سوال :
مجلس سماع میں رقص کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب:
ایسی مجالس کرنے والے بد عقیدہ ، باطنی صوفی اور فاسق وفاجر ہوتے ہیں۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيل اللهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾
(لقمان : 6)
”بعض لوگ آلات موسیقی کے شوقین ہیں، تا کہ بغیر علم کے اللہ کے راستے سے بھٹکا ئیں اور اس کی آیات سے ٹھٹھا اور مذاق کریں، ان کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔“
❀ فقہ حنفی کی معتبر ترین کتاب میں ہے:
”سماع ، قوالی اور رقص، جو ہمارے زمانے کےصوفیا کرتے ہیں ،حرام ہیں ،ان مجلسوں اور محفلوں میں جانا اور ان میں بیٹھنا جائز نہیں۔ قوالی، گانا اور موسیقی کاحکم ایک ہے ۔“
(فتاوی عالمگیری: 352/5 ،فتاوی شامی : 349/6)
❀ علامہ عینی حنفی (855ھ) لکھتے ہیں:
”قوال اور ناچنے والے کی گواہی قبول نہیں ۔“
(البناية شرح الهداية : 89/12)