متعارض دعووں میں قرعہ اندازی: شرعی فیصلہ

تحریر: عمران ایوب لاہوری

جب دو دلائل باہم متعارض ہو جائیں اور کوئی وجہ ترجیح بھی نہ ہو تو مدعی (وہ چیز جس کا دعوی کیا گیا ہے ) کو تقسیم کر دیا جائے گا
عہد نبوی میں دو آدمیوں نے ایک اونٹ کا دعوی کیا ۔ پھر اس پر دونوں نے دو دو گواہ بھی پیش کر دیے تو:
فقسمه النبى صلى الله عليه وسلم بينهما نصفين
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا ۔“
[ضعيف: إرواء الغليل: 266 ، ابو داود: 3615 ، كتاب القضاء باب الرجلين بدعيان شيئا وليس لهما بينة ، حاكم: 95/4 ، بيهقي: 254/10]
ایک اور روایت میں ہے کہ دونوں آدمیوں کے پاس نہ تو کوئی ثبوت تھا اور نہ کوئی گواہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلوبہ چیز کو دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا ۔
[ضعيف: إرواء الغليل: 2656 ، ابو داود: 3613 ، نسائي: 248/8 ، ابن ماجة: 2330 ، احمد: 402/4]
درج بالا دونوں روایات ضعیف ہیں ۔ اس لیے یہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا البتہ وہ حدیث صحیح ہے جس میں قرعہ اندازی کا ذکر ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
أن النبى صلى الله عليه وسلم عرض على قوم اليمين فأسرعوا فأمر أن يسهم بينهم فى اليمين أيهم يحلف
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم پر قسم پیش کی تو وہ فوراََ قسم کھانے پر تیار ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان لوگوں میں قرعہ اندازی کی جائے کہ ان میں سے کون قسم اٹھائے گا ۔“
[بخاري: 2674 ، كتاب الشهادات: باب إذا تسارع قوم فى اليمين]
اس کی صورت یہ ہے کہ جب فریقین مدعی ہوں اور جس چیز کا دونوں دعوی کر رہے ہوں وہ دونوں کے پاس موجود نہ ہو اور نہ ہی اس کا دونوں کے پاس کوئی ثبوت ہو تو ان کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے گی پھر جس کے نام قرعہ نکلے گا وہ قسم کھا کر اس چیز کا مستحق قرار پائے گا ۔
[مزيد تفصيل كے ليے ملاحظه هو: فتح الباري: 145/7 ، سبل السلام: 1941/4 ، نيل الأوطار: 396/5 ، قفو الأثر: 1762/5 – 1763]
اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں مذکور ہے کہ دو آدمی کسی چیز میں جھگڑ پڑے اور کسی کے پاس گواہ بھی نہیں تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ قسم کے لیے قرعہ اندازی کر لیں ۔ (یعنی جس کے نام قرعہ نکلے گا وہ قسم اٹھا کر وہ چیز لے لے ) ۔
[صحيح: صحيح ابو داود: 3078 ، كتاب القضاء: باب الرجلين يدعيان شيئا وليس بينهما بينة ، ابو داود: 3616 ، ابن ماجة: 2346 ، نسائي: 6001]
ثابت ہوا کہ دلائل میں تعارض کی صورت میں دونوں کے پاس شواہد ہوں یا نہ ہوں قسم کے لیے قرعہ اندازی سے ہی فیصلہ کرنا زیادہ صحیح ہے ۔
(ابو حنیفہؒ ) دونوں کے پاس دلائل ہوں یا نہ ہوں فیصلہ یوں کیا جائے گا کہ جس چیز کا دعوی کیا گیا ہے اسے دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا جائے گا ۔ خواہ وہ چیز ان کے پاس موجود ہو یا نہ ہو ۔
[المحلى بالآثار: 539/8]
(راجح ) پہلا مؤقف راجح و برحق ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے ۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾