مجتہد اور مقلد کا بنیادی فرق

تحریر: عمران ایوب لاہوری

مجتہد اور مقلد میں فرق
مجتہد کی تعریف یہ ہے:
من قامت فيه ملكة الاجتهاد أى القدرة على استنباط الأحكام الشرعية العمليه من أدلتها التفصيلية
”مجتہد وہ ہے جس میں اجتہاد کا ملکہ موجود ہو یعنی اس میں تفصیلی مآخذ سے شریعت کے عملی احکام مستنبط کرنے کی پوری قدرت موجود ہو ۔“
[الوجيز: ص / 401 ، الموافقات للشاطبي: 57/4 ، المستصفى للغزالي: 103/2]
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مجتہد وہ ہے جس کے پاس پانچ قسم کے علوم ہوں:
➊ کتاب اللہ کا علم
➋ سنتِ رسول اللہ کا علم
➌ علمائے سلف کے اقوال اور اجماع و اختلاف کا علم
➍ علم لغت
➎ علم قیاس
[إرشاد النقاد إلى تيسير الاجتهاد للأمير صنعاني ، سبل السلام: 1911/4]
اور مقلد وہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے کی بات پر بغیر دلیل کے عمل کر لیتا ہے اور بعض علما نے کہا ہے کہ کسی کی بات بلا دلیل قبول کر لینا تقلید ہے اور ایسا کرنے والا مقلد ہے ۔
[مزيد تفصيل كے ليے ديكهيے: إرشاد الفحول: ص / 378 ، الإحكام للآمدي: 192/4]
قاضی کے مجتہد نہ ہونے کی ایک دلیل اور اس کا رد
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجنا چاہا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!
بعثتني بينهم وأنا شاب لا أدرى ما القضاء
”آپ مجھے ان کے درمیان (قاضی بنا کر) بھیج رہے ہیں حالانکہ میں ایسا جوان ہوں جسے ابھی قضاء کا (صحیح طور پر) علم نہیں ۔“
مزید فرماتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا اور دعا کی :
اللهم اهده و ثبت لسانه
”اے اللہ ! اسے ہدایت دے اور اس کی زبان کو ثابت کر دے ۔“
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
فوالذي فلق الحبة ما شككت فى قضاء بين اثنين
”اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا ہے (اس کے بعد ) میں نے کبھی بھی کسی دو افراد میں فیصلہ کرتے وقت شک نہیں کیا ۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 1869 ، كتاب الأحكام: باب ذكر القضاة ، إرواء الغليل: 2500 ، ابن ماجة: 2310 ، ابو داود: 3582 ، ترمذي: 1331 ، طبقات ابن سعد: 337/2 ، حاكم: 135/3 ، احمد: 84/1 ، بيهقى: 86/10 ، أخبار القضاة للوكيع: 84/1 ، طيالسي: 98]
اس حدیث میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا:
أنا شاب لا أدرى ما القضاء
”میں ایسا نوجوان ہوں کہ ابھی مجھے قضا کا صحیح علم نہیں ۔“
اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں قاضی مقرر فرما دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ قاضی کا مجتہد ہونا ضروری نہیں ۔
اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ:
➊ اس حدیث میں یہ کہیں موجود نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مجتہد نہیں تھے ۔
➋ اگر کچھ علمی کمزوری تھی بھی تو وہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے ذریعے رفع کر دی ۔
➌ دنیا کا کوئی قاضی علم نہ ہونا تو در کنار علم ہونے پر بھی ایسا دعوی نہیں کر سکتا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا ہے (کہ مجھے کبھی اس کے بعد فیصلہ کرتے وقت شک نہ ہوا ) اس کے باوجود یہ سمجھنا کہ وہ مجتہد نہیں تھے خلافِ عقل ہے ۔
(شوکانیؒ ) فرماتے ہیں کہ مقلد کو قاضی بنانا ایسے ہی ہے جیسے کسی کو طاغوت کے ساتھ فیصلہ کرنے کی اجازت دے دی جائے ۔ کیونکہ مقلد حق کو پہچانتا نہیں اور حق کے سوا جو کچھ بھی ہے سب طاغوت ہے ۔
[السيل الجرار: 275/4]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾