی ہے۔]
➍ بعض لوگ حبیب الرحمن اعظمی دیوبندی کی تحقیق سے شائع شدہ مسند حمیدی سے ایک روایت ” فلا يرفع “ ( ح 614) پیش کرتے ہیں حالانکہ مسند حمیدی کے دو قدیم نسخوں اور حسین سلیم اسد الدارانی ( الشامی) کی تحقیق سے شائع شدہ مسند حمیدی میں ”فلا يرفع“ کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ رفع یدین کا اثبات ہے۔ (مطبوعہ دار السقا، دمشق، داریا، ج 1 ص 515 626)
حسین الدارانی کے نسخے میں حدیث مذکور کی سند و متن پیش خدمت ہے:
حدثنا الحميدي قال حدثنا سفيان قال: حدثنا الزهري قال : أخبرني سالم بن عبد الله عن أبيه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه و إذا أراد أن يركع و بعد ما يرفع رأسه من الركوع ولا يرفع بين السجدتين
ابو نعیم الاصبہانی نے المستخرج علی صحیح مسلم میں یہ روایت حمیدی کی سند سے اسی سند و متن کے ساتھ نقل کی ہے۔ [ ج 2 ص 12 ح 856]
➎ بعض لوگ مسند ابی عوانہ کی ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں لا يرفعهما سے پہلے” و “ گر گئی ہے حالانکہ مسند ابی عوانہ کے دو قلمی نسخوں میں یہ ”و “موجود ہے جس سے رفع یدین کا اثبات ہوتا ہے نفی نہیں ہوتی ۔
➏ بعض لوگ ایسی روایات پیش کرتے ہیں جن میں ترک رفع یدین کا ذکر نہیں ہوتا مثلاً المدونة الكبری ( ج 1 ص 71 ) کی روایت وغیرہ ، حالانکہ ایک روایت میں ذکر موجود ہونے کے بعد دوسری روایت میں عدم ذکر سے نفی لازم نہیں آتا ۔
(نیز دیکھئے الجوہر النقی لابن الترکمانی الحنفی ج 4 ص 317، الدرایہ مع الهدایہ ج 1 ص 177)
دوسرے یہ کہ المدونۃ الکبری غیر ثابت اور غیر مستند کتاب ہے۔ دیکھئے میری کتاب القول االمتين في الجہر بالتامين (ص73)
➐ بعض لوگ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا ہے کہ میں تمھیں ہاتھ اٹھاتے ہوئے اس طرح دیکھتا ہوں جیسے شریر گھوڑوں کی دُم ہوتی ہیں، نماز میں سکون اختیار کرو۔
(مسلم : 430 و ترقیم دارالسلام : 968)
یہ روایت مسند احمد ( ج 5 ص 93 ح 21166) میں” وهم قعود“ (اور وہ بیٹھے ہوئے تھے ) کے الفاظ کے ساتھ مختصراً موجود ہے جس سے ثابت ہوا کہ یہ روایت قیام والے رفع یدین کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس میں قعدے ( تشہد ) والی حالت بیٹھنے میں ہاتھ اٹھانے سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ شیعہ ”حضرات“ کرتے ہیں ۔ جس کا مشاہدہ آج بھی کیا جا سکتا ہے۔ شیعہ کے رو والی حدیث کو اہلِ سنت کے رفع یدین کے خلاف پیش کرنا ظلم عظیم ہے۔
اسی لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے استدلال کرنے والے کو ”لا يعلم“(بے علم ) قرار دیا ہے۔ (جزء رفع الیدین تحقیقی : 37)
امام نووی اس استدلال کو بدترین جہالت کہتے ہیں ۔ (المجموع شرح المہذب ج 4 ص 403)
محمود حسن دیوبندی ”اسیر مالٹا“ فرماتے ہیں کہ
”باقی اذناب الخیل کی روایت سے جواب دینا بروئے انصاف درست نہیں کیونکہ وہ سلام کے بارہ میں ہے صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم بوقت سلام نماز میں اشارہ بالید بھی کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرما دیا۔“ (الورد الشذى على جامع الترمذی ص 63، تقاریر شیخ الہند ص 65)
محمد تقی عثمانی دیوبندی فرماتے ہیں کہ
”لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ اس حدیث سے حنفیہ کا استدلال مشتبہ اور کمزور ہے ۔“ [ درس ترمذی ج 2 ص 36]
معلوم ہوا کہ رفع الیدین قبل الرکوع وبعدہ کے خلاف ایک روایت بھی ثابت نہیں ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے