محارب کی نماز جنازہ کا حکم
محارب اگر مسلمان ہو تو اس کی نماز جنازہ پڑھائی جائے گی اور اگر کافر ہو تو نہیں پڑھائی جائے گی ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف کفار و مشرکین کے لیے دعا و استغفار سے ہی منع فرمایا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے کہ :
وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا ………… فَاسِقُونَ [التوبة: 84]
”ان (کفار و منافقین ) میں سے اگر کوئی مر جائے تو آپ کبھی بھی ان پر نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہوں ۔ بے شک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور نافرمانی کی حالت میں ہی فوت ہوئے ہیں ۔“
ایک اور آیت میں ہے کہ :
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ [التوبة: 113]
”نبی اور ایمان والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ۔“