متعدی مرض والے کا مسجد میں داخلہ – شرعی حکم

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

جس کو متعدی مرض لاحق ہو، کیا اس پر مسجد داخل ہونے کی پابندی لگائی جا سکتی ہے؟

جواب :

اگر کسی کو متعدی اور مہلک مرض لاحق ہو، تو اہل محلہ اسے پابند کر سکتے ہیں کہ وہ نماز کی جماعت میں شامل نہ ہو، مفاد عامہ کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔
❀ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أكل من هذه الشجرة، يريد التوم، فلا يغشانا فى مساجدنا.
”جس نے تھوم (لہسن ) کے پودے میں کچھ بھی کھایا، وہ (نماز پڑھنے کے لیے ) ہماری مسجد میں نہ آئے ۔“
(صحيح البخاري : 854، صحیح مسلم : 564)
❀ صحیح مسلم کے الفاظ ہیں:
من أكل البصل والتوم والكراث فلا يقربن مسجدنا، فإن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه بنو آدم.
”جس نے پیاز لہسن یا گیند نا ( بد بودار سبزی) کھایا ، وہ ہماری مسجد کے قریب نہ پھٹکے، کیونکہ جس چیز سے انسان اذیت محسوس کرتے ہیں، اس سے فرشتے بھی اذیت محسوس کرتے ہیں ۔“
❀ علامہ ابن العربی رحمہ اللہ (543ھ) فرماتے ہیں:
فيه دليل على أن كل ما يتأذى به كالمجذوم وشبهه يبعد عن المسجد وحلق الذكر.
”یہ حدیث دلیل ہے کہ جو شخص دوسرے کے لیے اذیت کا باعث ہو، مثلا مجزوم وغیرہ ، تو اسے مسجد اور ذکر کی مجالس سے دور رکھا جائے گا۔“
(المسالك في شرح موطأ مالك : 479/1)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️