مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

محافلِ ذکر میں حلقہ بنا کر بلند آواز سے ذکر کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن و حدیث کی روشنی میں احکام و مسائل، جلد 01، صفحہ 492

سوال

مروجہ محافلِ ذکر میں حلقہ بنا کر ذکر کرنا، خواہ بآوازِ بلند ہو یا آہستہ آواز میں، کیا جائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو دلائل کے ساتھ وضاحت فرمائیں۔

جواب

الحمد للہ، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جن اذکار کے بارے میں کتاب و سنت میں جہر (بلند آواز) ثابت ہے، وہ اذکار بلند آواز ہی سے کیے جائیں گے۔
ان کے علاوہ دیگر اذکار کے بارے میں اصول یہ ہے:

﴿وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّخِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلاَ تَکُنْ مِّنَ الْغَافِلِیْنَ﴾

[اور یاد کرتا رہ اپنے رب کو اپنے دل میں گڑگڑاتا ہوا اور ڈرتا ہوا اور ایسی آواز سے جو بولنے سے کم ہو صبح کے وقت اور شام کے وقت اور مت رہ بے خبر]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔