محرم میں کالا لباس پہننے کا شرعی حکم

تحریر : قاری اسامہ بن عبدالسلام
مضمون کے اہم نکات

محرم کے دنوں میں "فاطمی لباس” یا خاص طور پر کالا لباس پہننے کا مسئلہ

محرم کے دنوں میں "فاطمی لباس” یا خاص طور پر کالا لباس پہننے کے متعلق سوال ایک اہم فقہی اور اعتقادی پہلو رکھتا ہے، کیونکہ یہ مسئلہ صرف لباس کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود نیت، بدعت، اور فرقہ وارانہ علامتوں سے بھی جڑا ہوتا ہے۔

محرم میں خاص طور پر "کالا لباس” پہننے کا حکم:

1. ❗ کالا لباس بطورِ سوگ اور ماتم:

اگر کوئی شخص محرم کے دنوں میں کالا لباس صرف اس نیت سے پہنتا ہے کہ یہ "سوگ” یا "ماتم” کا لباس ہے، تو یہ عمل بدعت (نبی ﷺ اور صحابہ کے طریقے سے ہٹ کر نئی رسم) میں شمار ہوتا ہے۔

📌 دلیل:

"مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ”

(صحیح البخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718)

❝جو شخص ہمارے دین میں کوئی نیا طریقہ ایجاد کرے جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے❞

2. ⚠️ شیعہ رسوم کی مشابہت (تشبّہ بالرافضہ):

محرم میں کالا لباس پہننا شیعہ عزاداری کی علامت بن چکا ہے۔ اہل سنت کا عقیدہ اور طریقہ یہ ہے کہ ہم کسی بھی فرقے کی غلط رسم و عبادت میں مشابہت نہیں اختیار کرتے۔

📌 دلیل:

"مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ”

(سنن أبو داود: 4031، صحیح الاسناد)

❝جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے❞

3. ✅ اگر کالے لباس کا مقصد صرف فیشن یا معمول ہو (بدعت یا عزاداری کی نیت نہ ہو):

تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ:

  • نیت عزاداری یا ماتم کی نہ ہو
  • وہ لباس عام دنوں میں بھی پہنا جاتا ہو
  • فرقہ وارانہ علامت نہ بنے

📚 سلف صالحین اور صحابہ کا عمل:

رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے محرم کے دنوں میں کبھی بھی خصوصی سوگ یا کالا لباس نہیں پہنا۔

نہ سیدنا حسنؓ، نہ حسینؓ، نہ اہل بیتؓ نے کوئی سالانہ "سوگ” منایا۔

شہادت پر غم فطری ہے، لیکن اس کو رسمی یا لباس کی صورت دین کا حصہ بنانا منع ہے۔

🔴 نتیجہ:

نیت حکم
عزاداری/ماتم کے اظہار کے لیے کالا لباس ❌ بدعت و ناجائز
شیعہ رسوم کی مشابہت کے لیے کالا لباس ❌ حرام اور تشبّہ
فیشن/موسم کے تحت کالا لباس، بغیر بدعت کی نیت ✅ جائز، مگر احتیاط بہتر ہے

✅ اصلاحی مشورہ:

محرم میں ہمیں دعا، روزہ، اور صبر و توکل کی سنتوں کو زندہ کرنا چاہیے، نہ کہ نئے لباس یا ماتم کی بدعات۔
جو دین کے نام پر رائج ہیں لیکن صحابہؓ و اہل بیتؓ کے طریقے سے ثابت نہیں۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے