یہ (محارب کی حد ) قرآن میں مذکور اقسام میں سے ایک ہو گی ۔ قتل یا پھانسی یا مخالف اطراف سے ہاتھ پاؤں کاٹنا یا جلا وطن کرنا
لغوی وضاحت: محارب کا معنی ہے لڑائی کرنے والا ۔ یہ باب حَارَبَ يُحَارِبُ (مفاعلة ) سے اسم فاعل ہے ۔
[المنجد: ص / 148 ، القاموس المحيط: ص / 69]
شرعی تعریف: جو لوگوں کو قتل ہونے یا مال چھن جانے کے ڈر سے گبھراہٹ میں ڈال کر رکھے وہ محارب ہے خواہ شہر میں ہو یا اس سے خارج ہو ۔
[السيل الجرار: 370/4]
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ [المائدة: 33]
”جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے ۔ یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے لیے بڑا بھاری عذاب ہے ۔“
➋ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
قدم على النبى صلى الله عليه وسلم نفر من عكل فأسلموا ………
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل کے کچھ لوگ آئے اور اسلام قبول کیا لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ صدقہ کے اونٹوں کے ریوڑ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ ملا کر پییں ۔ انہوں نے اس کے مطابق عمل کیا اور تندرست ہو گئے لیکن اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہنکالے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے اور انہیں پکڑ کے لایا گیا پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں (کیونکہ انہوں نے چرواہے کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا تھا ) اور ان کے زخموں پر داغ نہیں لگوایا گیا حتی کہ وہ مر گئے ۔“
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ :
هؤلاء قوم سرقوا وقتلوا وكفروا بعد إيمانهم وحاربوا الله ورسوله
”یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے چوری کی اور قتل کیا اور اپنے ایمان کے بعد کفر کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی ۔“
[بخاري: 6802 ، 6805 ، كتاب الحدود: باب قول الله تعالى إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ، مسلم: 1671 ، ابو داود: 4367 ، ترمذي: 1845 ، ابن ماجۃ: 2587]
آيت محاربه (يعني إنما جزاء الذين …. ) کی تفسیر کے متعلق اختلاف ہے کہ یہ کفار کے بارے میں نازل ہوئی یا عرنیین کے متعلق جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا دی تھی جیسا کہ گذشتہ حدیث میں مذکور ہے ۔
(ابن عباس رضی اللہ عنہما ) یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ۔
[حسن: صحيح ابو داود: 3275 ، كتاب الحدود: باب ما جآء فى المحاربة ، ابو داود: 4372 ، نسائي: 101/7 ، اس كي سند ميں على بن حسين بن واقد راوي ميں مقال هے ۔ نيل الأوطار: 610/4]
(ابن عمر رضی اللہ عنہما ) یہ آیت عرنیین (جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کیا تھا ) کے بارے میں نازل ہوئی ۔
[حسن صحيح: صحيح ابو داود: 3674 ، كتاب الحدود: باب ما جاء فى المحاربة ، ابو داود: 4369 ، نسائي: 100/7]
(بخاریؒ) انہوں نے ابو قلابہؒ کا قول نقل فرمایا ہے جو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی تائید میں ہے ۔
[بخاري: بعد الحديث / 6805]
(مالکؒ ، شافعیؒ ، ابو حنیفہؒ ) یہ آیت اُن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مسلمانوں سے نکل کر فتنہ و فساد اور رہزنی کرتے تھے ۔
[فتح البارى: 378/15]
(راجح) یہ آیت عرنیین کے متعلق ہی نازل ہوئی ۔
(جمہور ) اسی کے قائل ہیں ۔
[فقه السنة: 564/2]
لیکن یہ حدیث عرنیین کے ساتھ خاص نہیں کی جائے گی کیونکہ :
الاعتبار بعموم اللفظ لا بخصوص السبب
”اعتبار لفظ کے عموم کا ہوتا ہے خاص سبب کا نہیں ۔“
علاوہ ازیں جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی انہوں نے کلمہ اسلام بھی پڑھا تھا جیسا کہ صحیحین کی گذشتہ حدیث میں موجود ہے ۔ اور مجرد اس واقعہ سے انکا مرتد ہونا ثابت نہیں ہوتا اور اگر ہم یہ بات تسلیم کر لیں کہ وہ کافر یا مشرک ہو گئے تھے تو کتاب اللہ میں یہ حکم بالتفصیل موجود ہے کہ مشرکین کو جہاں پاؤ وہیں قتل کر دو ۔ مشرک کے لیے برابر ہے کہ وہ محاربہ کرے یا نہ کرے جب تک مشرک ہے ، اس کا خون حلال ہے ۔ آیت کو فقط مشرکین کے لیے خاص کر دینے میں فائدے کو معطل کر دینے اور حق کے مقتضیٰ کی مخالفت کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ صحابہ اور ان کے بعد والوں نے بھی یہ حد محاربین پر انتہا درجے تک قائم کی ہے ۔
[السيل الجرار: 369/4]
تحریر: عمران ایوب لاہوری