حاکم جس سزا میں مصلحت سمجھے گا وہی دے گا اور یہ سزا ہر اس شخص کو دی جائے گی جو راستوں یا شہروں میں لوگوں کو لُوٹے جب وہ اس طرح زمین میں فساد برپا کرنا چاہتا ہو
آیت محاربہ میں ہے کہ :
أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ [المائدة: 33]
” (ان کی سزا یہ ہے کہ ) وہ قتل کر دیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے ۔“
اس آیت میں امام کو اختیار دیا گیا ہے اور امام کی غیر موجودگی میں اس کا کوئی قائم مقام یہ سزا دے سکتا ہے کیونکہ اس سے پھیر دینے والا کوئی قرینہ کتاب و سنت میں موجود نہیں ۔
آیت کے ظاہری مفہوم سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ حاکم وقت ان سزاؤں میں سے کوئی ایک سزا ہی اختیار کر سکتا ہے ۔
[الروضة الندية: 617/2 – 618]
محارب شہر میں لوٹنے والے کو کہتے ہیں یا شہر سے باہر لوٹنے والے کو اس میں اختلاف ہے:
(ابو حنیفہؒ ) شہروں میں لوٹنے والے محارب نہیں ہیں ۔
(مالکؒ ) ان سے دو روایتیں منقول ہیں:
➊ جب وہ شہر سے تین میل یا اس سے زیادہ فاصلے پر ہو تو محارب ہے اس سے کم فاصلے پر نہیں ۔
➋ شہر کے اندر اور شہر کے باہر کوئی فرق نہیں ۔
(شافعیؒ ، ابو یوسفؒ ) امام مالکؒ کے دوسرے قول کو ترجیح دیتے ہیں ۔
[نيل الأوطار: 614/4]
(راجح) قرآن مجید نے شہر یا غیر شہر کی کوئی قید نہیں لگائی ۔ لٰہذا محارب کے لیے شہر میں موجود ہونا یا شہر سے باہر ہونا برابر ہے ۔
[السيل الجرار: 370/4]
❀ جب محاربین ایک جماعت ہوں تو ان کی سزا میں اختلاف ہے:
(شافعیؒ ) ہر ایک کو اس کے جرم کے مطابق سزا دی جائے گی ۔
(ابو حنیفہؒ ) سب کو برابر سزا دی جائے گی ۔
[نيل الأوطار: 614/4]