محارب کی نماز جنازہ کا حکم

تحریر: عمران ایوب لاہوری

محارب کی نماز جنازہ کا حکم
محارب اگر مسلمان ہو تو اس کی نماز جنازہ پڑھائی جائے گی اور اگر کافر ہو تو نہیں پڑھائی جائے گی ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف کفار و مشرکین کے لیے دعا و استغفار سے ہی منع فرمایا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے کہ :
وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا ………… فَاسِقُونَ [التوبة: 84]
”ان (کفار و منافقین ) میں سے اگر کوئی مر جائے تو آپ کبھی بھی ان پر نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہوں ۔ بے شک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور نافرمانی کی حالت میں ہی فوت ہوئے ہیں ۔“
ایک اور آیت میں ہے کہ :
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ [التوبة: 113]
”نبی اور ایمان والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ۔“

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے