مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مجلس شوری کی شرعی حیثیت اور خلیفہ کا اختیار

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 515

سوال

مجلس شوری کے متعلق بحث کریں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن کریم میں ارشاد ہے:

﴿وَأَمْرُ‌هُمْ شُورَ‌ىٰ بَيْنَهُمْ﴾ (الشورى:٣٨)
‘‘وہ اپنے کام باہم مشورے (سے چلاتے) ہیں۔’’

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ خلیفہ کو دینی اور دنیاوی امور میں مشورہ لینا ضروری ہے۔ تاہم یہ لازم نہیں کہ وہ مشورے پر بعینہ عمل کرنے کا پابند ہو۔ خلیفہ کو اختیار ہے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کرے، لیکن اس کے لیے چند شرائط ہیں:

◈ خلیفہ دین دار اور شریعت کا پابند ہو۔
◈ وہ خواہشاتِ نفسانی کا پیروکار نہ ہو۔
◈ مجلس شوری کو دلائل کے ساتھ اپنی رائے پر قائل کر سکے۔
◈ محض جبر و قبضہ کے ذریعے حکومت پر قابض ہو کر شریعت سے انحراف کرنے والا نہ ہو۔

قرآن مجید میں مزید ارشاد ہے:

﴿وَشَاوِرْ‌هُمْ فِى ٱلْأَمْرِ‌ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَوَكِّلِينَ﴾ (آل عمران:١٥٩)
‘‘یعنی ان سے مشورہ ضرور لے تاکہ ہر بات ہر پہلو سے واضح ہوجائے، پھر تیرا خیال اور عزم جس بات پر محکم ہوجائے تو اس پر اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل کر۔’’

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔