متروک مسجد کا سامان اور زمین کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس الشیخ محمد منیر قمر کی کتاب احکام مساجد سے ماخوذ ہے۔

متروک مسجد کا سامان اور زمین

آداب و احکام مسجد کے سلسلے میں ضروری باتیں ہم نے ذکر کر دی ہیں۔ اس موضوع کی ایک آخری بات جو ہم ذکر کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ اگر کسی گاؤں یا آبادی میں کوئی مسجد ہو اور وہ گاؤں یا آبادی مرور زمانہ کے بعد کسی بھی سبب سے اجڑ جائے، وہاں کوئی انسان آباد نہ رہے اور نہ ہی کوئی نماز پڑھنے والا قریب قریب موجود ہو تو اس مسجد کا کیا کرنا چاہیے؟
اور اگر کوئی مسجد کسی وجہ سے متروک و معطل ہو جائے یعنی قریب ہی نئی مسجد تعمیر ہو جانے کی وجہ سے اس مسجد کو نماز سے بند کر دیا گیا ہو تو اس مسجد کو کیا کرنا چاہیے؟ ان دونوں صورتوں میں مسجدوں کا کیا حکم ہے؟
اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ یہ مسجد چونکہ اللہ کے نام پر وقف زمین پر ہوتی ہے۔ لہذا وہ گاؤں یا آبادی رہے یا نہ رہے وہ زمین وقف ہی رہے گی۔ وہ وقف کرنے والے کی ملکیت میں نہیں آئے گی۔ اس پر تمام آئمہ و فقہاء کا اتفاق ہے سوائے امام محمد بن حسن شیبانی رحمة اللہ علیہ کے۔ وہ جگہ وقف کی صورت میں ہی پڑی رہے گی اور ساتھ والی دوسری نئی مسجد کی تعمیر و ترقی میں اس جگہ کی آمدنی کو صرف کیا جائے گا۔ جس طرح عام وقف اشیاء کا حکم ہوتا ہے اسی طرح یہ زمین بھی ہو گی۔
(فتاویٰ ثنائیہ 1/328، بحوالہ فتاویٰ علمائے حدیث 2/50)
اب رہی دوسری صورت کہ مسجد تو باقی ہے لیکن آبادی نہیں رہی۔ لوگ کسی وجہ سے نقل مکانی کر گئے ہیں اور وہاں نماز کوئی نہیں پڑھتا تو ظاہر ہے کہ وہ مسجد متروک ہو جائے گی۔ اگر اسے اسی حالت میں رہنے دیا جائے تو وہ چور خانہ بن جائے گی یا پھر لوگ اس کا سامان نکال کر لے جائیں گے۔ ان خدشات کے پیش نظر اس مسجد کو قرآن و حدیث کی تعلیم کا مدرسہ بنایا جائے۔
(فتاویٰ علمائے حدیث 2/50)
یا پھر اسے توڑ کر اس کا جملہ سامان لکڑی، لوہا، قالین، دریاں اور پنکھے وغیرہ محفوظ کر لیے جائیں یا ان اشیاء کو بیچ کر ان کی قیمت محفوظ کر لیں اور وہ کسی دوسری مسجد پر صرف کر دیں۔
(الاعتصام جلد 2، فتاویٰ علمائے حدیث 2/64-65)
اگر اسی سامان کو کسی دوسری مسجد کے بنانے میں لگا لیا جائے تو بھی فقہاء شافعیہ میں سے متولی، ابن الصباغ اور قاضی کے بقول یہ جائز ہے۔ متولی کے بقول اولیٰ یہ ہے کہ وہ اشیاء کسی قریب تر جگہ کی مسجد میں لگائی جائیں لیکن اگر کسی دور کی مسجد میں بھی صرف کر دیں تو بھی جائز ہے۔ البتہ یہ ہرگز جائز نہیں کہ کسی ایسی مسجد کی اشیاء لکڑی، لوہا وغیرہ کو سراؤں، پلوں یا کنوؤں پر لگایا جائے۔
بلکہ ایک مسجد کا سامان کسی مسجد میں ہی لگایا جائے گا۔ ایسے ہی مسجد کے قالین، دریاں، قندیلیں (یا بلب اور ٹیوب لائٹس، پنکھے اور ایئر کنڈیشنرز) وغیرہ بھی کسی دوسری مسجد میں لگا دیے جائیں۔
کتاب الکافی میں خوارزمی رحمة اللہ علیہ نے کہا ہے کہ ہمارے فقہاء متروک مسجد کی اشیاء کو کہیں منتقل کرنا روا قرار نہیں دیتے لیکن پھر انہوں نے اپنی رائے ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے نزدیک زیادہ مفید بات یہ ہے کہ ان اشیاء کو کسی دوسری مسجد میں منتقل کر دینا چاہیے۔ امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کا بھی یہی مسلک نقل کیا گیا ہے۔
اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اگر کسی کمپنی کی رہائشی کالونی میں عارضی طور پر کوئی مسجد بنائی گئی ہو اور وہ ایک عرصہ تک رہے اور اس کی ضروریات کے لیے کچھ لوگ مل کر ایک فنڈ بنائیں جس سے اس مسجد کی ضروریات پوری کی جاتی رہیں ۔اور پھر کسی کو منتقل ہو جائے گا۔ زمین پہلے ہی وقف نہیں، بلکہ وہاں مسجد موقت تھی۔ اور اس کے لیے جو فنڈ بنایا گیا تھا اس میں جتنا پیسہ باقی ہوا اسے کسی دوسری مسجد پر صرف کر دیا جائے گا جو قریب ہو یا پھر انتظامیہ کمیٹی جہاں چاہے۔