محمد بن عبدالباقی الزرقانی کی امام ابن تیمیہؒ پر تنقید اور اس کی علمی حیثیت

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

محمد بن عبدالباقی الزرقانی (متوفی: 1122ھ) کی شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ پر کی گئی تنقید کے حوالے سے زیرِ بحث مواد کا خلاصہ یہ ہے کہ زرقانی نے امام ابن تیمیہؒ کے اس موقف کے رد میں، جس میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرۂ مبارک کی طرف منہ کر کے دعا مانگنے سے متعلق ایک مشہور حکایت کو امام مالکؒ پر جھوٹ قرار دیا، ایک ایسی روایت اور حکایت سے استدلال کیا جسے بعد کے ناقدین نے سخت محلِّ نظر قرار دیا۔ اس مقالے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ فراہم کردہ مواد کے مطابق زرقانی کی یہ تنقید محض ایک فقہی اختلاف نہیں، بلکہ ایک ایسی حکایت کے دفاع پر مبنی ہے جس کی سند میں محمد بن حمید الرازی جیسے مجروح راوی کا ذکر آتا ہے، اور اسی بنا پر اس پر اعتماد کو علمی لحاظ سے ناقابلِ اطمینان قرار دیا گیا ہے۔ زیرِ نظر سطور میں ہم ایک ایک نقل، اس کا اردو ترجمہ، حوالہ، اور مختصر وضاحت پیش کرتے ہیں تاکہ اصل مدعا واضح ہو جائے۔

اصل موضوع اور دلائل

❶ زرقانی کی امام ابن تیمیہؒ پر صریح تنقید

محمد بن عبدالباقی الزرقانی نے لکھا:

ولكنه لما ابتدع له مذهبًا وهو عدم تعظيم القبور ما كانت، وأنها إنما تزار للاعتبار والترحّم، بشرط أن لا يشد إليها رحل، صار كل ما خالف ما ابتدعه بفاسد عقله عنده كالصائل لا يبالي بما يدفعه، فإذا لم يجد له شبهة واهية يدفعه بها بزعمه، انتقل إلى دعوى أنه كذب على من نسب إليه مباهتة ومجازفة، وقد أنصف من قال فيه: علمه أكبر من عقله۔

اردو ترجمہ:
لیکن جب اس نے اپنے لیے ایک ایسا مذہب گھڑ لیا کہ قبور کی کسی بھی قسم کی تعظیم نہ کی جائے، اور ان کی زیارت صرف عبرت اور ترحم کے لیے ہو، وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ ان کی طرف سفر نہ کیا جائے، تو پھر جو چیز بھی اس کے خود ساختہ مذہب کے خلاف آئی، اس کے نزدیک وہ ایسی بن گئی جیسے کوئی حملہ آور ہو جسے کسی بھی طرح دفع کرنا ہو۔ پھر جب اسے اپنے گمان کے مطابق کوئی کمزور سا شبہ بھی نہ ملا جس سے وہ اس کا جواب دے سکتا، تو اس نے یہ دعویٰ شروع کر دیا کہ یہ بات اس شخص کی طرف جھوٹ باندھ کر منسوب کی گئی ہے۔ اور جس نے یہ کہا کہ اس کا علم اس کی عقل سے بڑا تھا، اس نے انصاف کیا۔

الكتاب: شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية
المؤلف: أبو عبد الله محمد بن عبد الباقي بن يوسف بن أحمد بن شهاب الدين بن محمد الزرقاني المالكي (المتوفى: 1122هـ)

مختصر وضاحت:
یہ عبارت اس پورے نزاع کی بنیاد ہے۔ زرقانی نے یہاں صرف علمی اختلاف پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ امام ابن تیمیہؒ کے منہج اور عقل پر بھی صریح حملہ کیا ہے۔ چنانچہ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ آیا وہ حکایت، جس کے دفاع میں یہ سخت کلامی کی گئی، واقعی قابلِ اعتماد بھی تھی یا نہیں۔

❷ شمس الدین الافغانیؒ کی زرقانی پر سخت تنقید

علامہ شمس الدین الافغانیؒ نے لکھا:

فقد وقع في طامتين:
الأولى: خرافة قبورية.
والثانية: خيانة علمية حيث نقل كلامه بالنص والفص بدون العزو إليه.
ومنهم الزرقاني (1122 هـ) ، ومنهم النبهاني (1350 هـ) وغيرهم من القبورية ولا سيما البريلوية، والكوثرية.

اردو ترجمہ:
پس وہ دو بڑی آفتوں میں مبتلا ہوا: پہلی، قبوری خرافہ۔ دوسری، علمی خیانت؛ کیونکہ اس نے کسی کے کلام کو لفظ بہ لفظ نقل کیا مگر اس کی نسبت بیان نہ کی۔ اور ان لوگوں میں زرقانی (1122ھ)، نبہانی (1350ھ) اور دوسرے قبوری لوگ بھی شامل ہیں، خصوصاً بریلوی اور کوثری۔

الكتاب: جهود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية
المؤلف: أبو عبد الله شمس الدين بن محمد بن أشرف بن قيصر الأفغاني (المتوفى: 1420هـ)

مختصر وضاحت:
اس نقل میں زرقانی پر دو بڑے اعتراضات کیے گئے ہیں: ایک قبوری نظریات کی ترویج، اور دوسرا علمی امانت میں خلل۔ زیرِ بحث مواد کی تشکیل میں یہ اقتباس اس لیے اہم ہے کہ یہ زرقانی کے منہج پر براہِ راست جرح کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

❸ قبروں میں انبیاء علیہم السلام سے متعلق ایک اور منقولہ خرافی قول

علامہ شمس الدین الافغانیؒ ہی نے مزید لکھا:

أقول: القول بخرافة جماع الأنبياء عليهم السلام في قبورهم أزواجهم يوجد عند القبورية قبل الديوبندية؛ فقد قال بهذه الخرافة الزرقاني (1122هـ) ، كما شهد عليه خلفه أحمد رضا خان الأفغاني إمام البريلوية الوثنية (1340هـ) كما سمعته آنفا،

اردو ترجمہ:
میں کہتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام کے اپنی قبروں میں اپنی ازواج سے مباشرت کرنے کی خرافات دیوبندیوں سے پہلے قبوری لوگوں میں پائی جاتی تھی؛ چنانچہ زرقانی (1122ھ) نے بھی اس خرافات کو اختیار کیا، جیسا کہ اس کے بعد آنے والے احمد رضا خان نے بھی اس کی تائید کی، جیسا کہ اوپر گزر چکا۔

الكتاب: جهود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية
المؤلف: أبو عبد الله شمس الدين بن محمد بن أشرف بن قيصر الأفغاني (المتوفى: 1420هـ)

مختصر وضاحت:
یہ اقتباس زرقانی کے بارے میں اس مواد میں بیان کردہ مجموعی تنقید کو مزید شدید کرتا ہے۔ اس سے مصنف یہ تاثر دیتا ہے کہ زرقانی کے بعض نظریات صرف زیارتِ قبور کے مسئلے تک محدود نہ تھے، بلکہ ان کے ہاں ایسے تصورات بھی پائے جاتے تھے جنہیں ناقدین نے خرافات شمار کیا۔

❹ زرقانی کی اپنی عبارت: ابن فورک کے حوالے سے

محمد بن عبدالباقی الزرقانی نے لکھا:

ونقل السبكي في طبقاته عن ابن فورك "بضم فسكون” "أنه عليه السلام حي في قبره، رسول الله أبد الآباد” أي: في جميع الأزمنة، الصادق بما بعد موته إلى قيام الساعة، "على الحقيقة لا المجاز”، لحياته في قبره، يصلي فيه بأذان وإقامة.
قال ابن عقيل الحنبلي: ويضاجع أزواجه ويستمتع بهن أكمل من الدنيا. وحلف ذلك، وهو ظاهر ولا مانع منه.

اردو ترجمہ:
اور سبکی نے اپنی طبقات میں ابن فورک سے نقل کیا ہے کہ نبی علیہ السلام اپنی قبر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہیں، یعنی تمام زمانوں میں، اور اپنی وفات کے بعد قیامت تک حقیقی طور پر زندہ ہیں نہ کہ مجازی طور پر؛ اپنی قبر میں اذان اور اقامت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ ابن عقیل الحنبلی نے کہا: وہ اپنی ازواج کے ساتھ مباشرت کرتے ہیں اور ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں، بلکہ یہ دنیا سے بھی کامل تر ہے، اور اس پر قسم بھی کھائی گئی، اور بظاہر اس میں کوئی مانع نہیں۔

الكتاب: شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية
المؤلف: أبو عبد الله محمد بن عبد الباقي بن يوسف بن أحمد بن شهاب الدين بن محمد الزرقاني المالكي

مختصر وضاحت:
یہ نقل خود زرقانی کے فکری پس منظر کو واضح کرنے کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ زیرِ بحث مواد کے مصنف کے نزدیک یہ عبارت زرقانی کے ان عقائد کو نمایاں کرتی ہے جنہیں وہ غلو اور خرافات سے تعبیر کرتا ہے۔

❺ محمد بن الحسن بن فورک پر حافظ ذہبیؒ کی جرح

حافظ ذہبیؒ نے محمد بن الحسن بن فورک کے بارے میں لکھا:

203- محمد بْن الحَسَن بْن فُورك.
أبو بَكْر الإصبهانيّ الفقيه المتكلَّم.
قلت: كَانَ مَعَ دينه صاحب قَلَبَه وبدعة.

اردو ترجمہ:
203۔ محمد بن الحسن بن فورک، ابو بکر اصفہانی، فقیہ اور متکلم تھے۔ میں (ذہبی) کہتا ہوں: اپنی دینداری کے باوجود وہ قلبی میلان رکھنے والے اور بدعت والے تھے۔

الكتاب: تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام

مختصر وضاحت:
یہ نقل اس لیے لائی گئی ہے کہ زرقانی کے بعض منقولات کا ایک فکری سرچشمہ ابن فورک کو قرار دیا جا رہا ہے، اور پھر اس سرچشمے ہی پر جرح دکھا کر پورے استدلالی سلسلے کو کمزور ثابت کیا جا رہا ہے۔

❻ محمد بن الحسین النیلوی کا تبصرہ

محمد بن الحسین النیلوی نے لکھا:

ابن فورک اور اس کے مقلدوں کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفسِ نفیس قبرِ اطہر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سچ مچ حقیقی طور پر زندہ ہیں، مجازی طور پر نہیں۔ علماء کرام نے کرامیہ اور ابن فورک کے باطل مذہب کا رد کیا ہے، مگر سبکی نے ابن فورک کی تائید میں قلم اٹھایا اور بدعتی کے ہم نوا ہوئے۔

حوالہ: جیسا کہ فراہم کردہ متن میں منقول ہے

مختصر وضاحت:
یہ عبارت بھی اسی استدلالی فریم کو مضبوط کرتی ہے کہ زرقانی کا موقف ایک ایسے فکری سلسلے سے جڑا ہوا بتایا جا رہا ہے جسے مصنفین نے بدعتی قرار دیا ہے۔

❼ فوزان بن سابق فوزانؒ کی عبارت: زرقانی کے حوالے سے احتجاج کرنے والے پر رد

علامہ فوزان بن سابق فوزانؒ نے لکھا:

قال الملحد: "وذكر الشيخ الزرقاني في شرح المواهب إجماع السادة المالكية على وجوب زيارة القبر الشريف، وأقام النكير على ابن تيمية وأتباعه الذين اتهموا الإمام مالك بالمنع”.
والجواب: أن هذا الملحد لا تأخذه لومة لائم في الكذب على أئمة المسلمين وتغيير كلامهم عن مواضعه. وقد تكرر منه هذا العمل، متعمداً متبعاً لهواه {وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ} [القصص، الآية:50] وقد نبهنا عليه فيما تقدم.

اردو ترجمہ:
ملحد نے کہا: شیخ زرقانی نے شرح المواہب میں ساداتِ مالکیہ کا قبرِ شریف کی زیارت کے وجوب پر اجماع ذکر کیا ہے، اور ابن تیمیہ اور ان کے پیروکاروں پر سخت نکیر کی ہے جنہوں نے امام مالک پر ممانعت کا الزام لگایا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ملحد مسلمانوں کے ائمہ پر جھوٹ بولنے اور ان کے کلام کو اس کے اصل محل سے ہٹا دینے میں کسی ملامت کی پروا نہیں کرتا۔ یہ کام اس نے بار بار کیا ہے، جان بوجھ کر، اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کرتے ہوئے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔

الكتاب: البيان والإشهار لكشف زيغ الملحد الحاج مختار
المؤلف: فوزان بن سابق بن فوزان (المتوفى: 1373هـ)

مختصر وضاحت:
یہاں زرقانی کے کلام سے احتجاج کرنے والے شخص پر شدید رد کیا گیا ہے۔ اس سے فراہم کردہ مواد میں یہ دکھانا مقصود ہے کہ زرقانی کی عبارت کو بعد کے بعض اہلِ علم نے قابلِ اعتماد نہیں سمجھا اور اس سے احتجاج کو تحریف و کذب سے تعبیر کیا۔

❽ امام ابن تیمیہؒ کی اصل عبارت

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے لکھا:

وَلَا يَدْعُو هُنَاكَ مُسْتَقْبِلَ الْحُجْرَةِ فَإِنَّ هَذَا كُلَّهُ مَنْهِيٌّ عَنْهُ بِاتِّفَاقِ الْأَئِمَّةِ. وَمَالِكٍ مِنْ أَعْظَمِ الْأَئِمَّةِ كَرَاهِيَةً لِذَلِكَ. وَالْحِكَايَةُ الْمَرْوِيَّةُ عَنْهُ أَنَّهُ أَمَرَ الْمَنْصُورَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْحُجْرَةَ وَقْتَ الدُّعَاءِ كَذِبٌ عَلَى مَالِكٍ.

اردو ترجمہ:
اور وہاں حجرے کی طرف منہ کر کے دعا نہ کرے، کیونکہ یہ سب کچھ ائمہ کے اتفاق سے ممنوع ہے، اور امام مالکؒ تو اس معاملے میں سب سے زیادہ کراہت رکھنے والے ائمہ میں سے ہیں۔ اور وہ حکایت جو ان سے روایت کی جاتی ہے کہ انہوں نے منصور کو دعا کے وقت حجرے کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا تھا، امام مالکؒ پر جھوٹ ہے۔

الكتاب: مجموع الفتاوى
المؤلف: تقي الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم بن تيمية الحراني (المتوفى: 728هـ)

مختصر وضاحت:
یہی وہ اصل عبارت ہے جس پر پورا اعتراض قائم کیا گیا۔ امام ابن تیمیہؒ نے یہاں ایک منسوب حکایت کو صاف الفاظ میں جھوٹ قرار دیا، اور اسی پر زرقانی نے ان کے خلاف سخت کلامی کی۔

❾ زرقانی کا جواب: حکایت کے صحیح ہونے کا دعویٰ

محمد بن عبدالباقی الزرقانی نے جواباً لکھا:

ومن طريقه الحافظ أبو الفضل عياض في الشفاء بإسنادٍ لا بأس به، بل قيل: إنه صحيح، فمن أين أنها كذب, وليس في رواتها كذّاب ولا وضَّاع، ولكنه لما ابتدع له مذهبًا وهو عدم تعظيم القبور ما كانت، وأنها إنما تزار للاعتبار والترحّم, بشرط أن لا يشد إليها رحل، صار كل ما خالف ما ابتدعه بفاسد عقله —- وقد أنصف من قال فيه: علمه أكبر من عقله.

اردو ترجمہ:
اور اسی طریق سے حافظ ابو الفضل عیاض نے الشفاء میں ایسی سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے جس میں کچھ حرج نہیں، بلکہ کہا گیا ہے کہ وہ صحیح ہے۔ پھر یہ جھوٹ کیسے ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے رواة میں کوئی کذاب یا وضاع نہیں؟ لیکن چونکہ اس نے اپنے لیے ایک ایسا مذہب گھڑ لیا کہ قبور کی تعظیم نہ کی جائے اور ان کی زیارت صرف عبرت اور ترحم کے لیے ہو، اس لیے جو بھی چیز اس کے خلاف آئی، اس نے اسے اپنی فاسد عقل سے رد کیا۔۔۔ اور جس نے یہ کہا کہ اس کا علم اس کی عقل سے بڑا تھا، اس نے انصاف کیا۔

الكتاب: شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية
المؤلف: أبو عبد الله محمد بن عبد الباقي بن يوسف بن أحمد بن شهاب الدين بن محمد الزرقاني المالكي (المتوفى: 1122هـ)

مختصر وضاحت:
زرقانی کے استدلال کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ قاضی عیاض نے اس حکایت کو ایسی سند سے نقل کیا ہے جسے وہ کم از کم قابلِ قبول سمجھتے ہیں۔ لہٰذا اصل علمی بحث کا مدار اب اسی سند کی جانچ پر آ جاتا ہے۔

❿ قاضی عیاض کی منقولہ حکایت

قاضی عیاض نے نقل کیا:

قال أبو حميد: نَاظَرَ أَبُو جَعْفَرٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ مَالِكًا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ مَالِكٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ … أَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ وَأَدْعُو أَمْ أَسْتَقْبِلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: وَلِمَ تَصْرِفُ وَجْهَكَ عَنْهُ وَهُوَ وَسِيلَتُكَ وَوَسِيلَةُ أَبِيكَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ!! بَلِ اسْتَقْبِلْهُ.

اردو ترجمہ:
ابو حمید نے کہا: امیر المؤمنین ابو جعفر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں امام مالک سے مناظرہ کیا۔ امام مالک نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین! اس مسجد میں اپنی آواز بلند نہ کریں۔۔۔ پھر ابو جعفر نے پوچھا: کیا میں قبلہ رخ ہو کر دعا کروں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کروں؟ تو امام مالک نے فرمایا: تم اپنا چہرہ ان سے کیوں پھیرتے ہو، حالانکہ وہ تمہارا بھی وسیلہ ہیں اور تمہارے باپ آدم علیہ السلام کا بھی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ ہیں! بلکہ انہی کی طرف رخ کرو۔

الكتاب: الشفا بتعريف حقوق المصطفى
المؤلف: عياض بن موسى بن عياض بن عمرون اليحصبي السبتي، أبو الفضل (المتوفى: 544هـ)

مختصر وضاحت:
یہ وہ اصل حکایت ہے جسے امام ابن تیمیہؒ نے جھوٹ قرار دیا اور زرقانی نے اس کا دفاع کیا۔ لہٰذا فیصلہ کن مرحلہ اب سند کے رواة کی تحقیق ہے۔

⓫ محمد بن حمید الرازی کے حوالے سے اصل علمی اشکال

اس پوری بحث میں اصل فیصلہ کن نکتہ سند ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں زرقانی کا دفاع کمزور پڑ جاتا ہے۔ قاضی عیاض کے نقل کردہ واقعہ کی بنیاد جس سند پر ہے، اس میں محمد بن حمید الرازی کا نام آتا ہے۔ اس راوی کے ضعف سے متعلق مکمل معلومات ہمارے اس تحقیقی مضمون میں ملاحظہ کریں۔ جب کسی روایت کی بنیاد ایسے راوی پر ہو جس پر محدثین نے سخت جرح کی ہو، تو پھر محض یہ کہہ دینا کہ یہ روایت “بے ضرر سند” سے منقول ہے، یا یہ کہ “اس کے راویوں میں کوئی کذاب یا وضاع نہیں”، علمی میزان پر برقرار نہیں رہتا۔ روایت کا اعتبار اس کے ناقلین کے حال سے ہوتا ہے، نہ کہ بعد کے کسی مدافع کے اعتماد سے۔

یہی وجہ ہے کہ امام ابن تیمیہؒ نے اس حکایت کو امام مالکؒ پر جھوٹ قرار دیا۔ ان کا یہ حکم کسی جذباتی ردِّ عمل پر مبنی نہ تھا، بلکہ اس بنیاد پر تھا کہ ایسی نسبت کو قبول کرنے کے لیے مضبوط، صاف اور قابلِ اعتماد سند درکار تھی، جبکہ یہاں معاملہ اس کے برعکس تھا۔ جب سند ہی میں ایسا راوی موجود ہو جس کی روایت پر اعتماد محلِّ نظر ہو، تو پھر اس حکایت کو امام مالکؒ جیسے جلیل القدر امام کی طرف منسوب کرنا خود علمی دیانت کے خلاف بن جاتا ہے۔

زرقانی کی کمزوری یہاں دوہری ہو جاتی ہے۔ ایک طرف وہ اس حکایت کا دفاع کرتے ہیں، دوسری طرف اسی دفاع کی بنیاد پر امام ابن تیمیہؒ کی عقل اور منہج پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ حالانکہ اصولی بات یہ تھی کہ پہلے سند کا علمی محاکمہ کیا جاتا، پھر امام ابن تیمیہؒ کے حکم پر اعتراض کیا جاتا۔ مگر جب اصل بنیاد ہی کمزور ہو، تو اس پر کھڑی پوری عمارت متزلزل ہو جاتی ہے۔ یہی اس مقام کا اصل علمی اشکال ہے۔

مراجع: الشفا بتعريف حقوق المصطفى، شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، مجموع الفتاوى

مختصر وضاحت:
اس مقام پر اصل نزاع زیارتِ قبور کے مسئلہ سے بھی پہلے روایت کی صحت کا ہے۔ اگر سند میں محمد بن حمید الرازی موجود ہو، تو زرقانی کا یہ دعویٰ کہ اس کے رواة میں کوئی کذاب یا وضاع نہیں، خود محلِّ اعتراض بن جاتا ہے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہؒ پر طعن کرنے کے بجائے پہلے اس حکایت کی سند کا جواب دینا لازم تھا۔

⓬ خلاصۂ استدلال

اب پوری بحث کا حاصل نہایت واضح ہے:

❶ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے امام مالکؒ کی طرف منسوب ایک حکایت کو جھوٹ قرار دیا، اور ان کا یہ حکم محض رائے یا مزاج پر مبنی نہ تھا بلکہ نسبت کی کمزور بنیاد پر تھا۔

❷ زرقانی نے اس حکایت کے دفاع میں یہ دعویٰ کیا کہ قاضی عیاض نے اسے ایسی سند سے نقل کیا ہے جس میں کوئی کذاب یا وضاع نہیں، بلکہ اسے صحیح بھی کہا گیا ہے؛ پھر اسی بنیاد پر انہوں نے امام ابن تیمیہؒ پر سخت کلامی کی۔

❸ مگر جب اسی حکایت کی سند میں محمد بن حمید الرازی جیسے سخت مجروح راوی کا وجود سامنے آتا ہے، تو زرقانی کا پورا دفاع اپنی اصل بنیاد کھو بیٹھتا ہے۔ پھر یہ کہنا کہ روایت بے اشکال ہے، علمی طور پر ناقابلِ قبول رہ جاتا ہے۔

❹ اس کے بعد مسئلہ صرف ایک فقہی اختلاف کا نہیں رہتا، بلکہ یہ سوال بن جاتا ہے کہ کیا ایک ضعیف اور مشتبہ حکایت کے سہارے امام مالکؒ کی طرف ایسا قول منسوب کیا جا سکتا ہے، اور پھر اس کے انکار پر امام ابن تیمیہؒ جیسے امام پر طعن کیا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔

❺ لہٰذا درست بات یہی ہے کہ امام ابن تیمیہؒ کا انکار اصولِ حدیث اور اصولِ نسبت کے زیادہ قریب ہے، جبکہ زرقانی کا دفاع ایک ایسی حکایت پر قائم ہے جس کی سند خود سخت محلِّ نزاع ہے۔ جب بنیاد کمزور ہو، تو اس بنیاد پر کیا گیا حملہ بھی کمزور ہی رہتا ہے۔

نتیجہ

حاصلِ کلام یہ ہے کہ زرقانی نے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ پر جو سخت تنقید کی، وہ ایک ایسی حکایت کے دفاع میں کی جسے ثابت کرنے کے لیے مضبوط علمی بنیاد موجود نہیں۔ امام ابن تیمیہؒ نے امام مالکؒ کی طرف منسوب اس قول کو جھوٹ کہا، اور سندی تحقیق کی روشنی میں ان کا یہ فیصلہ نہ صرف قابلِ فہم بلکہ اصولی معلوم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس زرقانی نے کمزور بنیاد پر قائم حکایت کو سہارا دے کر نہ صرف اس کی صحت کا دعویٰ کیا بلکہ امام ابن تیمیہؒ کی عقل و فہم پر بھی حملہ کیا، جو خود ان کے استدلال کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

صاف بات یہ ہے کہ جب کسی روایت کی سند میں ایسا راوی موجود ہو جس پر سخت جرح ثابت ہو، تو اس روایت کو حجت بنا کر ائمۂ دین پر اعتراض کرنا علمی انصاف نہیں۔ اس لیے اس پوری بحث میں وزن امام ابن تیمیہؒ کے موقف کو حاصل ہے، نہ کہ زرقانی کے طعن کو۔ چنانچہ زرقانی کی یہ تنقید دراصل ایک کمزور حکایت کے دفاع میں کی گئی غیر متوازن سخت کلامی ہے، جبکہ علمی دیانت کا تقاضا یہ تھا کہ پہلے سند کی کمزوری تسلیم کی جاتی، پھر کسی پر حکم لگایا جاتا۔

اہم حوالوں کے سکین

محمد بن عبدالباقی الزرقانی کی امام ابن تیمیہؒ پر تنقید اور اس کی علمی حیثیت – 01 محمد بن عبدالباقی الزرقانی کی امام ابن تیمیہؒ پر تنقید اور اس کی علمی حیثیت – 02 محمد بن عبدالباقی الزرقانی کی امام ابن تیمیہؒ پر تنقید اور اس کی علمی حیثیت – 03 محمد بن عبدالباقی الزرقانی کی امام ابن تیمیہؒ پر تنقید اور اس کی علمی حیثیت – 04 محمد بن عبدالباقی الزرقانی کی امام ابن تیمیہؒ پر تنقید اور اس کی علمی حیثیت – 05 محمد بن عبدالباقی الزرقانی کی امام ابن تیمیہؒ پر تنقید اور اس کی علمی حیثیت – 06