محارب کی توبہ اور حد کا سقوط

تحریر: عمران ایوب لاہوری

اگر وہ گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کر لے تو اس سے حد ساقط ہو جائے گی
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ‎ [المائدة: 34]
”جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پاؤ تو جان لو اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم والا ہے ۔“
یاد رہے کہ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ محارب سے محض توبہ کے بعد محاربے کی حد ساقط ہو گی ایسا نہیں ہے کہ باقی حدود بھی ساقط ہو جائیں گی خواہ وہ توبہ ہی کیوں نہ کر لے ۔
[السيل الجرار: 371/4]
(مالکؒ ) توبہ سے صرف محاربہ کی حد ساقط ہو گی باقی حقوق العباد کا اس سے مواخذہ کیا جائے گا ۔
(سید سابقؒ) توبہ سے حقوق اللہ معاف ہو جائیں گے لیکن حقوق العباد میں اس سے محاربہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ قصاص کی حیثیت سے مؤاخذہ کیا جائے گا مثلا اموال یا قتل کے جرائم میں معاملہ حاکم کی طرف نہیں بلکہ ان کی طرف ہو گا جن پر جرم کیا گیا ہے اگر وہ معاف کر دیں تو ٹھیک ورنہ انہیں قصاص دیا جائے گا ۔
[فقه السنة: 571/2]
(نواب صدیق حسن خانؒ ) اس کے مشابہ قول امام شافعیؒ کا ہے ۔
[الروضة الندية: 620/2]
امام ابن حزمؒ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی یہ کہے کہ کفر کے علاوہ کوئی نافرمانی محاربہ میں شامل نہیں تو اس کا جواب یہ آیت ہے ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا …….. ‎ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [البقرة: 278 – 279]
”اے ایمان والو! اللہ سے ڈر جاؤ اور جو باقی سود ہے اسے چھوڑ دو ………. اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ ۔ “
وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ [الحجرات: 9]
”اگر مومنوں کی دو جماعتیں آپس میں جھگڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ اور اگر ان میں سے ایک دوسری پر بغاوت کرے تو باغی گروہ سے لڑائی کرو حتی کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئیں ۔“
➌ حدیث نبوی ہے کہ :
تقتل عمارا الفئة الباغية
”حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو باغی جماعت قتل کرے گی ۔“
[احمد: 22/3 ، مجمع الزوائد: 241/7 ، تلخيص الحبير: 43/4]
لٰہذا ثابت ہوا کہ ہر نافرمان محارب نہیں اور نہ ہی ہر محارب کافر ہے ۔
[المحلى بالآثار: 277/12]
❀ اگر محارب کافر ہو تو اس پر بھی وہی حد لگائی جائے گی جو مسلمان محارب کی ہے لیکن جب وہ کفر پر رہتے ہوئے محاربے سے توبہ کرے تو آیت کے عموم کی وجہ سے اس کی توبہ قبول کی جائے گی ۔ البتہ جب وہ مسلمان ہو جائے تو گذشتہ تمام گناہ اسلام مٹا دے گا ۔
[السيل الجرار: 371/4]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے