مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

محدثین کا قول کہ ان کی حدیث لکھی جائے گی مگر حجت نہیں پکڑی جائے گی

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

امام ابو حاتم رحمہ اللہ کے درج ذیل قول کا کیا مطلب ہے؟
يكتب حديثهم ولا يحتج بحديثهم
ان کی حدیث لکھی جائے گی مگر ان کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 133/2)

جواب:

یہ جملہ امام ابو حاتم رحمہ اللہ ان راویوں کے بارے میں استعمال کرتے ہیں، جن کی احادیث میں اضطراب پایا جائے۔ یہ جرح کا کلمہ ہے۔
❀ امام عبدالرحمن بن ابی حاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
قلت لأبي: ما معنى لا يحتج بحديثهم؟ قال: كانوا قوما لا يحفظون فيحدثون بما لا يحفظون فيغلطون ترى فى أحاديثهم اضطرابا ما شئت
میں نے اپنے والد گرامی (ابو حاتم رازی رحمہ اللہ) سے پوچھا کہ لا يحتج بحديثهم کا کیا معنی ہے؟ فرمایا: یہ وہ لوگ تھے، جنہوں نے احادیث کو اچھی طرح حفظ نہیں کیا تھا، مگر بغیر حفظ کیے احادیث بیان کرنے لگے اور غلطیاں کیں، آپ دیکھیں گے کہ ان کی احادیث میں بہت زیادہ اضطراب پایا جاتا ہے۔
(الجرح والتعديل: 133/2)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔