مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مثل نوره کمشکاة کی تفسیر اور مفہوم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ
(النور: 35)
رب کے نور کی مثال طاق کی طرح ہے، جس میں چراغ رکھا ہو۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کی مثال طاق میں رکھے چراغ سے دی ہے، جبکہ دوسری آیت میں اپنی صفات کی تشبیہ اور مثلیت کی نفی کی ہے۔
❀ فرمان الہی ہے:
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ
(الشورى: 11)
اللہ تعالیٰ جیسی کوئی شے نہیں۔

جواب:

ان آیات میں تعارض نہیں۔ اللہ جیسی کوئی چیز نہیں۔ دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے نور کی تشبیہ بیان ہوئی ہے۔ اللہ کا نور دو طرح سے ہے:
1. اللہ کی مخلوق
2. اللہ کی صفت
جو نور اللہ کی صفت ہے، اس کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی کیونکہ اللہ کی کوئی مثال ہے ہی نہیں، لہذا آیت میں وہ نور مراد لینا غلط ہے۔
اللہ کی مخلوق وہ نور ہے، جو اللہ اپنے مومن بندے کے دل میں اپنی معرفت و محبت اور ایمان و ذکر کے سبب ودیعت فرما دیتے ہیں۔ یہاں اسی مخلوق نور کی مثل بیان کی جا رہی ہے، اس کی تشبیہ چراغ سے دی گئی ہے، وجہ شبہ روشنی ہے، ایمان کی ہو یا چراغ کی ہو۔ الہذا ان دونوں میں روشنی موجود ہے اور مثل بھی اسی روشنی کی ہے۔ گو کہ ایک میں روشنی زیادہ دوسرے میں کم ہے، ایک کے اوصاف میں اور دوسرے کے اوصاف میں فرق ہے۔ یہاں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اللہ نے جو نور مومنوں کے دلوں میں پیدا کر دیا ہے، وہ نور ایمانی ہے اور نور ایمانی چراغ کی نسبت اقویٰ ہوتا ہے۔ تشبیہ میں قاعدہ یہ ہے کہ مشبہ بہ مشبہ کی نسبت اقویٰ ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کبھی کبھی مشبہ بہ مشبہ کی نسبت مشہور ہوتا ہے، اس وجہ سے جو مشہور ہو، اسے مشبہ بہ بنا دیا جاتا ہے، اگرچہ وہ اس کی نسبت قوی نہ بھی ہو، کیونکہ سارے لوگ اس کو جانتے ہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔