متاول کی حیثیت: تاویل اور ارتداد کا فرق

تحریر: عمران ایوب لاہوری

متاول مرتد نہیں ہے
امام شوکانیؒ فرماتے ہیں کہ متاول (تاویل کرنے والا ) مرتد نہیں ہے ۔
[السيل الجرار: 584/4 – 585]
➊ مثلاً جب یہ آیت نازل ہوئی
الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ [الانعام: 82]
”وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم کی ملاوٹ نہ کی ۔“
تو صحابہ نے اس کی یہ تاویل کی کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو (اس لیے ہماری نجات تو مشکل ہے ) لیکن پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جیسے تم سمجھ رہے ہو ویسا معاملہ نہیں ہے بلکہ ظلم سے مراد تو وہ ہے جو لقمان نے اپنے بیٹے کے لیے کہا تھا:
يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [لقمان: 13]
”اے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے ۔“
[بخاري: 6937 ، كتاب استتابة المرتدين: باب ما جآء فى المتأولين]
اسی طرح اگر آج کوئی قرآن میں مذکور يَدُ اللهِ ”اللہ کا ہاتھ ۔“ میں ہاتھ کی تاویل کرتے ہوئے کہے کہ اس سے مراد قدرت الٰہی ہے تو ہم اسے کافر یا مرتد نہیں کہیں گے ۔ اگرچہ اس کی تاویل باطل ہے لیکن وہ عقیدۃ اسے صحیح سمجھ رہا ہے ۔ البتہ اگر کوئی یہ جاننے کے باوجود کہ میری تاویل باطل ہے پھر بھی اس کا اعتقاد رکھے یا اس کی تبلیغ کرے تو پھر وہ کافر و مرتد کہلانے کا مستحق ہے ۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے