محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

محمد بن حمید الرازی، ابو عبد اللہ التمیمی، ان رواة میں سے ہے جن کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل نے نہایت سخت کلمات استعمال کیے ہیں۔ بعض اہلِ علم نے اسے صرف ضعیف نہیں کہا بلکہ “کذاب”، “متروک”، “کثیر المناکیر”، “لیس بثقہ” اور “غیر محتج بروایته” جیسے الفاظ سے بھی یاد کیا ہے۔ اسی وجہ سے اس کی منفرد روایات، خصوصاً وہ روایات جن سے بڑے اعتقادی، تاریخی یا فقہی دعوے قائم کیے جائیں، اہلِ حدیث کے نزدیک سخت محلِّ نظر قرار پاتی ہیں۔ اس مقالے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ محمد بن حمید الرازی کے بارے میں جروحات کوئی ایک دو ائمہ تک محدود نہیں بلکہ متعدد متقدمین و متأخرین نے مختلف تعبیرات کے ساتھ اس کے ضعف، نکارت اور کذب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ زیرِ نظر سطور میں انہی اقوال کو یکجا کر کے ایک مرتب علمی تصویر پیش کی جا رہی ہے۔

محمد بن حمید الرازی کا مختصر تعارف

محمد بن حمید بن حیان الرازی، ابو عبد اللہ التمیمی، اہلِ رَی سے تھا۔ اس سے بہت سے لوگوں نے روایت کی، اور بعض بڑے ناموں سے اس کی روایات بھی منقول ہوئیں، لیکن روایت کے باب میں اس کے بارے میں جمہور ناقدین کا موقف سخت رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں توثیق کے چند اقوال کے باوجود، مجموعی نقدی ذخیرہ اس کے ضعف بلکہ شدید ضعف کی طرف مائل نظر آتا ہے۔ بعد کے ائمہ نے بھی یہی منہج اختیار کیا کہ جب کسی راوی کے بارے میں کذب، ترک اور نکارت کی متعدد شہادتیں جمع ہو جائیں تو اس کی منفرد روایات پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔

محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث کی جروحات

❶ امام جوزجانیؒ کی جرح

امام جوزجانیؒ نے لکھا:

محمد بن حميد الرازي كان رديء المذهب غير ثقة

اردو ترجمہ:
محمد بن حمید الرازی خراب مذہب والا اور غیر ثقہ تھا۔

الكتاب: أحوال الرجال
المؤلف: الإمام الجوزجاني (المتوفى: 259هـ)

مختصر وضاحت:
“غير ثقة” جرح کا نہایت واضح لفظ ہے۔ امام جوزجانیؒ نے صرف اس کے مذہبی میلان پر کلام نہیں کیا بلکہ اس کی ثقاہت ہی کی نفی کر دی۔

❷ حافظ ابن حجرؒ کا حکم

حافظ ابن حجرؒ نے لکھا:

محمد ابن حميد ابن حيان الرازي حافظ ضعيف وكان ابن معين حسن الرأي فيه من العاشرة

اردو ترجمہ:
محمد بن حمید بن حیان الرازی حافظ تھا، مگر ضعیف تھا، اور ابن معینؒ کی اس کے بارے میں اچھی رائے منقول ہے۔ یہ طبقۂ عاشرہ میں سے ہے۔

الكتاب: تقريب التهذيب
المؤلف: أحمد بن علي بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ)

مختصر وضاحت:
حافظ ابن حجرؒ نے اس کے لیے “ضعيف” کا صریح لفظ استعمال کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجموعی تنقیح کے بعد ان کے نزدیک اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا تھا۔

❸ امام نسائیؒ کی سخت جرح

امام نسائیؒ سے منقول ہے:

ليس بثقة

اور دوسری جگہ:

كذاب

اردو ترجمہ:
وہ ثقہ نہیں ہے۔
اور دوسری تعبیر میں: وہ کذاب ہے۔

مراجع الجرح عن الإمام النسائي كما في كتب الرجال

مختصر وضاحت:
امام نسائیؒ کی جرح ہمیشہ وزنی سمجھی جاتی ہے۔ “ليس بثقة” اور “كذاب” دونوں تعبیرات اس راوی کے بارے میں نہایت سخت فیصلہ ہیں۔

❹ امام بخاریؒ کا “فيه نظر”

امام بخاریؒ نے فرمایا:

وفيه نظر

اردو ترجمہ:
اس میں نظر ہے۔

الكتاب: التاريخ الصغير
المؤلف: محمد بن إسماعيل البخاري (المتوفى: 256هـ)

مختصر وضاحت:
امام بخاریؒ کا “فيه نظر” عام جملہ نہیں بلکہ سخت جرح میں شمار ہوتا ہے۔ اسی لیے محدثین نے اسے محض ہلکا ضعف نہیں بلکہ شدید طعن کے قرینے کے طور پر سمجھا ہے۔

❺ ابن القيسرانيؒ کی تصریح

محمد بن طاہر ابن القيسرانيؒ نے لکھا:

ومحمد الرازي هذا ضعيف جدا

اردو ترجمہ:
یہ محمد الرازی سخت ضعیف ہے۔

الكتاب: ذخيرة الحفاظ
المؤلف: محمد بن طاهر ابن القيسراني (المتوفى: 507هـ)

مختصر وضاحت:
“ضعيف جدا” کا مطلب یہ ہے کہ ضعف معمولی نہیں بلکہ شدید نوعیت کا ہے، اور ایسے راوی کی منفرد روایت قبول نہیں کی جاتی۔

❻ امام ترمذیؒ کا عملی حکم

امام ترمذیؒ نے محمد بن حمید کی ایک منفرد روایت کے بارے میں فرمایا:

هذا حديث غريب، لا نعرفه إلا من هذا الوجه، وإسناده ليس بذاك القوي

اردو ترجمہ:
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے اسی سند سے جانتے ہیں، اور اس کی سند کچھ زیادہ قوی نہیں۔

الكتاب: الجامع الكبير – سنن الترمذي
المؤلف: محمد بن عيسى الترمذي (المتوفى: 279هـ)

مختصر وضاحت:
امام ترمذیؒ کا اسناد کو غیر قوی کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ محمد بن حمید کی روایت ان کے نزدیک اعتماد کے درجے پر نہیں پہنچتی تھی۔

❼ امام بیہقیؒ کی جرح

امام بیہقیؒ نے فرمایا:

تفرد به محمد بن حميد وليس بالقوي

اردو ترجمہ:
اسے محمد بن حمید نے منفرد طور پر روایت کیا ہے، اور وہ قوی نہیں ہے۔

الكتاب: السنن الكبرى
المؤلف: أحمد بن الحسين البيهقي (المتوفى: 458هـ)

مختصر وضاحت:
یہاں دو باتیں جمع ہو گئیں: تفرد بھی ہے اور راوی قوی بھی نہیں۔ ایسی صورت میں روایت کی کمزوری مزید بڑھ جاتی ہے۔

❽ حافظ ہیثمیؒ کا تبصرہ

حافظ ہیثمیؒ نے لکھا:

وفيه محمد بن حميد الرازي، وهو ضعيف، وقد وثق

اردو ترجمہ:
اس سند میں محمد بن حمید الرازی ہے، اور وہ ضعیف ہے، اگرچہ اس کی توثیق بھی کی گئی ہے۔

الكتاب: مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
المؤلف: نور الدين الهيثمي (المتوفى: 807هـ)

مختصر وضاحت:
یہ عبارت بہت متوازن ہے۔ حافظ ہیثمیؒ نے توثیق کے اقوال کا ذکر کرنے کے باوجود راجح حکم “ضعيف” ہی رکھا۔

❾ حافظ ابن عبد الہادیؒ کی صریح جرح

حافظ ابن عبد الہادیؒ نے لکھا:

وابن حميد هو محمد بن حميد الرازي، وهو ضعيف كثير المناكير غير محتج بروايته

اردو ترجمہ:
ابن حمید سے مراد محمد بن حمید الرازی ہے، اور وہ ضعیف ہے، بہت منکر روایات بیان کرتا ہے، اور اس کی روایت سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔

الكتاب: الصارم المنكي في الرد على السبكي
المؤلف: يوسف بن حسن بن عبد الهادي (المتوفى: 744هـ)

مختصر وضاحت:
یہ عبارت خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس میں صرف ضعف نہیں بلکہ “غير محتج بروايته” کہہ کر حجیت ہی ختم کر دی گئی ہے۔

❿ علامہ سیوطیؒ کا حکم

علامہ سیوطیؒ نے لکھا:

وهذا حديث منكر، ولعل البلاء فيه من محمد بن حميد الرازي

اور دوسری جگہ:

محمد بن حميد كذبوه

اردو ترجمہ:
یہ حدیث منکر ہے، اور غالباً اس کی خرابی محمد بن حمید الرازی کی طرف سے ہے۔
اور دوسری جگہ: اسے لوگوں نے کذاب قرار دیا ہے۔

الكتاب: الزيادات على الموضوعات
المؤلف: جلال الدين السيوطي (المتوفى: 911هـ)

مختصر وضاحت:
سیوطیؒ نے منکر حدیث کی علت بھی اسی راوی کو قرار دیا اور اس پر کذب کی جرح بھی نقل کی۔ یہ شدید عدمِ اعتماد کی دلیل ہے۔

⓫ ابن القطان الفاسیؒ کی تنبیہ

ابن القطان الفاسیؒ نے لکھا:

ومحمد بن حميد كذلك وثقه قوم، ولكنه اعتراه بعد ما ضعف به، وربما اتهم، وكان أبو زرعة ومحمد بن مسلم بن وارة كتبا عنه، ثم تركا الرواية عنه، وأخباره عند المحدثين معروفة

اردو ترجمہ:
محمد بن حمید کے بارے میں بھی کچھ لوگوں نے توثیق کی، لیکن بعد میں اس پر ایسی چیزیں عارض ہوئیں جن سے وہ ضعیف ہو گیا، بلکہ کبھی اس پر تہمت بھی لگائی گئی۔ ابو زرعہ اور محمد بن مسلم بن وارہ نے اس سے لکھا بھی، پھر اس سے روایت چھوڑ دی، اور اس کے حالات محدثین کے ہاں معروف ہیں۔

الكتاب: بيان الوهم والإيهام في كتاب الأحكام
المؤلف: ابن القطان الفاسي (المتوفى: 628هـ)

مختصر وضاحت:
یہ اقتباس نہایت اہم ہے، کیونکہ اس میں اس راوی کے بارے میں منقول توثیق اور بعد کی شدید جرح دونوں کو جمع کیا گیا ہے، اور آخر میں مجموعی منہج جرح ہی کو ترجیح دی گئی ہے۔

⓬ ابن رجبؒ کا فیصلہ

ابن رجبؒ نے لکھا:

محمد بن حميد، كثير المناكير، وقد اتهم بالكذب، فلا يلتفت إلى تفرده بما يخالف الثقات

اردو ترجمہ:
محمد بن حمید بہت منکر روایات بیان کرتا ہے، اور اس پر کذب کی تہمت بھی لگائی گئی ہے، لہٰذا جب وہ ثقہ راویوں کے خلاف منفرد روایت کرے تو اس کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔

الكتاب: فتح الباري
المؤلف: ابن رجب الحنبلي (المتوفى: 795هـ)

مختصر وضاحت:
یہ اصولی جملہ ہے۔ ایسے راوی کے تفرد کو، خاص طور پر جب وہ ثقہ راویوں کے خلاف ہو، قبول نہیں کیا جاتا۔

⓭ یعقوب بن شیبہؒ کی جرح

یعقوب بن شیبہؒ نے فرمایا:

محمد بن حميد الرازي كثير المناكير

اردو ترجمہ:
محمد بن حمید الرازی بہت زیادہ منکر روایات بیان کرتا ہے۔

الكتاب: تاريخ بغداد
عن يعقوب بن شيبة السدوسي (المتوفى: 262هـ)

مختصر وضاحت:
“كثير المناكير” ایسی جرح ہے جو راوی کے عمومی روایت نامے پر عدمِ اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔

⓮ ابن وارہؒ کا موقف

محمد بن مسلم بن وارہؒ سے منقول ہے کہ انہوں نے محمد بن حمید کو متروک قرار دیا۔

اردو ترجمہ:
اس کا مطلب یہ ہے کہ محدثین کے نزدیک اس کی روایت چھوڑ دی گئی اور اس پر اعتماد نہیں کیا گیا۔

نقلِ جرح كما ورد في كتب الرجال

مختصر وضاحت:
“متروک” راوی وہ ہوتا ہے جس کا ضعف اس درجے تک پہنچ جائے کہ اس کی روایت قابلِ احتجاج نہ رہے۔

⓯ ابو عبد اللہ الجورقانیؒ کا حکم

ابو عبد اللہ الجورقانیؒ نے ایک روایت کے بارے میں لکھا:

هذا حديث باطل، وفي إسناده ظلمات منها محمد بن حميد الرازي

اردو ترجمہ:
یہ حدیث باطل ہے، اور اس کی سند میں کئی تاریکیاں ہیں، جن میں سے ایک محمد بن حمید الرازی ہے۔

الكتاب: الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير
المؤلف: أبو عبد الله الجورقاني (المتوفى: 543هـ)

مختصر وضاحت:
یہ بہت سخت حکم ہے۔ کسی روایت کو “باطل” کہنا اور پھر سند کی ظلمتوں میں محمد بن حمید کو شمار کرنا، اس کے شدید ضعف کو واضح کرتا ہے۔

⓰ فَتَنیؒ کا حکم

جمال الدین الفتنیؒ نے لکھا:

وفيه محمد بن حميد كذبه

اردو ترجمہ:
اس میں محمد بن حمید ہے، جسے کذاب کہا گیا ہے۔

الكتاب: تذكرة الموضوعات
المؤلف: محمد طاهر الفتني (المتوفى: 986هـ)

مختصر وضاحت:
موضوعات کی کتاب میں کسی راوی کے ذکر کے ساتھ “كذبه” لانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ موضوع یا باطل روایات کے باب میں سخت مشتبہ ہے۔

⓱ ابو احمد الحاکمؒ کی جرح

ابو احمد الحاکم النیسابوریؒ نے لکھا:

أبو عبد الله محمد بن حميد التميمي الرازي … ليس بالقوي عندهم

اردو ترجمہ:
ابو عبد اللہ محمد بن حمید التمیمی الرازی ان کے نزدیک قوی نہیں ہے۔

الكتاب: الأسامي والكنى
المؤلف: أبو أحمد الحاكم النيسابوري (المتوفى: 378هـ)

مختصر وضاحت:
“ليس بالقوي” بھی جرح کا معروف لفظ ہے، اور مجموعی ذخیرۂ اقوال میں یہی رائے غالب نظر آتی ہے۔

⓲ ابن الجوزیؒ کا اسے ضعفاء میں شامل کرنا

امام ابن الجوزیؒ نے محمد بن حمید الرازی کو اپنی کتاب “الضعفاء والمتروكين” میں ذکر کیا۔

اردو ترجمہ:
کسی راوی کو “ضعفاء” اور “متروكين” میں ذکر کرنا خود اس کے غیر معتبر ہونے کی علامت ہے۔

الكتاب: الضعفاء والمتروكين
المؤلف: أبو الفرج ابن الجوزي (المتوفى: 597هـ)

مختصر وضاحت:
یہ مستقل تصنیفی شہادت ہے کہ ابن الجوزیؒ کے نزدیک وہ قابلِ اعتماد راویوں میں شامل نہیں تھا۔

⓳ ابن حبانؒ کی جرح

حافظ ابن حبانؒ نے لکھا:

كان ممن ينفرد عن الثقات بالأشياء المقلوبات ولا سيما إذا حدث عن شيوخ بلده

اردو ترجمہ:
وہ ان لوگوں میں سے تھا جو ثقہ راویوں سے الٹی پلٹی اور اُلٹی روایات منفرد طور پر بیان کرتے تھے، خاص طور پر جب اپنے شہر کے شیوخ سے روایت کرتا۔

الكتاب: المجروحين
المؤلف: محمد بن حبان البستي (المتوفى: 354هـ)

مختصر وضاحت:
ابن حبانؒ نے اس کے ضعف کی نوعیت بھی واضح کر دی کہ وہ ثقات سے مقلوب اور غیر محفوظ چیزیں روایت کرتا تھا۔

⓴ حافظ ذہبیؒ کی جرح

حافظ ذہبیؒ نے میزان میں اسے ضعیف کہا اور رجال ابن ماجہ میں “ليس بثقة” ذکر کیا۔

اردو ترجمہ:
حافظ ذہبیؒ کے نزدیک بھی محمد بن حمید ضعف اور عدمِ ثقاہت کا حامل تھا۔

مراجع: ميزان الاعتدال، الكاشف، والكتب الرجالية للذهبي

مختصر وضاحت:
ذہبیؒ عام طور پر مختلف اقوال کا نچوڑ پیش کرتے ہیں، اس لیے ان کی جرح خاص اہمیت رکھتی ہے۔

㉑ ابن خزیمہؒ کا اسے چھوڑ دینا

ابو احمد الحاکمؒ نے نقل کیا:

تركه أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي وأبو بكر محمد بن إسحاق بن خزيمة السلمي

اردو ترجمہ:
محمد بن یحییٰ الذہلی اور ابو بکر ابن خزیمہ نے اسے چھوڑ دیا تھا۔

الكتاب: الأسامي والكنى
المؤلف: أبو أحمد الحاكم النيسابوري

مختصر وضاحت:
جب بڑے ائمہ کسی راوی کو “تركه” کے درجے تک پہنچا دیں تو اس کی حجیت باقی نہیں رہتی۔

㉒ صالح جزرہؒ کی نہایت سخت جرح

صالح بن محمد جزرہؒ نے فرمایا:

ما رأيت أحدا أحذق بالكذب من رجلين: سليمان ابن الشاذكوني، ومحمد بن حميد الرازي

اردو ترجمہ:
میں نے دو آدمیوں سے بڑھ کر جھوٹ میں ماہر کسی کو نہیں دیکھا: سلیمان بن شاذکونی اور محمد بن حمید الرازی۔

الكتاب: تاريخ بغداد
عن صالح بن محمد جزرة (المتوفى: 293هـ تقريبًا)

مختصر وضاحت:
یہ جرح نہایت شدید ہے، کیونکہ اس میں صرف کذب نہیں بلکہ “ماہر جھوٹا” ہونے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔

㉓ ابو حاتم الرازیؒ کی صریح تکذیب

ابو حاتم الرازیؒ نے فرمایا:

هذا كذاب لا يحسن يكذب

اردو ترجمہ:
یہ کذاب ہے، اور اچھا جھوٹ بھی نہیں بولتا۔

الكتاب: سؤالات البرذعي لأبي زرعة

مختصر وضاحت:
ابو حاتمؒ حدیث کے ناقدین میں بہت بلند مقام رکھتے ہیں۔ ان کی یہ جرح محمد بن حمید کے بارے میں انتہائی فیصلہ کن ہے۔

㉔ ابو زرعہ الرازیؒ کی شہادت

ابو زرعہ الرازیؒ کے بارے میں منقول ہے:

سألت أبا زرعة عن محمد بن حميد … فقلت له: كان يكذب؟ فقال برأسه: نعم … كان يتعمد

اردو ترجمہ:
میں نے ابو زرعہ سے محمد بن حمید کے بارے میں پوچھا۔ میں نے کہا: کیا وہ جھوٹ بولتا تھا؟ انہوں نے سر سے اشارہ کیا: ہاں۔ پھر فرمایا: وہ بڑھاپے یا اشتباہ سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر ایسا کرتا تھا۔

الكتاب: تاريخ بغداد

مختصر وضاحت:
یہ شہادت خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس میں عمدی کذب کی تصریح موجود ہے۔

㉕ فضل بن العباس الرازیؒ کا ترکِ روایت

فضل بن العباس الرازیؒ نے فرمایا:

عندي عن ابن حميد خمسون ألف حديث، لا أحدث عنه بحرف

اردو ترجمہ:
میرے پاس ابن حمید سے پچاس ہزار احادیث موجود ہیں، مگر میں اس سے ایک حرف بھی روایت نہیں کرتا۔

الكتاب: تاريخ بغداد

مختصر وضاحت:
یہ عبارت دکھاتی ہے کہ محض سماع یا کثرتِ مرویات کافی نہیں، اصل معیار اعتماد ہے؛ اور وہ یہاں مفقود تھا۔

㉖ ابو جعفر العقیلیؒ کا اسے ضعفاء میں ذکر کرنا

ابو جعفر العقیلیؒ نے محمد بن حمید الرازی کو اپنی کتاب “الضعفاء” میں شامل کیا۔

اردو ترجمہ:
عقیلیؒ کے نزدیک بھی وہ غیر معتبر راویوں میں شمار ہوتا تھا۔

الكتاب: الضعفاء الكبير
المؤلف: أبو جعفر العقيلي (المتوفى: 322هـ)

مختصر وضاحت:
یہ بھی ایک مستقل رجالی شہادت ہے جو اس راوی کے ضعف کے عمومی اتفاق کو ظاہر کرتی ہے۔

㉗ امام بوصیریؒ کا خلاصۂ اقوال

امام بوصیریؒ نے لکھا:

هذا إسناد ضعيف محمد بن حميد الرازي وإن وثقه ابن معين في رواية فقد ضعفه في أخرى وضعفه أحمد والنسائي والجوزجاني وقال ابن حبان يروى عن الثقات المقلوبات وقال ابن وارة كذاب

اردو ترجمہ:
یہ سند ضعیف ہے۔ محمد بن حمید الرازی اگرچہ ایک روایت میں ابن معینؒ سے موثق منقول ہے، مگر دوسری روایت میں انہوں نے اسے ضعیف کہا، اور احمد، نسائی اور جوزجانی نے بھی اسے ضعیف کہا۔ ابن حبان نے کہا کہ وہ ثقات سے مقلوب روایات بیان کرتا ہے، اور ابن وارہ نے اسے کذاب کہا۔

الكتاب: مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه
المؤلف: البوصيري (المتوفى: 840هـ)

مختصر وضاحت:
یہ عبارت مختلف ناقدین کے اقوال کا عمدہ خلاصہ ہے، اور مجموعی رجحان واضح طور پر تضعیف کی طرف ہے۔

㉘ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کا بیان

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے لکھا:

وهو مع هذا ضعيف عند أكثر أهل الحديث

اردو ترجمہ:
اور اس سب کے باوجود وہ اکثر اہلِ حدیث کے نزدیک ضعیف ہے۔

الكتاب: مجموع الفتاوى
المؤلف: أحمد بن عبد الحليم ابن تيمية (المتوفى: 728هـ)

مختصر وضاحت:
یہاں ابن تیمیہؒ نے فردی رائے نہیں بلکہ “أكثر أهل الحديث” کا منہج نقل کیا ہے، جو اس راوی کے ضعف کے عمومی رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔

㉙ علامہ البانیؒ کا حکم

علامہ البانیؒ نے ایک روایت کے بارے میں لکھا:

فإن محمد بن حميد وشيخه عمر بن هارون متهمان بالكذب فلا يعتد بروايتهما

اردو ترجمہ:
محمد بن حمید اور اس کا شیخ عمر بن ہارون دونوں کذب کے متہم ہیں، اس لیے ان کی روایت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔

الكتاب: سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة
المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني (المتوفى: 1420هـ)

مختصر وضاحت:
یہ جدید دور کے ایک محدث کا صریح حکم ہے کہ ایسے راوی کی روایت استدلال کے قابل نہیں۔

㉚ خیر الدین زرکلیؒ کا خلاصہ

خیر الدین زرکلیؒ نے لکھا:

محمد بن حميد بن حيان التميمي الرازي … أخذ عنه كثير من الأئمة … وكذبه آخرون

اردو ترجمہ:
محمد بن حمید بن حیان التمیمی الرازی سے بہت سے ائمہ نے روایت لی، لیکن دوسروں نے اسے جھوٹا قرار دیا۔

الكتاب: الأعلام
المؤلف: خير الدين الزركلي (المتوفى: 1396هـ)

مختصر وضاحت:
زرکلیؒ نے مختصر مگر جامع انداز میں دونوں پہلو ذکر کر دیے: روایت کا پھیلاؤ اپنی جگہ، مگر جرح کا وزن اپنی جگہ۔

محمد بن حمید الرازی کی روایات سے مختلف حلقوں کا استدلال

محمد بن حمید الرازی کی روایات کی کمزوری صرف نظری بحث نہیں، بلکہ اس کے عملی اثرات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض حلقے اس کی روایات سے اپنے مخصوص فقہی یا تاریخی دعوے قائم کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک روایت سے بعض لوگ بیس رکعات تراویح کے مخصوص عدد پر استدلال کرتے ہیں، جبکہ دوسری روایت سے بعض روافض حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں سخت تاریخی دعویٰ پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ جب اصل سند ہی ایسے راوی پر کھڑی ہو جس پر کذب، نکارت اور ترک کی اتنی شہادتیں جمع ہوں، تو ایسی روایتوں سے بڑے دعوے قائم کرنا اصولی طور پر درست نہیں رہتا۔

اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مسئلہ صرف ایک راوی کے ضعف کا نہیں، بلکہ پورے استدلالی ڈھانچے کی صحت کا ہے۔ جب بنیاد ہی متزلزل ہو تو اس پر قائم کیا گیا فقہی، تاریخی یا اعتقادی مقدمہ بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

خلاصۂ بحث

مندرجہ بالا اقوال سے چند باتیں بالکل واضح ہو جاتی ہیں:

❶ محمد بن حمید الرازی پر جرح کسی ایک امام یا ایک دور تک محدود نہیں، بلکہ متقدمین و متأخرین کی بڑی جماعت نے اس کے ضعف پر کلام کیا ہے۔

❷ اس پر صرف “ضعیف” ہونے کی جرح نہیں، بلکہ “لیس بثقہ”، “کثیر المناکیر”، “غیر محتج بروایته”، “متروک” اور “کذاب” جیسے الفاظ بھی منقول ہیں۔

❸ چند موضعی توثیقات کے باوجود مجموعی رجحان تضعیف ہی کا ہے، اور ائمۂ حدیث نے ایسے مقام پر جرح کو توثیق پر مقدم رکھا ہے، خاص طور پر جب کذب اور نکارت کی متعدد شہادتیں موجود ہوں۔

❹ ایسے راوی کی منفرد روایت سے بڑے فقہی، تاریخی یا اعتقادی دعوے قائم کرنا اصولِ حدیث کے خلاف ہے۔

نتیجہ

حاصلِ کلام یہ ہے کہ محمد بن حمید الرازی ایسا راوی نہیں جس کی منفرد روایات پر اطمینان کے ساتھ اعتماد کیا جا سکے۔ ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال کا مجموعی وزن واضح طور پر اس کے ضعف بلکہ شدید ضعف کی طرف جاتا ہے۔ کئی ائمہ نے اسے صرف کمزور نہیں کہا بلکہ کذب، نکارت اور ترکِ روایت جیسے سخت احکام بھی اس پر لگائے۔ یہی وجہ ہے کہ جس روایت کا مدار محمد بن حمید الرازی پر ہو، وہ روایت بالخصوص اس وقت مزید مشتبہ ہو جاتی ہے جب وہ ثقہ راویوں کے خلاف ہو، یا اس سے کوئی اہم فقہی، اعتقادی یا تاریخی نتیجہ نکالا جا رہا ہو۔

لہٰذا علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ محمد بن حمید الرازی کی روایات کو بلا نقد قبول نہ کیا جائے، بلکہ انہیں ائمۂ حدیث کی جروحات کی روشنی میں پرکھا جائے۔ اور جب اتنی بڑی تعداد میں ناقدینِ حدیث ایک راوی کے بارے میں سخت کلام کر چکے ہوں، تو اس کی بنیاد پر دین کے اہم مسائل میں استدلال کرنا نہایت کمزور اور غیر محتاط طرزِ عمل قرار پائے گا۔

اہم حوالاجات کے سکین

محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 01 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 02 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 03 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 04 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 05 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 06 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 07 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 08 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 09 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 10 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 11 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 12 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 13 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 14 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 15 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 16 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 17 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 18 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 19 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 20 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 21 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 22 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 23 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 24 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 25 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 26 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 27 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 28 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 29 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 30 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 31 محمد بن حمید الرازی پر ائمۂ حدیث 30 کی جروحات — ایک تحقیقی جائزہ – 32